2025-09-10
جریدۃ الرایہ:
جواب سوال
امریکی حکمت عملی اور دو ریاستی حل
سوال:
ہم جانتے ہیں کہ اسلامی ممالک کے قلب میں یہودی ریاست کو مستحکم کرنے سے متعلق امریکی حکمت عملی اکثر دو ریاستی حل پر مبنی تھی۔ لیکن ٹرمپ کے دور میں اس سے دستبرداری شروع ہوئی یا کم از کم اس پر خاموشی اختیار کی گئی جس کی وجہ سے یہ سوالیہ نشان بن گیا۔ مثال کے طور پر ٹرمپ نے کہا (جب میں مشرق وسطیٰ کے نقشے کو دیکھتا ہوں تو مجھے اسرائیل ایک بہت چھوٹا سا دھبہ نظر آتا ہے۔ درحقیقت میں نے کہا کہ کیا رقبہ حاصل کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟ یہ بہت چھوٹا ہے... اسکائی نیوز، 2024/8/19) تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کا دو ریاستی حل کا منصوبہ ختم ہو گیا ہے یا یہ باقی ہے؟ شکریہ۔
جواب:
جواب کو واضح کرنے کے لیے ہم مندرجہ ذیل امور کا جائزہ لیتے ہیں:
1- 1959 میں اور آئزن ہاور کے دور حکومت کے اختتام پر امریکہ نے دو ریاستی حل کا منصوبہ اپنایا اور اسے (یہودی ریاست کی حمایت اور اسے برقرار رکھنے اور فلسطینیوں کے لیے اس کے ساتھ ایک ریاست قائم کرنے...) میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ پھر اس خطے میں اس کے ایجنٹوں اور سب سے نمایاں مصری نظام نے اس منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ اس مقصد کے لیے تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) قائم کی گئی۔ تاہم برطانیہ نے اردنی نظام کے ذریعے اس منصوبے کی سخت مخالفت کی اور فلسطین میں حکومت کے لیے سیکولر فلسطینی ریاست کا منصوبہ اپنایا جس پر یہودیوں کا غلبہ ہو، جیسا کہ سیکولر لبنانی ریاست ہے جس پر عیسائیوں کا کنٹرول ہے۔
2- یہ سب اس وقت تھا جب مغربی کنارہ اردن کے زیر تسلط تھا اور غزہ مصر کے زیر تسلط تھا، لیکن جب مغربی کنارہ اور غزہ سینائی اور گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ جون 1967 میں ایک ڈرامائی جنگ میں یہودی ریاست کے کنٹرول میں آگئے تو بات فلسطینی ریاست کے قیام پر نہیں رہی، بلکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 242 کی بنیاد پر ان مقبوضہ علاقوں سے یہودی ریاست کے انخلاء پر مرکوز ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے فلسطینی فائل کو ایک طرف رکھ دیا اور جنگی تحریک کی تیاری شروع کر دی، چنانچہ 1973 میں یوم کپور کی جنگ شروع ہوئی تاکہ امن عمل کو متحرک کیا جا سکے اور انور السادات کی سربراہی میں مصری حکومت نے ستمبر 1978 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت یہودی ریاست سینائی سے دستبردار ہو گئی، لیکن اسے ہتھیاروں سے محدود رکھا گیا، جو کہ ریاست کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا ایک بفر زون تھا اور آج تک ایسا ہی ہے، اس کے باوجود کہ مجرم ریاست غزہ میں سینائی کی سرحدوں پر نسل کشی کی جنگ کر رہی ہے!
