Organization Logo

مصر - المكتب

ولاية مصر

Tel:

info@hizb.net

www.hizb.net

عجائب گھر مصرمیں قرآن کی تلاوت۔۔۔ جب ذکر کو برا اور باطل کو جائز سمجھا جائے!!
Press Release

عجائب گھر مصرمیں قرآن کی تلاوت۔۔۔ جب ذکر کو برا اور باطل کو جائز سمجھا جائے!!

November 14, 2025
Location

پریس ریلیز

عجائب گھر مصرمیں قرآن کی تلاوت

جب ذکر کو برا اور باطل کو جائز سمجھا جائے!!

عجائب گھر مصرمیں ایک نوجوان کی جانب سے فرعون کے متعلق آیات کی تلاوت کرنے پر گرفتاری کے واقعہ نے بڑے پیمانے پر تنازعہ کھڑا کردیا، اس کے بعد بعض سرکاری مذہبی اداروں سے منسلک افراد نے اس فعل پر تنقید کرتے ہوئے اسے "قرآن کے ساتھ بدتمیزی" اور اس میں "ایک خطرناک اشارہ" قرار دیا! یہ واقعہ، اپنی سادگی کے باوجود، فکری اور اخلاقی توازن میں ایک گہری خرابی کو ظاہر کرتا ہے جو آج عام زندگی پر حکمرانی کرتی ہے، اور سیکولر فکر پر مبنی نظاموں کے زیر سایہ لوگوں کے افعال پر حکمرانی کرنے والے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

اس سے پہلے مصر کنانہ میں قائم سیکولر نظام نے اس مسلمان ملک کو، جو اپنے دین، عقیدے اور اپنی عظیم اسلامی تاریخ پر فخر کرتا ہے، اس شرف سے دور کرنا شروع کیا؛ کبھی اس کو نتن عرب قومیت سے منسوب کیا، کبھی گندی وطنیت سے، اور کبھی مشرکانہ فرعونیت سے، اور یہ سب ملک اور بندوں اور ان کے عقائد، تاریخ اور عظیم اسلامی حال کے خلاف جنگ ہے؛ اس لیے نظام کے بھونپوں کی جانب سے اس نوجوان پر قرآن کی تلاوت پر انکار کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ وہ اس سے جنگ کر رہے ہیں اور اس کی آیات کو مٹانا اور شرک فرعونی کے آثار کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔

قرآن کی تلاوت ایک عظیم عبادت ہے، مسلمان کو اس پر اجر ملتا ہے جہاں بھی وہ اسے پڑھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾، اور اس کو کسی خاص جگہ یا کسی خاص زمانے کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا۔ چنانچہ گھر میں، راستے میں، بازار میں، کام کی جگہ پر، اور کسی بھی پاک جگہ پر جہاں ذکر سے منع نہ کیا جائے، پڑھنا جائز ہے۔ بلکہ ان مقامات پر اللہ کا ذکر کرنا جہاں غفلت کا غلبہ ہو، بہت بڑا فضل ہے، تو آج اس بات سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ کسی عجائب گھر میں قرآن پڑھا جائے، جبکہ وہ ایسی جگہ ہے جو نہ تو شرکیہ تقدس رکھتی ہے، نہ اس میں نجاست شامل ہے، اور نہ ہی اس میں کوئی ظاہری منکر قائم کیا جاتا ہے؟!

یہ کہنا کہ عجائب گھر میں فرعون کی کہانی کی آیات کی تلاوت "بدتمیزی" یا "خطرناک اشارہ" ہے، شرع اور عقل کے لحاظ سے باطل ہے۔ قرآن ہدایت کی کتاب ہے، اللہ نے اسے نازل کیا ہے تاکہ ہر زمانے اور ہر جگہ میں لوگ اسے پڑھیں اور اس میں تدبر کریں۔ اور کسی کو بھی اس کی تلاوت سے منع کرنے یا اسے مساجد یا سرکاری تقریبات تک محدود کرنے کا حق نہیں ہے۔ بلکہ اس طرح کی تلاوت ان بادشاہوں کی تاریخ کی نمائش کی جگہ پر اللہ کی آیات کی یاد دہانی ہے جنہوں نے ظلم کیا، اور یہ ایک جائز یاد دہانی ہے جو وعظ و عبرت میں قرآن کے مقصد سے باہر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لأُولِي الألْبَابِ﴾۔ تو کیا عبرت حرام ہوگئی، ذکر مشکوک ہوگیا، اور قرآن اشتباہ کی جگہ بن گیا؟!

