امریکہ کے 2003ء میں عراق پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک عراق مسائل میں گھرا ہوا ہے، اور اس کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ یہ سب اس سیاسی نقشے کا نتیجہ ہے جسے امریکی قابض نے تیار کیا اور مسلط کیا۔ اس نے نظام کے بنیادی قواعد وضع کیے اور ملک کا سیاسی نقشہ کھینچا، اور عراقی عوام کو یہ دھوکہ دیا کہ اس نظام سے پیدا ہونے والے مسائل کا علاج ووٹ ڈالنا ہے۔ اس لیے کوئی تعجب نہیں کہ عراق میں امریکی ایلچی مارک ساویہ نے عراقیوں کو پارلیمانی انتخابات کی کامیابی پر مبارکباد دی اور اس بات پر زور دیا کہ "عراقی عوام نے ایک بار پھر آزادی، قانون کی حکمرانی اور مضبوط ریاستی اداروں کے لیے اپنی وابستگی کا ثبوت دیا ہے!"