ولایۃ مصر: اھالی العریش کی جبری بے دخلی ترقی کے نام پر ایک سیاسی جرم ہے!
العریش میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سرمایہ دارانہ نظام کا بدترین صورت میں براہ راست نفاذ ہے، اور یہ مال، ملکیت اور اقتدار میں اسلام کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس نظام میں ریاست لوگوں کو محض اعداد و شمار کے سوا کچھ نہیں دیکھتی، اور زمین کو سرمایہ کاری کے موقع کے طور پر دیکھتی ہے، اور وقار اور حقوق کی قیمت پر "ترقی" کو ترجیح دیتی ہے۔ مسلمانوں کو ان کی مرضی کے بغیر ان کے گھروں سے نکالنا اور ان کی املاک کو مسمار کرنا، اگرچہ مصری نظام کے مطابق قانونی معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ شرعاً حرام ہے، بلکہ اسے ایک سیاسی جرم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کے حقوق پر ظلم اور زیادتی ہے۔
دفترِ اطلاعات حزب التحریر ولایۃ مصر کی جانب سے جاری کردہ
اتوار، 25 محرم الحرام 1447ھ بمطابق 20 جولائی 2025ء

مزید تفصیلات کے لیے حزب التحریر / ولایۃ مصر کی ویب سائٹس ملاحظہ کیجیے:
حزب التحریر / ولایۃ مصر کی باضابطہ ویب سائٹ
حزب التحریر / ولایۃ مصر کا فیس بک پیج
حزب التحریر / ولایۃ مصر کا ایکس پیج
