پریس ریلیز
ٹرمپ کی ڈھٹائی کا جواب دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام سے دیا جائے!
(مترجم)
ایک بار پھر، ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان حکومت اور مسلمانوں کے خلاف ایک متکبرانہ اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا: "اگر طالبان نے بگرام ایئربیس اسے تعمیر کرنے والے یعنی امریکہ کے حوالے نہیں کیا تو برے نتائج ہوں گے۔"
حزب التحریر/ولایہ افغانستان کا میڈیا آفس ٹرمپ کے بیانات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اور اس سلسلے میں کسی بھی معاہدے کو اسلام، جہاد اور شہداء کے خون سے غداری سمجھتا ہے، اور خبردار کرتا ہے کہ امریکہ کی کسی بھی تجدید شدہ موجودگی - اس کا نام کچھ بھی ہو - افغانستان کو استعماری طاقتوں کی باہمی کشمکش کے میدان میں تبدیل کر دے گی۔
ٹرمپ کے بیانات کو افغان حکام پر سیاسی، اقتصادی یا سلامتی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش، یا خطے کے ممالک کے لیے ایک دھمکی کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ لیکن جو چیز واضح ہے وہ افغانستان کے تئیں ان کی استعماری ذہنیت ہے۔ بگرام ایئربیس، جو دسیوں ہزار امریکی فوجیوں کا مرکز تھا اور خطے میں امریکہ کی طاقت کی علامت تھا، افغانستان میں امریکہ کی شکست کے بعد خالی کر دیا گیا۔ بگرام سے امریکہ کا انخلاء صرف فوجی موجودگی کا خاتمہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ علاقائی اور عالمی سطح پر امریکہ کی طاقت اور اثر و رسوخ میں کمی کی علامت بھی تھی، یہ ایک ایسی شکست ہے جو اب ٹرمپ کے دل کو چاٹ رہی ہے۔ اس دوران، کچھ مقامی اور غیر ملکی عناصر، رابطے یا سیاسی دباؤ کے ذریعے، حکمرانوں کے کچھ اسلامی معیارات کو تبدیل کرنے اور انہیں اس معاملے میں سمجھوتہ کرنے، پیچھے ہٹنے یا سودے بازی کرنے پر اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا، یا یہاں تک کہ فوجی واپسی، افغانستان کو فائدہ پہنچائے گی، وہ سخت غلطی پر ہے۔ یہ وہی دھوکہ ہے جس نے غدار عرب حکمرانوں کو امریکہ کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور کیا، اور یہ وہی منطق ہے جو ریپبلکن حکمرانوں نے پیش کی، اور یہ منطق ذلت، فرار، ٹوٹ پھوٹ اور اسلام سے دوری کے سوا کچھ نہیں لائی۔
اسلامی سرزمین مسلمانوں کی ملکیت ہے، اور ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اسلامی شریعت کو حاصل ہے۔ امریکہ ایک جنگجو ریاست ہے، جو نہ صرف اصولی اور سیاسی مخالفت میں کھڑی ہے، بلکہ امت مسلمہ، بلکہ پوری انسانیت کے خلاف فوجی دشمنی میں بھی کھڑی ہے۔ امریکہ نے اعلانیہ طور پر غزہ میں یہودیوں کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی حمایت کی ہے، اور اب وہ مزید مسلمانوں کو قتل، بے گھر اور بھوکا مارنے کے مقصد سے اسے 6.4 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے لیے ایک معاہدہ تیار کر رہا ہے۔ ان ظالم اور متکبر لوگوں کا اسلام کے نزدیک کیا جواب ہے سوائے اللہ کی راہ میں جہاد کے؟
افغانستان کے حکمرانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہے تاکہ شکر گزاروں کو ناشکروں سے جدا کیا جائے۔ انہیں چاہیے کہ منظم طریقے سے معاشرے میں اسلام، مزاحمت اور جہاد کی روح کو زندہ کرنے کے لیے کام کریں۔ انہیں اپنے لیے اور معاشرے کے لیے ذلت اور دنیا کی محبت سے بچنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے جب آپ سے پوچھا گیا کہ الْوَهْنُ کیا ہے؟ فرمایا: «حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ»، یہ صفات مسلمانوں کے دلوں سے دشمن کا خوف نکال دیتی ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ دھمکی دے رہا ہے اور حکمران نظام کو نتائج سے ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شیطان بھی وسوسہ ڈالتا ہے اور بعض اعمال کے نتائج سے خوف پھیلاتا ہے۔ ہمیں ایسے شیطانی اور متکبرانہ اقوال کو اپنے دلوں میں خوف بھرنے یا ہمیں تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾۔
یاد رکھو: جب تک ہم جدید قومی ریاست اور اس کے موجودہ سیاسی معیارات کے دائرے میں محدود رہیں گے، ہماری جہادی روح کمزور ہو جائے گی، اور بین الاقوامی نظام سے قربت حاصل کرنے کی ہماری کوشش ہمیں افغانستان میں استعمار کی تاریخ کو دہرانے کے خطرے سے دوچار کر دے گی۔ دشمن مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے دھوکہ دہی، فریب اور منصوبہ بندی کے استعمال پر اصرار کرتے ہیں۔ لہٰذا، جب تک ہم ایک ایسا سیاسی قطب قائم نہیں کرتے جس کا محور اسلام اور امت مسلمہ ہو، اور جب تک ہم خلافتِ راشدہ کو دوبارہ قائم نہیں کرتے، دشمن بدستور ہمیں ڈھٹائی سے دھمکیاں دیتا رہے گا اور ہماری سرزمین پر قبضے کا اعلان کرتا رہے گا۔
حزب التحریر ولایہ افغانستان کا میڈیا آفس