3- اس کے بعد امریکہ شمالی محاذ کی طرف منتقل ہو گیا اور یہودی ریاست کو 1982 میں لبنان پر حملہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ تنظیم آزادی فلسطین کو وہاں سے نکال باہر کیا جائے اور اسے یہودی ریاست کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ امن معاہدہ کرنے پر مجبور کیا جائے۔ تنظیم کے سربراہ یاسر عرفات نے 25/7/1982 کو میکلوسکی دستاویز پر دستخط کر دیے جس میں انہوں نے کہا: "تنظیم اب اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرتی ہے"۔ 1988 میں عرفات نے الجزائر میں منعقدہ فلسطینی قومی کانفرنس میں اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے ایک اجلاس میں فلسطینی ریاست کے قیام کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد برطانیہ اور اس کے ایجنٹ اردن کے بادشاہ نے اسی سال مغربی کنارے سے تعلق توڑنے پر اتفاق کیا۔
4- اس کے بعد امریکہ نے 1991 میں میڈرڈ کانفرنس منعقد کی تاکہ اپنے دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ پھر 1993 میں تنظیم آزادی فلسطین اور یہودی ریاست کے درمیان اوسلو معاہدہ ہوا تاکہ تنظیم یہودی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے۔ نیز یہودی ریاست اور اردن کے درمیان وادی عربہ معاہدہ (26/10/1994) ہوا تاکہ اردن مغربی کنارے سے دستبردار ہو جائے جو اس کے زیر تسلط تھا اور پھر یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔ امریکہ نے ان دونوں معاہدوں پر عمل درآمد کیا تاکہ اپنے دو ریاستی حل کے منصوبے کو نافذ کر سکے۔ 2008 کے آخر میں بش کے دونوں ادوار کے اختتام کے بعد اوباما واشنگٹن میں اقتدار میں آئے۔ انہوں نے 2010/9/2 کو امریکی سرپرستی میں فلسطینی اتھارٹی اور یہودی ریاست کے درمیان براہ راست مذاکرات کرانے کی درخواست کی، اس امید کے ساتھ کہ ایک سال کے اندر دو ریاستی حل نافذ ہو جائے گا۔ لیکن مذاکرات کسی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔
5- اوباما کے دو ادوار کے بعد 2016 کے آخر میں ٹرمپ 2017 کے اوائل میں اقتدار میں آئے اور ان کا پہلا مرحلہ جاری رہا پھر وہ انتخابات میں ہار گئے اور 2021 کے اوائل میں ان کی جگہ بائیڈن نے لے لی اور بائیڈن کا مرحلہ ختم ہونے کے بعد ٹرمپ دوبارہ انتخابات میں کامیاب ہو گئے اور 2025 کے اوائل میں صدر بن گئے۔
اور ان دونوں مراحل میں یعنی ٹرمپ اور بائیڈن کے مراحل میں امریکی صدور کے سابقہ طریقہ کار سے ایک مختلف طریقہ کار سامنے آیا، کیونکہ سابقہ صدور جب سے امریکہ نے دو ریاستی حل میں اپنے طریقہ کار کا اعلان کیا تھا، وہ ریاست کی تفصیلات میں جائے بغیر حل کا ذکر کرتے تھے۔ تو کم نظر والے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ فلسطینیوں کو فلسطین کے ایک حصے میں خودمختار ریاست دی جائے گی۔۔ جب ٹرمپ اور بائیڈن آئے تو انہوں نے کچھ تفصیلات میں جانے کے بعد کہا کہ فلسطینیوں کو جو کچھ دیا جائے گا وہ ایک غیر مسلح ریاست ہوگی جو محدود خود مختاری سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے، جس میں کوئی طاقت نہیں ہوگی بلکہ اس پر یہودیوں کا غلبہ ہوگا ان دونوں کے درمیان بیان کی طاقت اور اس کے ابہام میں کچھ فرق ہے! یہاں سوالات ابھرے: کیا امریکہ کا دو ریاستی حل کا منصوبہ ختم ہو گیا ہے یا ختم نہیں ہوا اور جاری ہے؟ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلسطین کے بارے میں یہودیوں کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے سوائے امریکہ کے تعاون کے، اس لیے امریکی بیان ہی تحقیق کا موضوع ہے:
6- موضوع پر باریک بینی سے غور کرنے سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:
أ- ٹرمپ کی پہلی صدارت شروع کرنے کے بعد ہم پہلے ہی 23/2/2017 کو ایک سوال کے جواب میں دو ریاستی حل کے بارے میں جواب دے چکے ہیں اور اس میں آیا ہے:
[(1- امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات جنہیں تمام عالمی اور مقامی میڈیا نے نشر کیا اور براہ راست نشر کیا وہ یہ ہیں: "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ایک نئی تمیز درج کی جب انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلی فلسطینی تنازع کو ختم کرنے کا واحد راستہ دو ریاستی حل نہیں ہے، اور اشارہ کیا کہ اگر وہ امن کا باعث بنتے ہیں تو وہ متبادل آپشنز کے لیے تیار ہیں۔ تمام سابقہ امریکی صدور خواہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ دو ریاستی حل کے حامی رہے ہیں۔۔ (فرانس24 ویب سائٹ، 16/2/2017) اور انہوں نے کہا ("میں دو ریاستی حل اور ایک ریاستی حل کو دیکھتا ہوں۔ اگر اسرائیل اور فلسطینی خوش ہیں تو میں اس "حل" سے خوش ہوں گا جسے وہ ترجیح دیں گے، دونوں حل میرے لیے مناسب ہیں"۔۔ الجزیرہ مباشر ویب سائٹ، 16/2/2017)، اور ایک ریاست کے حل کا جو ذکر امریکہ نے پہلی بار ٹرمپ کی زبانی کیا اسے ٹرمپ نے واضح نہیں کیا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینیوں کو ایک یہودی ریاست کے اندر خود مختاری دی جائے؟! یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سیکولر ریاست ہو جس میں فلسطینی یہودی ریاست کے انتظام میں حصہ لیں، جو کہ 1939 میں برطانیہ کی جانب سے پیش کیے گئے اس برطانوی منصوبے سے مشابہت رکھتا ہے جب اس نے وائٹ پیپر جاری کیا جو لبنان کی شکل میں تھا؟ واضح رہے کہ دو ریاستی حل خود امریکہ کا منصوبہ ہے جو اس نے 1959 سے ریپبلکن صدر آئزن ہاور کے دور میں پیش کیا تھا اور نام نہاد بین الاقوامی برادری کو اسے قبول کرنے پر آمادہ کیا اور برطانیہ کی جانب سے پیش کیے گئے ایک ریاستی حل کو ختم کر دیا۔ بہر کیف ان بیانات اور قرائن پر غور کرنے سے جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ نے اپنے دو ریاستی حل کے منصوبے کو ترک نہیں کیا ہے، کیونکہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ("سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دو ریاستی حل وہ ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ اور کوئی بھی جو یہ کہے کہ امریکہ دو ریاستی حل کی حمایت نہیں کرتا تو یہ غلط ہوگا۔ ہم یقینی طور پر دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں لیکن ہم اس کے علاوہ بھی سوچ رہے ہیں۔ یہ ان دونوں فریقوں کو میز پر لانے کے لیے ضروری ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی ہمیں ان کو متفق کرنے کے لیے ضرورت ہے"... رائٹرز 16/2/2017)] اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ٹرمپ نے دو ریاستی حل کو ترک نہیں کیا ہے جو کہ 1959 سے امریکی ریاست کی اعلان کردہ پالیسی ہے، بلکہ وہ دباؤ ڈالنے کا کوئی اور طریقہ آزمانا چاہتا تھا۔ جیسا کہ اس کی سفیر نے کہا (ہم یقینی طور پر دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں لیکن ہم اس کے علاوہ بھی سوچ رہے ہیں۔) یعنی دوسرے طریقے استعمال کر کے۔
ب- اپنی پہلی صدارت اور دوسرے مرحلے میں ٹرمپ (ریپبلکن) کے یہودیوں کی حمایت کے بارے میں بیانات میں تیزی آئی:
* (امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو "اسرائیل" کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اگر اسرائیلی اور فلسطینی اس کی منظوری دیں۔۔ بی بی سی، 6/12/2017)
* امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کہا ("وہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے لیے بہترین آپشن دو ریاستی حل ہے" اور انہوں نے مزید کہا "یہ میرا خواب ہے کہ میں اپنی پہلی مدت صدارت ختم کرنے سے پہلے ایسا کر سکوں" بی بی سی، 26/9/2018)
* امریکی صدر ٹرمپ نے کہا (جب میں مشرق وسطیٰ کے نقشے کو دیکھتا ہوں تو مجھے اسرائیل ایک بہت چھوٹا سا دھبہ نظر آتا ہے۔ درحقیقت میں نے کہا کہ کیا رقبہ حاصل کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟ یہ بہت چھوٹا ہے... اسکائی نیوز، 19/8/2014)۔
* (اس سے قبل آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر امریکہ کے کنٹرول اور فلسطینیوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اپنے منصوبے کی دوبارہ تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ "غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے پابند ہیں"۔۔ بی بی سی، 10/2/2025)، پھر دس دن بعد واپس آ کر بیان دیا (کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ مسلط نہیں کریں گے بلکہ اسے "تجویز کریں گے"۔۔ سی این این، 21/2/2025) یہ الفاظ سے کھیلنے کے زمرے میں آتا ہے!
ج- دوسری جانب بائیڈن (ڈیموکریٹ) کے بیانات نے بعض اوقات یہودیوں کی حمایت میں ٹرمپ کے بیانات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے:
* جب ٹرمپ انتخابات میں ہار گئے اور ان کی جگہ 2021 کے اوائل میں بائیڈن نے لے لی تو امریکہ نے ایک بار پھر فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی بغیر اس کی نوعیت اور جگہ کی وضاحت کیے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے 3/9/2024 کو صحافیوں کو دیے گئے بیانات میں ذکر کیا (کہ دو ریاستی حل کے کئی نمونے ہیں، انہوں نے اشارہ کیا کہ اقوام متحدہ میں کئی ممالک ایسے ہیں جن کی اپنی مسلح افواج نہیں ہیں) یعنی بائیڈن فلسطینیوں کے لیے اس قسم کی ریاست کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس میں مسلح افواج نہ ہوں، یعنی خود مختاری یا اس جیسا کچھ!
* امریکی صدر بائیڈن نے جب 18/10/2023 کو آپریشن طوفان الاقصی کے بعد تل ابیب کا دورہ کیا تو وہاں کے حکام سے ملاقات کے دوران کہا: (کہ "اسرائیل" کو یہودیوں کے لیے ایک محفوظ جگہ واپس آنا چاہیے۔ اور اگر "اسرائیل" نہ ہوتا تو ہم اسے قائم کرنے کے لیے کام کرتے۔۔ الجزیرہ، 18/10/2023)
* بائیڈن نے یہودی تہوار (ہانوکا) کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ("یہودی ہونے کے لیے صیہونی ہونا ضروری نہیں ہے اور میں صیہونی ہوں" الشرق الاوسط، 12/12/2023)۔
7- پچھلے سوال کے جواب پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ ان بیانات اور موقفوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ اور بائیڈن کے موقف میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے سوائے کچھ طریقوں کے جو معاملے کے جوہر کو نہیں بدلتے۔۔ امریکہ ہی اس معاملے کو دو ریاستوں کی بنیاد پر چلا رہا ہے: ایک ریاست یہودیوں کے لیے فلسطین کے بیشتر حصے میں ہے جس کی وہ مالی، عسکری اور بین الاقوامی سطح پر حمایت کرتا ہے، بلکہ خطے میں بھی اپنے ایجنٹوں اور مسلمانوں کے ممالک میں حکمرانوں کے ذریعے اس کی حمایت کرتا ہے۔۔ اور ایک غیر مسلح ریاست (خود مختاری) فلسطینیوں کے لیے فلسطین کے ایک حصے میں ہے جس پر یہودیوں کا تسلط ہوگا!! اور اس سے قطع نظر کہ "اتھارٹی اور ایجنٹ حکمران" اسے فلسطینی ریاست کا نام دینا چاہتے ہیں، اس سے اس کی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، امریکہ اسے خودمختار ریاست نہیں بنانا چاہتا چاہے وہ فلسطین کے ایک حصے کے ایک حصے پر ہی کیوں نہ ہو بلکہ وہ اسے خود مختاری سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے بغیر ہتھیاروں کے سوائے اس کے جو یہودی تسلط کے اندر پولیس کے لیے ضروری ہوں!! اور ٹرمپ اور بائیڈن کے دور میں یہودی ریاست کو مستحکم کرنے کے لیے دو عوامل سامنے آئے ہیں جو اوپر ذکر کی گئی باتوں کی تصدیق کرتے ہیں، اگرچہ ان کا ظہور ٹرمپ کے دور میں زیادہ تھا، اور وہ یہ ہیں:
پہلا، جو آج یہودی ریاست کو مضبوط کرنے اور اسے مالی امداد اور ہتھیار فراہم کرنے پر مبنی ہے تاکہ وہ سب سے بڑی طاقت بنی رہے جو اپنے تمام فوجی ماحول پر برتری حاصل کر سکے۔
اور دوسرا، معمول پر لانا ہے، جسے ٹرمپ نے معاہدہ ابراہیم کا نام دیا ہے، اور انہوں نے اپنی پہلی مدت میں آدھا راستہ طے کیا تھا اور آج وہ اسے مکمل کرنا چاہتے ہیں، اس لیے امریکی ایلچی علاقے میں چکر لگا رہے ہیں نہ صرف سعودی عرب کو نام نہاد "ابراہیم معاہدوں" میں شامل ہونے کے لیے قائل کرنے کے لیے، بلکہ عملی تیاری بھی کر رہے ہیں اور مذاکرات کھول رہے ہیں جو آج شام اور لبنان کے درمیان یہودی ریاست کے ساتھ جاری ہیں، اور امریکہ اسے وسعت دینا چاہتا ہے تاکہ یہ مسلمانوں کے ممالک میں دوسرے ایجنٹ حکمرانوں تک پہنچ سکے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ نے دو ریاستی حل کو ترک نہیں کیا ہے، لیکن اس نے ٹرمپ اور بائیڈن کے دور میں فلسطینی ریاست کے مطلوبہ ہونے کا اعلان کیا ہے کہ وہ یہودیوں کے زیر تسلط خود مختاری سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے، اور سابقہ صدور نے فلسطینیوں کے لیے مطلوبہ ریاست کی نوعیت میں داخل ہوئے بغیر دو ریاستی حل کا ذکر کیا تھا!
8- آخر میں فلسطین مسلمانوں کی تاریخ کا نگینہ ہے جب سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسے اپنے گھر حرام سے ایک ہی رشتے سے جوڑا ہے، کیونکہ اس نے اپنے رسول ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف معراج کرائی ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾، تو اس نے اسے ایک پاکیزہ اور بابرکت سرزمین بنا دیا۔ اور فلسطینی دارالحکومت (بیت المقدس) کی طرف مسلمانوں کے دلوں کو موڑ دیا اس طرح کہ اس نے اسے مسلمانوں کا پہلا قبلہ بنایا اس سے پہلے کہ اللہ نے مسلمانوں کو ہجرت کے بعد سولہ ماہ بعد اپنا دوسرا قبلہ (کعبہ مشرفہ) عطا کیا۔ یہ اس سے پہلے تھا کہ فلسطین اسلام کے زیر تسلط آتا جب خلیفہ دوم عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اسے 15 ہجری میں فتح کیا اور اسے سوفرونیئس سے وصول کیا اور اسے اپنا مشہور عہد نامہ (العهدۃ العمریۃ) دیا جس کے متن میں سے نصاریٰ کی درخواست پر یہ تھا، (کہ یہودی ان کے ساتھ وہاں نہ رہیں)۔۔ پھر فلسطین صلیبیوں اور تاتاریوں کا قبرستان بن گیا۔۔ یہاں صلیبیوں اور تاتاریوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگیں ہوئیں: حطین (583ھ-1187ء)، اور عین جالوت (658ھ-1260ء)، اور اللہ کے حکم سے یہودیوں کے ساتھ ایک اور فیصلہ کن جنگیں ہوں گی تاکہ فلسطین کو خالص اور پاکیزہ طور پر اسلام کے گھروں میں واپس لایا جا سکے۔
آج تک فلسطین میں یہودی ریاست کا تسلسل ان میں طاقت کی وجہ سے نہیں ہے، وہ جنگ اور فتح کے اہل نہیں ہیں، بلکہ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ﴾، بلکہ ان کا بقا مسلمانوں کے ممالک میں حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے ہے، مسلمانوں کی مصیبت ان کے حکمرانوں میں ہے، وہ کفار نوآبادیاتی دشمنان اسلام اور مسلمانوں کے وفادار ہیں۔۔ وہ فلسطین پر یہودیوں کے قبضے، ان کے وحشیانہ جرائم اور ان کے مختلف مظالم کو دیکھتے اور سنتے ہیں، لیکن جیسے کہ وہ دیکھتے نہیں اور سنتے نہیں ﴿صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾! انہوں نے فوجوں کو آج تک غزہ ہاشم میں اپنے بھائیوں کی مدد کرنے سے روک دیا ہے، شہداء کی تعداد دوگنی ہو رہی ہے اور زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔۔ اور حکمران اس واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ان کا طریقہ کار بہترین ہے جو شہداء کو ہلاک ہونے والوں کے نام سے شمار کرتے ہیں پھر زخمیوں کو شمار کرتے ہیں گویا وہ ایک غیر جانبدار فریق ہیں بلکہ یہودیوں کے قریب تر ہیں! وہ "کرسی" کو اپنے ملک اور اپنی عوام سے بالاتر کر دیتے ہیں! اس کے باوجود یہ امت بہترین امت ہے جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، پس اللہ کے حکم سے وہ ان رویبضات کی جانب سے اس جبری حکومت پر زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہے گی، ہمارے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس جبری بادشاہت کے بعد خلافت راشدہ کی واپسی کی بشارت دی ہے جیسا کہ مسند امام احمد اور طیالسی میں حذیفہ بن الیمان سے مروی ہے: «... ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ»۔ اور اس وقت مسلمان عزت پائیں گے اور کافر ذلیل ہوں گے ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾.. اور عجیب و غریب بات یہ ہے کہ کفار خاص طور پر یہودی اس بات کو اس سے زیادہ سمجھتے ہیں جو آج کے بہت سے مسلمان سمجھتے ہیں۔۔ یہودی سمجھتے ہیں کہ خلافت میں ان کی ہلاکت ہے ان کے وزیر اعظم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا جسے براہ راست میڈیا نے نشر کیا جس میں الجزیرہ بھی شامل ہے 21/4/2025 کو: ("ہم بحیرہ روم کے ساحل پر خلافت کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔ اور انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں یا لبنان میں خلافت کی ریاست کا وجود قبول نہیں کریں گے اور ہم اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں")۔۔ لیکن یہ اللہ کے حکم سے قائم ہوگی ان کی ناک کے باوجود اور انہیں اس پاک زمین سے ہٹا دے گی خاص طور پر حزب التحریر، وہ جماعت جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے مخلص ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صادق ہے خلافت کے قیام کے لیے اس عمل کی قیادت کر رہی ہے ان مردوں کے ذریعے جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا اور وہ اللہ کی مدد پر مطمئن ہیں: ﴿وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلَى أَمرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾.
دس ربیع الاول 1447ھ
2025/9/2ء
ماخذ: جریدۃ الرایہ