Organization Logo

كينيا

كينيا

Tel: +254 717 606 667 / +254 737 606 667

abuhusna84@yahoo.com

www.hizb-ut-tahrir.info

عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ زنا (بدکاری) کو شادی کے مساوی قرار دیتا ہے
Press Release

عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ زنا (بدکاری) کو شادی کے مساوی قرار دیتا ہے

July 03, 2025
Location

پریس ریلیز

عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ زنا (بدکاری) کو شادی کے مساوی قرار دیتا ہے

(مترجم)

عدالتِ عظمیٰ نے فیصلہ دیا ہے کہ مسلم والدین کے زنا سے پیدا ہونے والے بچے اپنے والد کی جائیداد سے وراثت کے حقدار ہیں، جو کینیا میں اسلامی قانونِ احوالِ شخصیہ کی تشریح میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے 30 جون بروز پیر فاطمہ عثمان عبود فرج کی جانب سے دائر کی گئی اس اپیل کو مسترد کرنے کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے اپنے مرحوم شوہر سلیم جمعہ حکیم کیتندو کے بچوں کو ان کی جائیداد سے اس بنیاد پر خارج کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ تسلیم شدہ اسلامی شادی کے دائرے سے باہر پیدا ہوئے تھے۔

اس سلسلے میں، حزب التحریر/کینیا درج ذیل کی وضاحت کرنا چاہے گی:

چونکہ کینیا ایک سیکولر ریاست ہے، اس لیے یہ فیصلہ بالکل بھی حیران کن نہیں ہے، کیونکہ سیکولرازم - جو کہ ایک مغربی عقیدہ ہے جو مذہب کو ریاست سے الگ کرنے کا تقاضا کرتا ہے - انسان کو مکمل خود مختاری دیتا ہے۔ اس تناظر میں، عدالتِ عظمیٰ ایک اخلاقی ادارہ نہیں ہے، بلکہ سیکولر لبرل خیالات اور اقدار کو بلند کرتی ہے۔ زنا سے پیدا ہونے والے بچوں کو شادی کے ادارے کے برابر انعام دینا سیکولرازم کے ان فیصلوں میں سے ہے جو اخلاقیات کی قیمت پر ذاتی آزادی کو مقدس سمجھتے ہیں۔

زنا سے پیدا ہونے والے بچوں کے "حقوق" کو مضبوط اور محفوظ بنانا بڑی مغربی طاقتوں کی جانب سے اسلام کے خلاف شروع کی گئی ایک شدید مہم کا محض ایک حصہ ہے۔ زنا کو معمول پر لانے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات میں قانونی ضمانتیں اور پروپیگنڈا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے گلیوں میں لاوارث بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو شہری مراکز میں ایک خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کینیا میں گلیوں کے بچے بہت زیادہ بوجھ کا سامنا کرتے ہیں۔ ان میں غربت، بنیادی ضروریات تک کم رسائی، صحت کے مسائل، اور بدسلوکی اور استحصال کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا شامل ہے۔ تاہم، یہ چیلنجز خاندان کی جانب سے اپنی مکمل ذمہ داری لینے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ ریاست کی جانب سے لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال میں غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے مزید بڑھ جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، اسلام خاندان کے افراد اور ریاست کو بچوں کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے کا پابند کرتا ہے۔ جہاں تک وراثت کا تعلق ہے تو اسلام میں صرف جائز اولاد کا حق ہے، جبکہ زنا سے پیدا ہونے والی اولاد اور معذور بچوں کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْناً أَوْ ضِيَاعاً، فَإِلَيَّ، وَعَلَيَّ»۔ (میں مومنوں کے نفوس سے بھی زیادہ ان کا حقدار ہوں، جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے اہل خانہ کا ہے، اور جو کوئی قرض یا ضائع شدہ چیز چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس ہے، اور وہ مجھ پر ہے۔)

آخر میں، ہم مسلمانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں کوئی نرمی نہ برتیں، کیونکہ یہ اسلام کے خلاف عالمی جنگ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اس فیصلے کو دنیا بھر کے دیگر عدالتی اداروں میں اسلام کے قانون وراثت کو کمزور کرنے کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ اس لیے، ہم کینیا میں تمام بااثر مسلمانوں، جن میں علماء اور سیاست دان شامل ہیں، سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

شعبان معلم

میڈیا نمائندہ حزب التحریر

کینیا میں

Official Statement

كينيا

كينيا

كينيا

Media Contact

كينيا

Phone: +254 717 606 667 / +254 737 606 667

Email: abuhusna84@yahoo.com

كينيا

Tel: +254 717 606 667 / +254 737 606 667 | abuhusna84@yahoo.com

www.hizb-ut-tahrir.info

Reference: PR-0197c127-7cc0-7bde-a683-98ef197ecb40