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ لوگ جو عجائب گھر میں قرآن پڑھنے والے نوجوان پر تنقید کرتے ہیں، ان کی آواز اس وقت نہیں سنائی دیتی جب اسی جگہ پر موسیقی کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، یا اس میں رقص اور مجسمے اور ایسے گانے پیش کیے جاتے ہیں جن میں باطل کلمات شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ یہ تاریخ کے ساتھ بدتمیزی ہے، یا ثقافت کے خلاف خطرناک اشارہ ہے، لیکن جیسے ہی انہوں نے کتاب اللہ کی آیات سنیں تو ان کے سینے تنگ ہوگئے، اور انہوں نے قاری پر سیاسی اشارے اور پوشیدہ نیت کا الزام لگایا! اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خرابی تلاوت کے فعل میں نہیں ہے، بلکہ قرآن کے بارے میں نفسوں کے موقف میں ہے، سیکولرزم کے عادی دل عام زندگی میں دین کی موجودگی کو صرف سرکاری اجازت اور اقتدار کی ہدایت کی چھت کے نیچے دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے۔

سیکولر فکر جس ذاتی آزادی کا راگ الاپتی ہے، وہ اس پہلے موقف پر مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے جس میں مسلمان اپنے دین سے وابستگی کو اس کے لیے طے شدہ دائرے سے باہر ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ نوجوان کھڑا ہوکر گاتا، موسیقی بجاتا یا ثقافتی تصاویر لیتا تو کوئی اس پر اعتراض نہ کرتا، اور ہوسکتا ہے کہ اس کے فعل کو فنی اظہار یا تہذیب کی بحالی سمجھا جاتا۔ لیکن قرآن پڑھنا ان کے نزدیک جگہ کی تقدس پر تعدی ہے! اس سے بڑا تضاد کیا ہوگا کہ ذکر کو روکا جائے اور اسی جگہ پر کھیل کود کو جائز قرار دیا جائے؟! یہ وہ دوہرا معیار ہے جو آج قائم فکری نظاموں کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے: انسان سے ہر وہ کام قبول کیا جاتا ہے جو وہ چاہے سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی اطاعت کا اظہار کرے۔

پھر عجائب گھر کو "شرک کا گھر" قرار دینا یا اس میں فرعون کی کہانی پڑھنے کو "اساءت" قرار دینا محض سمجھنے میں زیادتی ہے۔ عجائب گھر کوئی ایسی عبادت گاہ نہیں ہے جہاں کسی کی عبادت کی جائے، بلکہ یہ ایک تاریخی نمائش کی جگہ ہے جو مسلمان کو اس میں جابروں اور ظالموں کے انجام کو یاد کرنے سے نہیں روکتی۔ اور اللہ کی سنتوں کی یاد دہانی کرانا اساءت نہیں بلکہ تبلیغ کی تکمیل ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کی کہانیوں کو تمام لوگوں کے لیے عبرت بنایا ہے، نہ کہ صرف مساجد یا دروس کے لیے۔ بلکہ اس طرح کی تلاوت ان لوگوں کا رد ہے جو فرعونی آثار اور تاریخ کو مقدس مانتے ہیں، پس وہ ان کو یاد دلاتی ہے کہ ان سے پہلے جو سرکش ہوئے وہ غرق ہوگئے، اور یہ کہ بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

سلف سے یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے قرآن کی تلاوت کے لیے کچھ خاص مقامات کو دوسروں سے الگ کیا ہو۔ بلکہ وہ ہر حال میں اس کی تلاوت کرتے تھے، یہاں تک کہ جہاد کے میدانوں، سفروں اور بازاروں میں بھی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "قرآن کے حامل کو رات میں پہچانا جانا چاہیے جب لوگ سو رہے ہوں، اور دن میں جب لوگ روزہ دار نہ ہوں۔" چنانچہ جگہ بذات خود مقدس نہیں ہوتی، بلکہ اس میں اللہ کے ذکر سے مقدس ہوتی ہے۔ اور جس نے کسی مباح جگہ پر پڑھنے سے منع کیا تو اس نے بغیر دلیل کے ایک مشروع عبادت کو روک دیا، اور یہ اس چیز پر تحکم ہے جس کا کوئی انسان مالک نہیں ہے۔

