تازہ ترین پوسٹس

نمایاں مضمون

null

null

مزید پڑھیں
کب رگوں میں خون جوش مارے گا اور کسی بھی جارحیت کی حد بندی کی جائے گی اور دشمنوں کے ہاتھ کاٹے جائیں گے؟!

کب رگوں میں خون جوش مارے گا اور کسی بھی جارحیت کی حد بندی کی جائے گی اور دشمنوں کے ہاتھ کاٹے جائیں گے؟!

وزارت صحت نے غزہ کی پٹی پر یہودی جارحیت کے نتیجے میں 23/07/2025 کو شہداء اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں اپنی یومیہ شماریاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 113 شہداء اور 534 زخمی ہسپتالوں میں پہنچے ہیں۔ 18 مارچ 2025 سے بیان کی تاریخ تک شہداء اور زخمیوں کی تعداد 8363 شہداء اور 31004 زخمی ہو چکی ہے، اور اس طرح 7 اکتوبر 2023 سے جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 59219 اور زخمیوں کی تعداد 143045 تک پہنچ گئی ہے۔

کوشی نیوز: سیاسی مباحثہ بعنوان: (خون کی سرحدوں کا منصوبہ اور دارفور کو علیحدہ کرنے کا جرم)

کوشی نیوز: سیاسی مباحثہ بعنوان: (خون کی سرحدوں کا منصوبہ اور دارفور کو علیحدہ کرنے کا جرم)

دفترِ اطلاعات حزب التحریر ولایہ سوڈان نے ہفتہ، 01 صفر 1447 ہجری، بمطابق 26/07/2025 کو استاذ محمد جامع ابوأیمن، معاون ترجمان حزب التحریر ولایہ سوڈان کی میزبانی کی، جو ماہانہ دوسرے سیاسی مباحثے میں مہمان تھے، جس کا عنوان تھا: (خون کی سرحدوں کا منصوبہ اور دارفور کو علیحدہ کرنے کا جرم)، یہ مباحثہ پارٹی نے اپنے دفتر واقع پورٹ سوڈان، حی العظمہ میں منعقد کیا۔

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا دفتر کا خواتین ونگ ایک عالمی مہم شروع کر رہا ہے بعنوان: "سوڈان کی جنگ: نوآبادیات، غداری اور مایوسی کی کہانی"

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا دفتر کا خواتین ونگ ایک عالمی مہم شروع کر رہا ہے بعنوان: "سوڈان کی جنگ: نوآبادیات، غداری اور مایوسی کی کہانی"

سوڈان میں سوڈانی مسلح افواج کے سربراہ، سوڈان کے ڈی فیکٹو حکمران، لیفٹیننٹ جنرل عبد الفتاح البرہان اور محمد حمدان دقلو "حمیدتی" کی قیادت میں نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان وحشیانہ جنگ، جو سابق میں کونسل آف سیوریٹی میں البرہان کے نائب تھے، اب تیسرے سال میں داخل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق اس فضول جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 150,000 تک پہنچ گئی ہے، جس میں دونوں طرف سے سنگین مظالم ڈھائے گئے ہیں،

غزہ کا محاصرہ مصری حکومت کی غداری کا ثبوت ہے

غزہ کا محاصرہ مصری حکومت کی غداری کا ثبوت ہے

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ قحط کے پانچویں مرحلے (تباہ کن بھوک کے مرحلے) میں داخل ہو چکا ہے۔ ہر جگہ کے مسلمان اپنے بھائیوں کو عطیات سے مدد دینے اور ان پر سے محاصرہ توڑنے کے لیے قافلے روانہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں پڑوسی ممالک بے حس تماشائی بنے ہوئے ہیں، خاص طور پر مصر جس کی غزہ کے ساتھ سرحدیں ہیں، لیکن اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا اور صرف ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ کیا مصر واقعی غزہ کے لوگوں کی مدد کرنے سے قاصر ہے؟

199 / 10603