ازبکستان: داعی کی وفات پر تعزیت
مرزا احمدوف میرعزیز
نہایت غم و اندوہ کے ساتھ ہم اپنی امت مسلمہ کو اس کے ایک اور متقی اور ثابت قدم فرزند کی موت کی خبر دیتے ہیں، اور ہم اللہ کے سامنے کسی کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتے۔ ہمارے بھائی مرزا احمد میرعزیز جمعہ 10 اکتوبر 2025 کو انتقال کر گئے اور ان کی نماز جنازہ کل بروز ہفتہ ادا کی گئی۔ میرعزیز 1970 میں تاشقند میں پیدا ہوئے۔ وہ ان ہزاروں مخلص اور بہادر مسلمانوں میں سے ایک تھے جنہوں نے حزب التحریر کی جانب سے ازبکستان کے لوگوں کو اسلامی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے کام کرنے کی دعوت پر لبیک کہا۔
میرعزیز کو بہت سے دوسرے نوجوانوں کی طرح جابر اور خونخوار کریموف کے دور حکومت میں جوانی کے عالم میں گرفتار کیا گیا اور طویل عرصے تک قید کی سزا سنائی گئی۔ تقریباً 20 سال قید میں گزارنے کے بعد 2025 میں، 55 سال کی عمر میں، انہیں جیل میں شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کی وجہ سے تقریباً مردہ حالت میں رہا کیا گیا۔
اس نوجوان مومن نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف حصہ مرطوب جیلوں میں گزارا، لیکن اس عہد پر قائم رہے جو انہوں نے اللہ کے سامنے کیا تھا، اور کریموف کے خونی نظام کے سامنے نہیں جھکے، اور نہ ہی اسے تسلیم کیا، اور نہ ہی خلافت کے سوا کسی چیز پر راضی ہوئے جو اللہ کے احکام کو نافذ کرے۔
ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بھائی میرعزیز کو اپنی رحمت و عافیت سے ڈھانپ لے اور انہیں ان مومنین کی صفوں میں شامل کرے جن کے بارے میں اس نے فرمایا: ﴿مِنْ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً﴾۔
ہم اپنے بھائی کے اہل خانہ اور رشتہ داروں سے بھی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ انہیں صبر جمیل اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ اس موقع پر ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں: ﴿إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾۔
حزب التحریر کا میڈیا آفس
ازبکستان میں