پریس ریلیز
اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے دشمن کو دعوت دینا اللہ کے غضب اور ناراضگی کا باعث ہے
اے وزیر اعظم ملائیشیا! اللہ سے ڈرو!
(مترجم)
حزب التحریر/ملائیشیا ملائیشیا کے وزیر اعظم داتو سری انور ابراہیم کی جانب سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو، جن کے ہاتھ غزہ میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، کوالالمپور میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے سینتالیسویں اجلاس میں شرکت کے لیے ملائیشیا آنے کی دعوت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ یہ دعوت محض ایک شرمناک سفارتی اشارہ نہیں ہے جس میں کسی اخلاقی بنیاد کا فقدان ہو؛ بلکہ یہ اس امت کی عزت کی توہین ہے، اور ایک ایسی غداری ہے جو ہر اس مسلمان کے جذبات کو مجروح کرتی ہے جو اب بھی اپنے دل میں عزت کا جذبہ رکھتا ہے، خاص طور پر اہل فلسطین۔
جو شخص اہل فلسطین کا دفاع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے وہ ان کے قاتل اور ان کی سرزمین کو تباہ کرنے والے کو مسلمانوں کے ملک میں کیسے بلا سکتا ہے؟ ہماری عزت کہاں ہے جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دشمن، اس کے رسول ﷺ کے دشمن اور ہمارے دشمن کا ہمارے ملک میں عزت و احترام کے ساتھ استقبال کیا جاتا ہے؟! اسلام کے دشمن کے پاس ایسی کون سی قدر ہے کہ اس کے لیے سرخ قالین بچھایا جائے؟! آج اللہ کے دشمنوں میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ حقیر کون ہو سکتا ہے؟ 67000 سے زائد مسلمانوں کے قتل اور غزہ کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ٹرمپ صرف ایک متکبر کافر نہیں ہے؛ بلکہ غزہ کی سرزمین پر معصوم مسلمانوں کا خون اس کے حکم سے بہایا گیا ہے، اور اسے اس پر بہت فخر ہے۔ اس نے مسلمانوں کے پہلے قبلے القدس کو غاصب یہودی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔ اور اس کے دستخط سے نام نہاد "صدی کی ڈیل" نافذ ہوئی، جو ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے فلسطینی عوام کے حقوق کو مسترد کر دیا اور عملاً فلسطین کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی کوشش کی۔ اور اب دوبارہ وہ ایک نام نہاد "امن منصوبہ" کا اعلان کر رہا ہے جس زمین پر اس کا سرے سے کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ تو کیا ایسا شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس ملک میں بلایا اور عزت دی جائے جس کے لوگ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟!
ملائیشیا کے وزیر اعظم اس شرم کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کی صدارت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم واضح طور پر پوچھتے ہیں: کیا آسیان کی صدارت کے لیے اس طرح کی دعوت دینا ضروری ہے؟ اس کے برعکس، مجرم ٹرمپ کی دعوت کو مسترد کرنا عزت اور جرات کی علامت ہوتا۔ جو بھی بہانے ہوں، وہ اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ یہ عمل امریکہ کے سامنے جھکنے اور اس سے خوفزدہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ جبکہ حقیقی تعظیم اور عقیدت صرف اللہ کے لیے ہے، نہ کہ اس کے دشمنوں کے لیے۔
اور اس سے بھی زیادہ شرمناک یہ دعویٰ ہے کہ ٹرمپ کی موجودگی میں فلسطین کے بارے میں براہ راست پیغام پہنچایا جا سکتا ہے! یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز مفروضہ ہے: کیا ریوڑ کو کھانے والا بھیڑیا کبھی بھیڑ بکریوں پر رحم کرنے کے مشورے پر دھیان دے گا؟! یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے! ہم اس سے حل کیسے مانگ سکتے ہیں جس نے غزہ کو تباہ کیا؟! ہم اپنے دشمن سے اپنی مشکل کا حل کیسے اٹھا سکتے ہیں، یا یہاں تک کہ قبول کر سکتے ہیں؟ اے ملائیشیا کے وزیر اعظم، جان لیں کہ مسئلہ فلسطین کا حل ڈونلڈ ٹرمپ سے نہیں آئے گا۔ حل آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ اور تمام مسلمان حکمرانوں کے ہاتھ میں؛ کہ آپ اپنی فوجوں کو یہودیوں کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحرک کریں۔ لیکن آپ افسوس کی بات ہے کہ ایسا نہیں کرتے، بلکہ فلسطینیوں کی گردنیں ٹرمپ اور یہودیوں کے حوالے کر دیتے ہیں تاکہ وہ انہیں ذبح کر سکیں!
درحقیقت، ٹرمپ کو اس ملک میں دعوت دینے کا مطلب صرف اللہ کو ناراض کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ ملک کی خودمختاری کو بھی خطرے میں ڈالنا ہے۔ اس کے پہنچتے ہی ہم ریاستی سیکورٹی کے آلات کے پہلوؤں پر مکمل کنٹرول نہیں رکھ سکیں گے: پولیس، فوج، امیگریشن حکام اور پورے سیکورٹی ادارے کو اس شخص کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دوبارہ تقسیم کیا جائے گا جو 67 ہزار سے زائد مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار ہے، تاکہ اسے ذرہ برابر بھی کوئی گزند نہ پہنچے۔ اور یہ ایک سنگین توہین ہے کہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے قاتل کے ساتھ بادشاہ سے بھی زیادہ سلوک کیا جاتا ہے! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ﴾۔
اے ملائیشیا کے وزیر اعظم: جان لیں کہ ٹرمپ کو اپنے ملک میں دعوت دے کر، اسے اپنی مجلس میں بٹھا کر اور اس کے ساتھ تصاویر کھینچ کر، آپ کو ذرہ برابر بھی عزت نہیں ملے گی، کیونکہ عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے۔ جو لوگ اللہ کے دشمنوں کے سامنے اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ حقیقی مومنوں کی نظر میں ذلیل سمجھے جاتے ہیں، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے ان کی رسوائی بہت بڑی ہے۔ ﴿کیا وہ ان کے ہاں عزت تلاش کرتے ہیں؟ تو بے شک عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے﴾۔
مزید برآں، ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اس ملک میں دعوت دینے میں کوئی عملی فرق نہیں ہے، کیونکہ دونوں ہی اسلام کے دشمن، اللہ کے دشمن، اس کے رسول کے دشمن اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اور دونوں ہی گندے مجرم ہیں، لیکن ٹرمپ خود کو بڑا سمجھتا ہے کیونکہ مسلمان حکمرانوں نے اس کی تعظیم کرنا پسند کیا ہے۔ تو وہ کتنے حقیر ہیں!
حزب التحریر نبوت کے طریقے پر دوسری خلافت راشدہ کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے، جو امریکہ اور یہودی ریاست کو دوستی اور دشمنی کا حقیقی مفہوم سکھائے گی۔ تب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دشمن دنیا میں ذلت کا مزہ چکھیں گے، اس سے پہلے کہ وہ اللہ عزوجل کے ہاتھوں آخرت میں ذلت کا مزہ چکھیں۔
عبد الحکیم عثمان
حزب التحریر کے ترجمان
ملائیشیا میں