کیسے نبی ﷺ کا جشن منائیں وہ جو آپؐ کے طریقے پر عمل نہیں کرتے؟!
خبر:
وزیرِ اعظم کی جانب سے صنعاء میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ منانے کے منصوبے کی منظوری جس کا مقصد یمن کے لوگوں کی رسول محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وسلم سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرنا ہے۔ (جریدة الثورة، 2025/8/6)
تبصرہ:
صنعاء اور حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں عید میلاد النبی ﷺ کا جشن مختلف سرگرمیوں، گلیوں میں لائٹنگ اور سبز جھنڈوں سے سجاوٹ کے ذریعے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد نبی ﷺ سے محبت کا اظہار کرنا ہے۔ ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی مسلمان نے ایسا عمل کیا ہو جو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت نہ کرتا ہو۔ آپؐ ہماری محبت، ہمارے دل کی دھڑکن، ہمارے رہنما، ہمارے اسوہ حسنہ اور ہمارے رب کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾، یقیناً رسول اللہؐ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔ نبی ﷺ کی محبت ایک اصل ہے، نہ کہ متضاد نعرے، اور آپؐ کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپؐ کی اطاعت کی جائے، اس چیز کو تسلیم کیا جائے جو آپؐ اپنے رب کی طرف سے لائے ہیں، آپؐ کی شریعت کی پابندی کی جائے اور آپؐ کے طریقے پر چلا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ترجمہ: کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ جو چیز ہم دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ کا احیاء محض ایک رسمی چیز ہے؛ نہ تو حوثی اسلام کے مطابق حکومت کرتے ہیں اور نہ ہی ان سرگرمیوں میں اس کے نفاذ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ شور و غل جماعت کے افراد کی وابستگی اور اس کے ساتھ وفاداری کے اظہار کا پیمانہ ہے۔
ہر سال یہ سرگرمیاں اور مظاہر تقریباً ایک مہینہ تک جاری رہتے ہیں اور ان میں نبی اسلام کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق حکومت قائم کرنے کے آپؐ کے طریقے کا ذکر نہیں ہوتا۔ اس تمام شور و غل اور میڈیا کی تشہیر کا مقصد حکمران نظام کی اصل میں موجود انحراف کو برقرار رکھنا ہے جو اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ موجودہ نظام اصلاً ایک جمہوری سیکولر نظام ہے جو معیشت، سیاست اور تعلیم میں اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے سے انکار کرتا ہے کیونکہ یہ حاکمیت شریعت کو نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کو دیتا ہے اور ایک غیر اسلامی دستور نافذ کرتا ہے، اور اس طرح کافر مغرب کی تابعداری کو مستحکم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أفحكم الْجَاهِلِيَّةِ يَبغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمَا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾. ترجمہ: کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟
حکومت کے لیے بہتر تھا کہ وہ معیشت میں مغربی تسلط سے نجات کے لیے ایک منصوبہ منظور کرتی بجائے اس کے کہ سودی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے منسلک رہے جو لوگوں پر بوجھ ڈالتا ہے اور ممالک کے اہم فیصلوں کو کنٹرول کرتا ہے! اور سیاسی فیصلے کی آزادی کا منصوبہ منظور کرتی بجائے اس کے کہ اقوام متحدہ کے قوانین اور اس کے طاغوتی فیصلوں کی پابندی کرے جو تمام علامتی ریاستوں کو پابند کرتے ہیں اور اپنے قوانین کے ذریعے کافر مغرب کی خدمت کرتے ہیں! اور مغربی تعلیم کی بنیادوں کو ختم کرنے اور ریاست میں تعلیم کو اسلامی عقیدے کی بنیاد پر ترقی دینے کا منصوبہ منظور کرتی تاکہ اس کے ذریعے اسلامی شخصیات بنائی جا سکیں بجائے اس کے کہ مغربی، قومی اور تعصب پر مبنی ایسے نصاب بنائے جائیں جو امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جن میں یونیورسٹیوں، کالجوں، انسٹیٹیوٹس اور تمام تعلیمی مراکز میں معیشت کے حوالے سے استعماری افکار شامل ہیں!
اے یمن کے بیٹو: صرف قومی سرگرمیوں کو مذہبی یا فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں تبدیل کرنا کافی نہیں ہے! آج غزہ، شام، لبنان، کشمیر، سوڈان، ترکستان شرقی اور دیگر مسلم ممالک میں امت کا خون بہایا جا رہا ہے، اور وہ یہاں وہاں ہونے والے جشنوں کو دیکھ رہی ہے! اس کا واحد حل یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست قائم کی جائے جو اللہ کی شریعت کے مطابق حکومت کرے، اور یمن یا کسی بھی اسلامی ملک کو سیکولر نظاموں اور مغرب کی غلامی سے مکمل طور پر آزاد ہوئے بغیر پاک نہیں کیا جا سکتا، اور نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے لیے کام کرنا ضروری ہے جو اپنی تمام پالیسیوں میں اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے کو مرکز نگاہ بناتی ہے۔ تب ہی نبی ﷺ کی تعظیم اور آپؐ کے لائے ہوئے طریقے کی تعظیم حاصل ہو گی، مسائل حل ہوں گے، مقدس مقامات آزاد ہوں گے، ممالک متحد ہوں گے اور پیغام پہنچایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ﴾. ترجمہ: اور یہ کہ تم ان کے درمیان اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ان سے ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں اللہ کی نازل کردہ بعض چیزوں سے ہٹا نہ دیں، پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو جان لو کہ اللہ ان کو ان کے بعض گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے، اور بے شک لوگوں میں سے اکثر نافرمان ہیں۔
مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا
سیف مرزوق – ولایة یمن