پریس ریلیز
غزہ کے بہادر لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ٹرمپ کے متکبر کے ساتھ نہیں!
(مترجم)
غاصب یہودی ریاست کی جانب سے غزہ میں کی جانے والی نسل کشی کو دو سال ہو چکے ہیں، جو اس نے 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والی عظیم شکست کو چھپانے کے لیے کی تھی۔ دو سال جس میں ہر دن ایک نیا قتل عام اور ناقابل بیان بربریت دیکھنے میں آئی، اور پوری دنیا نے غاصب یہودیوں کی اس وحشت کو دیکھا جس پر عقل یقین نہیں کرتی۔ جہاں بچوں، شیر خواروں، گھروں، اسکولوں، مساجد اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا۔ رہے اسلامی ممالک کے حکمران تو وہ بار بار جمع ہوئے، باتیں کیں اور مذمت کی، پھر منتشر ہو گئے۔ اور ہر مذمت یہودیوں کو مزید جارحیت اور قتل عام کی ترغیب دے رہی تھی۔ یہودی ریاست اس حد تک بڑھ گئی کہ اس نے کئی مہینوں تک غزہ میں روٹی کا ایک لقمہ یا پانی کا گھونٹ داخل ہونے سے روک دیا۔
قاتل غاصبوں نے صرف غزہ پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ شام، لبنان، ایران، یمن اور قطر پر بھی حملہ کیا، پھر تیونس سے روانہ ہونے والے مزاحمتی بحری بیڑے پر حملہ کیا۔ جب یہ سب واقعات رونما ہو رہے تھے، اردگان اور بعض عرب حکمران نیویارک میں امریکہ کے متکبر صدر ٹرمپ کی میز پر مجاہدین کو غیر مسلح کرنے، غزہ پر قبضہ کرنے اور فلسطین سے غداری کرنے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمع ہوئے اور اسے تعریفوں میں ڈبو دیا۔
ہم حزب التحریر / ترکی ولایہ کی جانب سے غزہ پر یہودیوں کی جنگ کی دوسری برسی پر استنبول، انقرہ اور شانلی اورفا میں "ہمیں اقوال نہیں افعال چاہئیں" کے نعرے کے تحت جلوس نکالے، جس میں اسلامی جماعتوں نے شرکت اور حمایت کی اور دسیوں ہزار مسلمانوں نے شرکت کی۔ ہم ان تمام اسلامی جماعتوں کو اللہ جزائے خیر دے جو ہمارے ساتھ چلیں، اور تمام شریک مسلمانوں، علماء اور مبلغین کو جو بغیر کسی خوف کے حق کے ساتھ ڈٹے رہے۔ جلوسوں کے بعد جاری ہونے والے پریس بیانات کے دوران، ہم نے حکمرانوں کو عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے مخاطب کیا: "اے وہ لوگو جو طاقت اور اختیار رکھتے ہو! تم نے مذمت کی، سختی سے انکار کیا، اور بے نتیجہ سفارتی ملاقاتیں کیں، جب کہ لاکھوں معصوم لوگ مارے جا رہے ہیں۔ اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ سب حقیقی یا باز رکھنے والے اقدامات نہیں تھے۔ غاصب یہودیوں کو باتوں سے نہیں روکا جا سکتا، اور وہ نسل کشی جو اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے جوشیلی تقاریر سے ختم نہیں ہوتی، اور غزہ میں مظلوم صرف باتوں سے نہیں بچ سکتے۔ تو یہ اقوال کا نہیں بلکہ افعال کا وقت ہے، اور مطلوبہ مذمتی بیانات نہیں بلکہ عملی اور باز رکھنے والے اقدامات ہیں"۔
ہم نے اقتدار سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے بہادر لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں نہ کہ ٹرمپ کے متکبر کے ساتھ، اور اقوال سے ٹھوس افعال کی طرف منتقل ہوں۔ ہم نے انجرلک اڈے اور کوریجک ریڈار اسٹیشن کو بند کرنے، قابض فوج میں خدمات انجام دینے والے دوہری شہریت کے حامل افراد کی شہریت منسوخ کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے، تجارتی تعلقات منقطع کرنے، غاصب ریاست کے ساتھ مکمل طور پر سفارتی تعلقات منقطع کرنے، اقوام متحدہ کے بے نتیجہ فیصلوں کو مسترد کرنے، غزہ کے لیے انسانی راہداری کھولنے، بحریہ کے ساتھ مزاحمتی بیڑے کی حفاظت کرنے، یہودی ریاست کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے، اور ریاستہائے متحدہ کے دو ریاستی حل کے منصوبے کو دہرانے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔
ہم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مجاہدین کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ فلسطین کی سرزمین پر ایک بھی غاصب باقی نہ رہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس اپیل کے صرف ایک دن بعد، اردگان نے ٹرمپ کے متکبر منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا اور ان کی تعریف کی۔ یہ منصوبہ، جس کی ترکی اور عرب حکومتیں حمایت کر رہی ہیں، غزہ کی مزاحمت کو دہشت گردی سمجھتا ہے اور پورے فلسطین میں قبضے کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ کبھی حقیقت میں نہ آئے۔ اور اللہ کے حکم سے، وہ لوگ جو ٹرمپ سے نجات کی امید کر رہے ہیں وہ بہت مایوس ہوں گے۔
قاتل نیتن یاہو اور غاصب یہودیوں کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے: اے بزدل ذلیل لوگو! مسلمان مائیں اپنے بیٹوں کو تمہارے خلاف نفرت پلا رہی ہیں، باپ اپنے بیٹوں کو تم سے لڑنے کی وصیت کر رہے ہیں، اور نوجوان اس فوج میں شامل ہونے کے لیے دن گن رہے ہیں جو تمہیں شکست دے گی۔ یہ خلافت راشدہ کی فوج ہے، اور اس دن مومنوں کے سینے اللہ کی مدد سے کھل جائیں گے، اور ظالموں کے چہرے تاریک ہو جائیں گے۔
حزب التحریر ولایہ ترکی کا میڈیا آفس