یہ واقعہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ اس جدوجہد کی ایک تصویر ہے جو ایک ایسی فکر کے درمیان ہے جو دین کو صرف گوشوں اور شعائر تک محدود کرنا چاہتی ہے، اور ایک ایسی فکر جو دیکھتی ہے کہ اسلام زندگی کا ایک ایسا دستور ہے جو اس کی تمام تفصیلات میں جی جاتا ہے۔ چنانچہ جو آج عجائب گھر میں فرعون کی کہانی کی آیات کی تلاوت پر تنقید کرتا ہے، وہی شہریت اور مذہبی غیرجانبداری کے بہانے عام زندگی کو شریعت کے احکام سے خالی کرنے کو جائز قرار دیتا ہے۔ اس طرح ہوا کی حکمرانی کو اللہ کی حکمرانی سے بدل دیا جاتا ہے، اور آزادیوں کو اس وقت مقدس سمجھا جاتا ہے جب وہ باطل کی خدمت کرتی ہیں، اور اس وقت دبایا جاتا ہے جب وہ حق بولتی ہیں۔

مسلمان کا یہ حق ہے بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ ہر مقام پر اپنے دین کا اظہار کرے، اور جب بھی ممکن ہو لوگوں کو اپنے رب کی بات یاد دلائے۔ قرآن کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے حقیقت سے چھپایا جائے یا سرکاری تقریبات تک محدود رکھا جائے، بلکہ یہ وہ نور ہے جس سے اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کا سینہ اس کی آیات سننے سے تنگ ہو جائے تو اسے جان لینا چاہیے کہ خرابی اس کے دل میں ہے نہ کہ قاری میں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ﴾۔

تو واجب ہے کہ اس شخص کی تکریم کی جائے جس نے اس مقام پر قرآن پڑھا، نہ کہ اسے گرفتار کیا جائے! اور اس شخص پر انکار کیا جائے جو ذکر سے منع کرتا ہے، نہ کہ اس کے لیے جواز پیدا کیا جائے! مسلمان کتاب اللہ کو جہاں چاہے پڑھے، جب تک کہ وہ تلاوت کے آداب کا احترام کرے۔ اور جو شخص ادب یا حساسیت کے بہانے قرآن کو عوامی جگہ سے ضبط کرنا چاہتا ہے، تو وہ ادب کا دفاع نہیں کر رہا، بلکہ اس سیکولرازم کا دفاع کر رہا ہے جو اسلام سے تنگ آ جاتا ہے جب وہ مسجد کی دیواروں سے تجاوز کر جاتا ہے۔

اس طرح، خواہ ظالم امت اسلامیہ کے لیے کتنی ہی جھوٹی شناخت بنانے کی کوشش کریں، اور اسے اس کے عقیدے اور تہذیب سے منقطع کر دیں، وہ اللہ کی تخلیق میں اس کی سنتوں کو نہیں بدل سکتے، اور نہ ہی اس کے اس سچے وعدے کو روک سکتے ہیں کہ سیادت اس کے مومن بندوں کے لیے ہوگی، اور عنقریب ان کی ناک کے باوجود اور ان کے دلوں میں حسرت کے ساتھ نبوت کے طریقے پر خلافت راشدہ ہوگی، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کے سپاہیوں اور گواہوں میں سے بنائے۔

﴿إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

حزب التحریر کا میڈیا آفس

ولایۃ مصر میں

Official Statement

مصر - المكتب

ولاية مصر

مصر - المكتب

Media Contact

مصر - المكتب

Phone:

Email: info@hizb.net

مصر - المكتب

Tel: | info@hizb.net

www.hizb.net

Reference: PR-019a79a8-8e68-7578-84ad-8ee2c9f4280b