پریس ریلیز
افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپیں
امریکہ اور بھارت کی علاقائی پالیسیوں کے مفاد میں ہیں
(ترجمہ)
ہفتہ کی رات افغانستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان سرحدی لڑائی ہوئی، جس میں دونوں نے لائن ڈورنڈ کے ساتھ ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی؛ جس کے نتیجے میں دونوں مسلمان فریقوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس سے دو راتیں قبل پاکستانی فوج نے کابل اور پکتیکا شہروں میں مخصوص مقامات پر بمباری کی جس سے جانی نقصان ہوا۔
حزب التحریر ولایہ افغانستان کے میڈیا آفس نے ان دو مسلم ممالک کے درمیان جاری جنگ کی مذمت کی ہے، اور اسے امریکی اور ہندوستانی علاقائی پالیسیوں کے لیے ایک خدمت اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ یہ تنازعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مصنوعی سرحدوں اور غیراسلامی پالیسیوں نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا ہے، جب کہ امت کے حقیقی دشمن مکمل حفاظت کے ساتھ صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پاکستانی فوج - جو خود کو اسلامی ممالک کی مضبوط ترین فوج شمار کرتی ہے - اپنی طاقت اور ہتھیاروں کو اسلام کے دشمنوں کے خلاف نہیں بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے! یہ وہی فوج ہے جس نے بے شرمی سے کشمیر کو ہندوستان کے حوالے کر دیا، مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کی اسلام مخالف پالیسیوں اور اس کے جابرانہ اقدامات پر خاموشی اختیار کی، اب وہ انتہائی جرات کے ساتھ افغانستان کے شہروں اور دیہاتوں اور قبائلی علاقوں پر حملہ کر رہی ہے، اس حد تک کہ اگر یہ جرات اور عزم ہندوستان اور یہودی ریاست کے خلاف دکھایا جاتا تو کشمیر ذلت کا شکار نہ ہوتا، اور نہ ہی غزہ کو دو سال تک اجتماعی قتل عام برداشت کرنا پڑتا، اور نہ ہی آج غزہ کے لوگوں پر دباؤ اور مسلمانوں حکمرانوں کی غداری کے تحت ایک شرمناک امن معاہدہ مسلط کیا جاتا، جن میں پاکستان کے حکمران بھی شامل ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف دشمنی کا یہ انداز اور کفر کے سامنے خاموشی پاکستانی فوج کے اندر موجود کرائے کے فوجیوں کے ایک مخصوص حلقے کا کام ہے، اور یہ جرات پاکستانی قیادت اور ان کے آقا ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان عارضی قربت کا نتیجہ ہے۔ اس قربت نے پاکستانی فوج کو افغانستان میں حملے کرنے کا وہم اور جرات دی ہے، اور امریکہ نے اس کے لیے ایک کردار متعین کیا ہے جس کے تحت قبائلی علاقوں میں اور لائن ڈورنڈ کے ساتھ مسلمانوں کو افغان مجاہدین کے ساتھ مصروف رکھا جائے۔
جیسا کہ حال ہی میں ہوا، اور ہندوستان کو عارضی سزا کے طور پر، امریکہ ایک بار پھر یہ ظاہر کر رہا ہے کہ پاکستان ایک اہم شراکت دار ہے۔ پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت امریکی عہدیداروں کے ساتھ سفر، تصویریں کھینچنے اور ان کی خوشامد میں مصروف ہے۔ تاہم، جب ہوائیں بدلتی ہیں، تو پاکستان کو ایک بار پھر فراموشی کے کونے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک بار اعتراف کیا تھا: "ہم تقریباً تین دہائیوں سے امریکہ کے لیے یہ گندا کام کر رہے ہیں... اور مغرب، بشمول برطانیہ۔ یہ ایک غلطی تھی اور ہم نے اس کی وجہ سے نقصان اٹھایا ہے۔"
یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی دہائیوں کی پالیسی نے امریکی مفادات کی خدمت کی ہے اور خطے کے مسلمانوں پر بھاری قیمت عائد کی ہے۔ حالیہ واقعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ہے، اور وہ خطے میں اپنا کردار دوبارہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی چاپلوسی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو صرف اس وقت یاد کرتا ہے جب وہ افغانستان، ہندوستان یا چین کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں کسی تعطل کا شکار ہوتا ہے۔ تب، پاکستان اچانک ایک "اسٹریٹجک پارٹنر" بن جاتا ہے اور اس کا عارضی کردار فعال ہو جاتا ہے! لیکن جونہی مشن مکمل ہوتا ہے اور خطے میں امریکی پالیسی اپنے معمول کے راستے پر واپس آتی ہے، پاکستان کو دوبارہ حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ وہ تمام وعدے اور سفارتی مسکراہٹیں - جیسا کہ بائیڈن کے دور میں واضح تھا - محض عارضی نقاب ہیں۔
افغان مجاہدین اور پاکستانی فوج میں موجود مخلصین کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے اور آپس میں لڑنے کے بجائے، بڑے منظر کو دیکھیں۔ اس وقت، دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدیں - خاص طور پر جنوبی ایشیا میں - افغان مجاہدین کی عسکری صلاحیت اور پاکستانی فوج میں موجود ان مخلص افسران پر ٹکی ہوئی ہیں جو اسلام اور جنت کے وعدے کو دنیاوی عہدے اور مرتبے سے بالاتر رکھتے ہیں۔ ان قوتوں میں بڑی تبدیلی لانے کی صلاحیت موجود ہے: مصنوعی نوآبادیاتی سرحدوں کو ختم کر کے اور خلافت راشدہ قائم کر کے، وہ پورے خطے میں امت کی صلاحیتوں کو متحد کر سکتے ہیں اور عالمی سطح پر ایک آزاد سیاسی اور عسکری قطب کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ درحقیقت، خلافت خطے میں امریکہ، ہندوستان اور چین کے نوآبادیاتی منصوبوں کو ناکام بنا دے گی، اور مقبوضہ اسلامی ممالک جیسے کشمیر، ترکستان شرقی اور فلسطین کو آزاد کرانے کے لیے فوج کو متحرک کرے گی۔
﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
دفترِاعلاماتِ حزب التحریر
ولایہ افغانستان