امّتِ محمد ﷺ میں اسلام کی غیرت کا کیا کہنا!
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مومن نہیں جو خود تو شکم سیر ہو کر رات گزارے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو۔‘‘ رواہ الحاکم
ہم پر جو مصیبت آئی ہے اس کی ہولناکی سے تو شجر و حجر بھی بول اٹھے ہیں۔ ہمارے سینے خون اور درد سے بھرے ہوئے ہیں، ہمارے بچے بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں، ہماری خواتین مومنوں کی غیرت کو پکار رہی ہیں۔ جو بمباری سے نہیں مرا وہ بھوک اور پیاس سے مر رہا ہے۔لیکن بے بسی کا درد بمباری، بھوک اور پیاس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ غزہ میں آپ کے بھائی بے گھر ہو کر در بدر پھر رہے ہیں، بھوک اور پیاس کی کمزوری سے ان کی آوازیں بند ہو گئی ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے مدد کی امید بھی ختم ہو گئی ہے۔ وہ پکار رہے ہیں: امّتِ اسلام کہاں ہے؟ دین کی غیرت کہاں ہے؟ مومنوں کی مدد کہاں ہے؟
اور دل کو خون کے آنسو رلانے والے "موت کے جال"، وہ مراکز جنہیں جھوٹا نام "انسانی مراکز" دیا گیا ہے، غزہ کے لوگ وہاں جاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ موت کی طرف جا رہے ہیں، لیکن ان کے بچوں اور اہل خانہ کی بھوک انہیں موت کی طرف دھکیلتی ہے اس امید کے ساتھ کہ انہیں تھوڑا سا آٹا مل جائے گا چاہے اس کا رنگ ان کے خون سے سرخ ہی کیوں نہ ہو گیا ہو!
اے مسلمانو:
کیا آپ پر غزہ کے بچوں کی حالت زار آسان ہے جو اپنے والدین کی آنکھوں کے سامنے آہستہ آہستہ مر رہے ہیں اور وہ آنسو بہانے اور حسرتیں پینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے؟!
کیا آپ کے دل قتل و غارت گری کے مناظر سے خوش ہیں؟! یا کیا آپ کو اپنے حکمرانوں کی غداری پسند آئی جنہوں نے آپ کا اور آپ کی قوم کا مقدر امریکہ اور یہودیوں کے ہاتھ میں دے دیا؟! کیا آپ امریکہ اور یہودیوں کے ہاتھوں ہمارا قتل، ہجرت اور اپنے گھروں سے بے دخلی قبول کرتے ہیں؟!
تو کیا اس سے بڑی کوئی غداری ہو سکتی ہے کہ غزہ کے لوگوں کا مقدر ٹرمپ یا نیتن یاہو کے فیصلے پر منحصر کر دیا جائے؟!
اور کیا اس سے بڑی کوئی بے بسی ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے اہل و عیال اور بھائیوں کو ذبح، بھوک اور پیاس کے لیے چھوڑ دیں اور آپ ان کی مدد کرنے کی قدرت رکھتے ہوں؟!
اور کیا اس سے بڑا کوئی جرم ہو سکتا ہے کہ فوجیں اپنی بیرکوں میں رہیں، طیارے اور راکٹ لانچر اپنی جگہوں پر رہیں، اور اللہ کے دشمن "مغضوب علیہم" مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کریں اور ہمارے خون اور عزتوں کو حلال جانیں؟!
یہ عجز کا وہ وہم ہے جو غلام حکمرانوں نے امت میں بو دیا ہے، یہاں تک کہ امت کی فوجیں، علماء اور عام لوگ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے ہیں۔ تو کیا واقعی مصر کی فوج اپنے اہل و عیال کو ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پلا سکتی؟! کیا واقعی اردن کی بہادر فوجیں سرحدیں کھولنے اور مسجد اقصیٰ کو آزاد کرانے کے لیے پیش قدمی کرنے سے قاصر ہیں؟! کیا واقعی پاکستان کی مجاہد فوج مغضوب علیہم کی ریاست پر میزائلوں کی بارش کرنے سے قاصر ہے جو انہیں بھوسے کی طرح کر دے؟!
اور ترکی، عراق، حجاز، الجزائر... وغیرہ کی فوجوں کا کیا حال ہے؟ کیا وہ سرحدیں توڑنے، فلسطین اور رسول اللہ ﷺ کی مسجد اقصیٰ کو بچانے سے قاصر ہیں؟!
آہ امت اسلام پر، اگر وہ اٹھ کھڑی ہوتی اور غزہ اور سرزمین مبارک کی طرف اسی طرح بڑھتی جس طرح قبائل سویداء الشام کی طرف اپنے بیٹوں اور عزتوں کی حفاظت کے لیے بڑھے تھے تو "مغضوب علیہم" الٹے پاؤں بھاگ جاتے اس ڈر سے کہ امت اسلام کے انتقام ان تک پہنچ جائیں گے۔
اے امت اسلام، اے بہترین امت جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے:
اپنے ایمان میں اللہ تعالیٰ سے سچائی اختیار کرو، اپنی مدد میں اللہ تعالیٰ سے سچائی اختیار کرو، اپنے موقف میں اللہ تعالیٰ سے سچائی اختیار کرو، کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمہارے دین کو قائم کرنے، تمہارے بھائیوں کی مدد کرنے اور تمہاری مسجد اقصیٰ کو آزاد کرانے کا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ تم اپنے بزدل اور غلام حکمرانوں کے تختے الٹ دو، سرحدیں توڑ دو اور مسجد اقصیٰ کی طرف بڑھو۔
اس لیے امت اسلام کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے معاملات کو مضبوط کرے، اپنی فوج کو حرکت میں لائے، اور ان تختوں کو الٹ دے جنہوں نے یہودیوں اور امریکیوں کے ساتھ مل کر غزہ کو بھوکا رکھا ہے، امت اسلام کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر لبیک کہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ * إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَاباً أَلِيماً وَيَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئاً وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾۔
اے اللہ ہم تجھ سے اپنی کمزوری، اپنی بے بسی اور لوگوں کے سامنے اپنی ذلت کی شکایت کرتے ہیں، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے، تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہمیں کس کے سپرد کرتا ہے؟ کیا کسی دور والے کے جو ہم سے ترش روئی کرے یا کسی دشمن کے جسے تو نے ہمارا معاملہ سونپ دیا؟ اگر تجھے ہم پر غصہ نہیں ہے تو ہمیں کوئی پرواہ نہیں، لیکن تیری عافیت ہمارے لیے زیادہ وسیع ہے، ہم تیری ذات کے اس نور کی پناہ مانگتے ہیں جس سے اندھیرے روشن ہو گئے، اور جس سے دنیا اور آخرت کے معاملات درست ہو گئے اس بات سے کہ تو ہم پر اپنا غضب نازل کرے، یا ہم پر تیری ناراضگی نازل ہو، تیری رضا تک تجھے راضی کرنا ہے، اور کوئی طاقت و قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے۔
اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