نیوز راؤنڈ اپ 14/07/2025
سرخی:
- · غزہ میں قحط میں اضافے کے حوالے سے اقوام متحدہ کا انتباہ
- · احمد الشرع کا آذربائیجان میں کیان یہود کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں شرکت
- · عباس: غزہ میں امن کے لیے قابض کا انخلا شرط ہے اور حماس سیکٹر پر حکومت نہیں کرے گی۔
تفصیلات:
غزہ میں قحط میں اضافے کے حوالے سے اقوام متحدہ کا انتباہ
غزہ میں جاری نسل کشی کے نتیجے میں تقریباً 195,000 افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر بچے اور خواتین ہیں، اور 10,000 سے زائد لاپتہ ہیں، اس کے علاوہ لاکھوں بے گھر افراد اور قحط نے بہت سی جانیں لے لی ہیں، جن میں درجنوں بچے بھی شامل ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے لے کر آج تک، یہود بدترین قتل عام اور نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں جو غدار مسلمان حکمرانوں کے دیکھتے اور سنتے ہو رہے ہیں۔ فلسطین کے سرحدی علاقوں اور اس کے پڑوس میں بڑی فوجیں رکھنے والی ریاستیں اب بھی مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اور یہ شرمناک خاموشی ہی کیان یہود کو جرأت دے رہی ہے اور اسے اپنی گمراہی پر گامزن کر رہی ہے۔ ان حکمرانوں کا کردار صرف ایک تماشائی کا ہے جو شہداء کو گنتا ہے، جب کہ ان کی فوجیں جن پر انہوں نے لاکھوں خرچ کیے ہیں، وہ صرف کافر قابض کی خدمت میں ایک فرمانبردار آلہ کار ہیں! اگر یہ فوجیں حرکت میں آتیں تو یہود کو ایک گھنٹے میں پیس کر رکھ دیتیں، اور مبارک سرزمین کو آزاد کراتیں اور اسے امت اسلامیہ کی آغوش میں واپس لے آتیں۔
----------
احمد الشرع کا آذربائیجان میں کیان یہود کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں شرکت
عبرانی ویب سائٹ "i24NEWS" نے انکشاف کیا ہے کہ شامی صدر احمد الشرع اتوار کے روز آذربائیجان میں کیان یہود کے عہدیداروں کے ساتھ کم از کم ایک اجلاس میں شرکت کریں گے، حالانکہ دمشق کے ذرائع نے اس کی تردید کی ہے۔ ویب سائٹ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ متوقع اجلاس دونوں فریقین کے درمیان دو یا تین اجلاسوں کے سلسلے کا حصہ ہے، جس میں شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور کیان یہود کے ساتھ سیکورٹی اجلاسوں میں شامی حکومت کے کوآرڈینیٹر احمد الدلاتی بھی شرکت کریں گے۔ یہودی وفد میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے ایک خصوصی ایلچی کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اور فوجی شخصیات بھی شامل ہیں۔ ویب سائٹ نے کہا کہ ان اجلاسوں کا مقصد کیان یہود اور شام کے درمیان طے پانے والے مجوزہ سیکورٹی معاہدے، شام اور لبنان میں ایرانی خطرے، ایرانی حزب اللہ کے ہتھیاروں، فلسطینی دھڑوں کے ہتھیاروں، لبنان میں فلسطینی کیمپوں اور خطے میں غزہ سے فلسطینی مہاجرین کے مستقبل کے بارے میں مزید تفصیلات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
اس حال پر افسوس ہے جہاں ایک شخص جہاد کا دعویٰ کرتا ہے، اس کے بجائے کیان یہود کے خلاف اقتدار میں آنے کے پہلے لمحے سے جہاد کا اعلان کرنے کے جو اس کی اور فلسطین کی مبارک سرزمین پر قابض ہے، وہ اس غاصب کیان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر اس نے بشار کے فوراً بعد کیان یہود کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہوتا اور فتح کی چمک مدھم ہونے سے پہلے، تو اسے تمام مسلمانوں کی حمایت حاصل ہوتی اور وہ گروہ در گروہ اس کے ساتھ جہاد میں شامل ہو جاتے۔
-----------
عباس: غزہ میں امن کے لیے قابض کا انخلا شرط ہے اور حماس سیکٹر پر حکومت نہیں کرے گی۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ غزہ میں واحد قابل عمل حل قابض کا مکمل انخلا اور فلسطینی ریاست کو عرب اور بین الاقوامی فعال حمایت کے ساتھ سیکٹر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنانا ہے۔ سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) کے مطابق، عباس نے عمان میں اپنی رہائش گاہ پر برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کے دوران کہا کہ حماس سیکٹر پر حکومت نہیں کرے گی۔ ملاقات کے دوران، انہوں نے بلیئر کے ساتھ "فلسطینی سرزمین میں تازہ ترین پیش رفت اور جاری سیاسی اور انسانی صورتحال" پر تبادلہ خیال کیا، جب کہ انہوں نے "فوری جنگ بندی تک پہنچنے، تمام (اسرائیلی) قیدیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی پٹی میں فوری انسانی امداد کی بغیر کسی رکاوٹ کے ترسیل کو یقینی بنانے" کی ضرورت پر زور دیا۔
عباس جیسا غدار زمینوں کو آزاد کرانے کی پرواہ نہیں کرتا، بلکہ زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر کمزور ریاست پر اکتفا کرتا ہے۔ لہذا اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فلسطین کی اکثریت مقبوضہ ہے۔ وہ اور اس جیسے لوگ فلسطین کو آزاد کرانے کی پرواہ نہیں کرتے، بلکہ ان کی پرواہ قبضے کو جائز قرار دینا اور اسے قوم پر مسلط کرنا ہے۔ کیا تنظیم آزادی فلسطین کے قیام کا یہی مقصد نہیں ہے؟ تنظیم ایک ایسا آلہ کار ہے جسے مغربی نوآبادیات کی نگرانی میں فلسطین کے مسئلے کو قوم کا مسئلہ ہونے سے نکال کر ایک مقامی فلسطینی مسئلہ بنانے اور فلسطین پر قبضے کو جائز قرار دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔

