Organization Logo

المكتب الإعلامي ماليزيا

ماليزيا

Khilafah Centre, 47-1, Jalan 7/7A, Seksyen 7, 43650 Bandar Baru Bangi, Selangor

Tel: 03-89201614

htm@mykhilafah.com

www.mykhilafah.com

امت مسلمہ پر نازل ہونے والی دو مصیبتیں: فاسد حکمران اور فاسد نظام، اور ان دونوں کو ایک ساتھ تبدیل کرنا واجب ہے
Press Release

امت مسلمہ پر نازل ہونے والی دو مصیبتیں: فاسد حکمران اور فاسد نظام، اور ان دونوں کو ایک ساتھ تبدیل کرنا واجب ہے

August 02, 2025
Location

پریس ریلیز

امت مسلمہ پر نازل ہونے والی دو مصیبتیں: فاسد حکمران اور فاسد نظام، اور ان دونوں کو ایک ساتھ تبدیل کرنا واجب ہے

(مترجم)

26 جولائی 2025 کو، کوالالمپور شہر میں ملائیشیا کے وزیر اعظم داتوک سیری انور ابراہیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والا ایک بے مثال عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اس احتجاج نے عوام کے اس غصے اور بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کی جو ایک ایسی قیادت کے خلاف تھی جو نہ صرف اصلاحات کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی، بلکہ ٹیکسوں میں اضافے، بجلی کے نرخوں میں اضافے اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عوام کی مصیبتوں میں اضافہ کر دیا۔

عوام کے غصے میں اس چیز سے اور اضافہ ہو رہا ہے جسے بڑے پیمانے پر انور کا منافقت سمجھا جاتا ہے۔ بدعنوانی کے خاتمے کا ان کا وعدہ بدعنوانوں کی حفاظت اور ان کی ترقی کے ساتھ بالکل متصادم ہے۔ مزید برآں، ان کے بار بار اور مہنگے بیرونی دورے - جنہیں اکثر غیر ملکی سرمایہ کاری کے اربوں ڈالر کے وعدوں سے جائز قرار دیا جاتا ہے - صرف کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے جن کے کوئی حقیقی نتائج نہیں نکلے۔

اگرچہ اپوزیشن اس عوامی غصے کا فائدہ اٹھا کر احتجاج کو منظم کرنے میں کامیاب رہی ہے، لیکن وہ حکمران کے لیے کوئی حقیقی متبادل پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انور کے مستعفی ہونے کی صورت میں ان کی جگہ کون لے گا اس بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔ توجہ اب بھی محدود ہے، اور صرف وزیر اعظم کو ہٹانے پر مرکوز ہے، مستقبل کے لیے کوئی قابل اعتماد راستہ فراہم نہیں کیا جا رہا، اور بدقسمتی سے عوام کو اب بھی ٹھوس سیاسی سوچ اور قابل عمل حل کے بجائے جذبات کی بنیاد پر متحرک کیا جا رہا ہے۔ یہ سطحی بیانیہ - کہ مسئلہ انور ابراہیم ہیں - عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ اصل مسئلہ نہ صرف حکمران میں ہے بلکہ اس پورے نظام میں ہے جو اس وقت سے ملک میں نافذ ہے۔

1957 میں اپنی آزادی کے بعد سے، ملائیشیا پر دس وزرائے اعظم اور مختلف سیاسی جماعتوں نے حکومت کی ہے۔ نیشنل فرنٹ، الائنس آف ہوپ، نیشنل الائنس، اور اب مدنی حکومت۔ اگرچہ آبادی کا ایک قلیل حصہ خوشحال زندگی گزار رہا ہے، لیکن اکثریت اب بھی بڑھتے ہوئے معاشی چیلنجوں سے دوچار ہے۔ اور سماجی مسائل تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح، تعلیمی شعبہ بھی مسلسل مسائل کا شکار ہے۔ جرائم کی شرح میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، بلکہ یہ بہت خوفناک ہو چکی ہے، بشمول وہ جو خود پولیس فورس کے اندر ہو رہا ہے۔ اور سیاسی منظرنامہ مسلسل اسکینڈلز، بدعنوانی، بے ایمانی اور اقتدار کی رسہ کشی، اور مختلف قسم کی بدانتظامیوں سے آلودہ ہے، جس کا شکار ہمیشہ عوام ہی ہوتی ہے۔

مختصر یہ کہ برسوں میں حکمرانوں کی تبدیلی کے باوجود عوام نے حقیقی سکون یا خوشحالی کا مزہ نہیں چکھا۔ حکومت کے ہر دور میں عوام مسلسل حکومت کے ظلم کے خلاف اٹھتی رہی ہے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد (اول) کے دور سے، وزرائے اعظم پر اپنی پارٹیوں اور بیرونی قوتوں کی جانب سے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔ تاہم، جب بھی کوئی نیا وزیر اعظم مقرر کیا جاتا ہے، عوام کی امیدوں پر پورا اترنے والی تبدیلیاں نہیں آتیں۔ اور جو چیز بغیر کسی تبدیلی کے مستقل رہتی ہے وہ خود جمہوری نظام ہے، جسے نوآبادیاتی طاقتوں نے ملک کی آزادی کی شرط کے طور پر مسلط کیا تھا۔

ایک ایسا نظام جو کافروں نے تیار کیا ہے، اور جو اسلام کے احکام کے بالکل برعکس ہے، وہ امت مسلمہ کے لیے حقیقی حل کیسے پیش کر سکتا ہے؟ مسلمانوں کے لیے اس بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ نظام کو تبدیل کیے بغیر وزیر اعظم کو تبدیل کرنے سے ان مسائل کا کبھی بھی حل نہیں نکلے گا جن سے یہ امت دوچار ہے۔

یہ حقیقت صرف ملائیشیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہم پورے اسلامی ممالک میں یہی نمونہ دیکھ رہے ہیں: تیونس، مصر، یمن اور لیبیا سبھی نے عرب بہاریہ کے دوران بغاوتیں دیکھیں جن کے نتیجے میں حکمرانوں کو ہٹا دیا گیا، لیکن حکمران نظام اپنی جگہ پر برقرار رہے، اور عوام کی مشکلات جاری رہیں۔ اسی طرح سوڈان، ترکی، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا اور بہت سے دوسرے اسلامی ممالک میں، حکمران بار بار تبدیل ہوتے رہے ہیں، لیکن نوآبادیات سے وراثت میں ملنے والے سیکولر نظام بدستور برقرار ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ امت کی حالت میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

امت کو اس حقیقت پر بیدار ہونا چاہیے کہ اسے ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جانا چاہیے۔ لیکن ملائیشیا میں بدقسمتی سے اسے ایک یا دو بار نہیں بلکہ کئی بار ڈسا گیا ہے۔ یہ بار بار ثابت ہو چکا ہے کہ جمہوری نظام کے تحت اقتدار میں آنے والے نہ صرف اسلام کو نافذ کرنے میں ناکام رہتے ہیں - جو ہمارے بحرانوں کا حقیقی حل ہے - بلکہ وہ اصل میں اس کے لیے تیار بھی نہیں ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ جمہوریت، نوآبادیاتی وراثت کے طور پر، نہ صرف اسلام کے خلاف ہے، بلکہ اسے جان بوجھ کر زندگی سے الگ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ خاص طور پر خود اسلام کے نفاذ کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

اور یہ وہ دوہری تباہی ہے جو آج امت مسلمہ پر نازل ہے: فاسد حکمران اور فاسد نظام، اور دونوں کا فساد بلا شبہ ثابت ہو چکا ہے۔

فاسد نظام صرف فاسد حکمران ہی پیدا کرتے ہیں، اور یہ حکمران بدلے میں ان فاسد نظاموں کو جاری رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کمیونزم کمیونسٹ حکمران پیدا کرتا ہے جو کمیونزم کو برقرار رکھتے ہیں، اور سرمایہ داری سرمایہ دار حکمران پیدا کرتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کو برقرار رکھتے ہیں، اسی طرح جمہوریت بھی کرتی ہے؛ یہ ایسے حکمران پیدا کر کے خود کو دوام بخشتی ہے جو اس کی خدمت کرتے ہیں اور اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ حکمران اور نظام ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں، اور ایک دوسرے کو تقویت بخشتے ہیں۔

لہذا، ان مصیبتوں سے نکلنے کا امت کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور نظام کو ایک ساتھ تبدیل کیا جائے۔ اسلام میں جائز حکمران خلیفہ ہے، اور جائز نظام اور ریاست خلافت ہے۔ حزب التحریر اسی کو پوری دنیا میں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور یہ امت کے لیے ہماری دعوت ہے کہ وہ خلافت راشدہ علی منہاج النبوہ کے قیام کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کرے۔

عبد الحکیم عثمان

سرکاری ترجمان، حزب التحریر

ملائیشیا

Official Statement

المكتب الإعلامي ماليزيا

ماليزيا

المكتب الإعلامي ماليزيا

Media Contact

المكتب الإعلامي ماليزيا

Phone: 03-89201614

Email: htm@mykhilafah.com

المكتب الإعلامي ماليزيا

Khilafah Centre, 47-1, Jalan 7/7A, Seksyen 7, 43650 Bandar Baru Bangi, Selangor

Tel: 03-89201614 | htm@mykhilafah.com

www.mykhilafah.com

Reference: PR-01985ae5-7d30-7115-bb63-ee74d7584be2