Organization Logo

بنغلادش مكتب

ولاية بنغلادش

Tel: 8801798367640

Fax: Skype: htmedia.bd

contact@ht-bangladesh.info

۵؍ اگست ۲۰۲۴ء حسینہ اور جابرانہ حکومت کے خلاف عوام کی بغاوت کا دن ہے اور "اعلانِ جولائی" ایک غداری کی دستاویز ہے جسے امریکہ نواز سیاسی جماعتوں نے عوام کی بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے جاری کیا ہے۔
Press Release

۵؍ اگست ۲۰۲۴ء حسینہ اور جابرانہ حکومت کے خلاف عوام کی بغاوت کا دن ہے اور "اعلانِ جولائی" ایک غداری کی دستاویز ہے جسے امریکہ نواز سیاسی جماعتوں نے عوام کی بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے جاری کیا ہے۔

August 08, 2025
Location

پریس ریلیز

۵؍ اگست ۲۰۲۴ء حسینہ اور جابرانہ حکومت کے خلاف عوام کی بغاوت کا دن ہے

اور "اعلانِ جولائی" ایک غداری کی دستاویز ہے جسے امریکہ نواز سیاسی جماعتوں نے عوام کی بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے جاری کیا ہے۔

۵؍ اگست ۲۰۲۴ء کو عوامی بغاوت میں حسینہ کے گرنے کو پورا ایک سال گزر چکا ہے، جس میں اس کی نمائندگی کرنے والا جابرانہ ظالمانہ نظام گر گیا۔ لیکن لوگوں نے اپنی مایوسی کی انتہا پر یہ پایا کہ امریکہ کے ایجنٹوں اور اقتدار کے حریص سیاسی جماعتوں نے ان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لیے باگ ڈور سنبھال لی ہے، چنانچہ انہوں نے ان کی امیدوں اور امنگوں کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور وہ اب بھی اس بغاوت کو اغوا کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ نام نہاد "اعلانِ جولائی" اس شیطانی راستے پر ایک شرمناک قدم تھا۔

لوگوں نے امریکہ کی غلامی اور گمراہ کن سیاسی سرکس کو مکمل نفرت کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ یہ "اعلان" عوام کی امنگوں کی مطلقاً عکاسی نہیں کرتا، بلکہ بیلخانہ میں ہندوستانی سازش یا شاپلا چوک میں اسلام سے محبت کرنے والے مسلمانوں کے قتل عام جیسے سنگین واقعات کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ وہ ۱۹۷۱ء، ۱۹۷۵ء اور ۱۹۹۰ء کے سالوں کو بطور حوالہ پیش کرتے ہیں، جن میں حکمران طبقے کا چہرہ بدلا، لیکن ان کی قسمت نہیں بدلی، کیونکہ مجموعی سیاسی نظام نہیں بدلا۔ درحقیقت، یہ اعلان موجودہ سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں جیسے ہندوستان کے تسلط کے تابع رہنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

نیز لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ نام نہاد تحریکِ انسدادِ امتیاز کے غدار رہنما، جو طلبہ تحریک کی قیادت کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے، اعلانِ جولائی کے اجراء کے دن کاکس بازار میں پیٹر ہاس کے ساتھ جشن منا رہے تھے ﴿قَاتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ﴾ "اللہ انہیں ہلاک کرے، وہ کیسے پھرے جاتے ہیں"۔ اور ہم جمہوریت کے بخار میں مبتلا دانشوروں اور سیاستدانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ جمہوریت بذات خود آمریت کی ایک شکل ہے، کیونکہ یہ لوگوں کو مکمل خودمختارانہ اختیار دیتی ہے۔ یہاں تک کہ ابراہم لنکن، جنہیں دنیا کا سب سے بڑا جمہوری صدر سمجھا جاتا ہے، نے ۱۸۶۱ء میں بعض علاقوں میں دیوانی قوانین معطل کر دیے اور دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک آمر بن گئے۔ ۱۸۶۲ء میں انہوں نے "من مانی گرفتاری سے عدم گرفتاری کے استحقاق" کو معطل کر دیا اور جنگ کی مخالفت کرنے پر مارشل لاء کے تحت ۱۳,۰۰۰ مخالف ڈیموکریٹس کو گرفتار کر لیا۔ اور جب چیف جسٹس نے اعلان کیا کہ یہ اقدامات غیر آئینی ہیں تو لنکن نے اس کے ۸۴ سال کی عمر ہونے کے باوجود اسے گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا!

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ نظام کے اندر طاقت کے توازن کو کتنا ہی "درست" کر لیا جائے، حکمران اشرافیہ اقتدار کے مرکز میں رہتی ہے، اور ان کے نوآبادیاتی آقاؤں - امریکی - اس وقت تک ان کی حمایت کرتے رہیں گے جب تک وہ لوگوں کے سینوں پر سوار ہیں۔ اور اگر لوگ عوامی بغاوت کے ذریعے ان اشرافیہ کو ہٹا دیں تو امریکہ دوبارہ جمہوریت کے جھوٹے وعدوں کے تحت عوامی تحریک کو اغوا کرنے کے لیے واپس آئے گا۔ اور اس حقیقت کا مشاہدہ اس ملک کے لوگوں نے دہائیوں سے بارہا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾ "یہ چاہتے ہیں کہ طاغوت سے فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اس سے منکر رہیں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ ان کو دور کی گمراہی میں ڈال دے"۔

لوگوں نے جمہوریت کی حکومت کا تجربہ کیا ہے، اس لیے عوامی بغاوت کے بعد ان کے نمایاں مطالبات میں سے ایک سیکولر دستور سے چھٹکارا حاصل کرنا اور متبادل اسلامی دستور پیش کرنا تھا۔ لیکن عبوری حکومت نے امریکہ نواز سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف علانیہ موقف اختیار کیا اور خلافتِ راشدہ کے قیام کے مطالبے کو انتہا پسندی قرار دیا اور امریکہ کو اسلام کے خلاف جنگ کرنے کے اپنے وعدے پیش کیے۔ اور انہوں نے ہندوستانی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کو مضبوط کرنے کے بجائے بیلخانہ میں المیہ پیدا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان بحر ہند و بحر الکاہل کے خطے میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے، اس لیے امریکہ نواز جماعتیں اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

اس ملک کے لوگوں نے جمہوریت اور ان غدار جماعتوں کو ترک کر دیا ہے اور اب وہ نظامِ اسلامی یعنی خلافت کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد میں متحد ہو رہے ہیں۔ صرف خلافت ہی ایک اسلامی دستور قائم کرے گی، لوگوں کے لیے منصفانہ حقوق کی ضمانت دے گی، ملک کو کافر نوآبادیاتی تسلط - امریکہ - سے آزاد کرائے گی، ہندوستان کو ایک دشمن ریاست تصور کرے گی اور اس ملک سے اس کے تمام اثر و رسوخ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔ ﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى﴾ "پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا"۔

ولایہ بنگلہ دیش میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Official Statement

بنغلادش مكتب

ولاية بنغلادش

بنغلادش مكتب

Media Contact

بنغلادش مكتب

Phone: 8801798367640

Fax: Skype: htmedia.bd

Email: contact@ht-bangladesh.info

بنغلادش مكتب

Tel: 8801798367640 | contact@ht-bangladesh.info

Fax: Skype: htmedia.bd

Reference: PR-01987a93-2380-7905-bd6f-ebf25bc7090b