کیوں سعودی شہزادے ترکی الفیصل ایک یہودی میڈیا مہم چلا رہے ہیں؟
(مترجم)
خبر:
سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے 1 اگست 2025 کو روسیا نیوز عربی کو انٹرویو دیتے ہوئے غزہ کی صورتحال پر کہا کہ "کیان یہود کے خلاف ایک جامع عرب جنگ ایک ہاری ہوئی جنگ ہوگی، اور ہر کوئی کیان یہود کی فوجی طاقت کو جانتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "عالم عرب ہمیشہ امن کا انتخاب کرتا ہے، اور وہ جنگ کا انتخاب کرکے اپنے آپ سے متصادم نہیں ہوسکتا۔" (ماخذ)
تبصرہ:
ترکی الفیصل کے بیانات اسلامی ممالک میں حکمران اشرافیہ کے اندر ایک بحران کی نمائندگی کرتے ہیں، ایک ایسا بحران جو حد سے زیادہ بزدلی، نفسیاتی شکست اور امریکہ اور مغرب کی مرضی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی خصوصیت رکھتا ہے۔ ایسے وقت میں جب اسلامی ممالک ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں، اور غزہ کو بچانے کے لیے مسلمانوں کی فوجوں کو حرکت دینے کے عوامی مطالبات بڑھ رہے ہیں، حکمران، اپنے اعمال اور میڈیا کے ذریعے، اعلانیہ طور پر اسلام کے دشمنوں کے ساتھ صف بندی کا اعلان کرتے ہیں۔ اور جب شہزادہ ترکی کے بیانات سنے جاتے ہیں، جو سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سب سے طویل عرصے تک سربراہ رہے، تو ایک مشہور جملہ ذہن میں آتا ہے: "بزدل ہزار بار مرتا ہے۔"
یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ حکمران اور ان کے میڈیا کی جانب سے کیان یہود کی اصل میں کمزور طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بلکہ اس کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہمیشہ اس کے بقا کا ایک بنیادی ستون رہا ہے۔ اور اس مہم کو غدار حکمران مغرب میں اپنے آقاؤں کی مدد سے چلا رہے ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کی طاقتور فوجوں اور رائے عامہ کو سرزمین مقدس فلسطین کو آزاد کرانے کے خیال کو اپنانے سے روکنا ہے۔ کیان یہود کے سرپرستوں نے، یہاں تک کہ بیرون ملک سے بھی، اس کی فوجی برتری کی ایک افسانوی داستان بنانے کے لیے یہود کے ساتھ عربوں کی جنگیں منظم کیں، تاکہ عرب اس کی شکست ناممکن ہونے پر قائل ہوجائیں اور اس کے وجود کو تسلیم کریں۔ لہذا، یہ ایجنٹ حکمران امت کو اپنی طرح مایوسی اور شکست میں غرق کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن حقیقت کا بغور جائزہ لینے سے ایک ایسا نتیجہ اخذ ہوتا ہے جو ترکی الفیصل امت کو قائل کرنا چاہتا ہے اس سے بالکل مختلف ہے۔ تو پھر مسلمانوں کی اتنی بڑی فوجیں، جن کے پاس ساز و سامان اور ہتھیار موجود ہیں، ایک ایسے کیان کے مقابلے میں کیسے شکست کھا سکتی ہیں جو اپنے ارد گرد کے مسلم علاقوں کے مقابلے میں جغرافیائی، فوجی اور صنعتی صلاحیتوں میں کمزور ہے؟! اور تقابلی اعداد و شمار اس موقف کی حمایت کرتے ہیں:
| بحری اثاثے | طیاروں کی کل تعداد | فوجی اہلکاروں کی کل تعداد | ملک/علاقہ | |
| 121 | 1,399 | 1,704,000 | پاکستان | 1 |
| 182 | 1,083 | 883,900 | ترکی | 2 |
| 303 | 2,482 | 2,587,900 | مجموعہ (پاکستان اور ترکی) | |
| مشرق وسطی کے ممالک | ||||
| 150 | 1,093 | 1,220,000 | مصر | 1 |
| 32 | 917 | 407,000 | سعودی عرب | 2 |
| 27 | 274 | اردن | 3 | |
| 123 | 128 | 103,500 | کویت | 4 |
| 181 | 551 | 207,000 | متحدہ عرب امارات | 5 |
| 27 | 207 | 270,000 | شام | 6 |
| 64 | 132 | 129,900 | بحرین | 7 |
| 22 | 128 | 152,600 | عمان | 8 |
| 33 | 84 | 86,700 | یمن | 9 |
| 64 | 80 | 160,000 | لبنان | 10 |
| 723 | 3,594 | 2,529,700 | مجموعہ (عرب ممالک) | |
| 62 | 611 | 670,000 | ریاست یہود | |
یہود کی حالیہ فوجی مہموں کا مطالعہ ان کی حقیقی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے: وہ مغربی حمایت کے بغیر کوئی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ گولہ بارود کی فراہمی اور جنگ بندی پر بات چیت کرنے کے لیے مداخلت کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ریاست یہود 12 دن تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران بیلسٹک میزائلوں سے ایران کے محدود ردعمل کو جذب کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، حالانکہ عرب حکمرانوں نے اپنے طیاروں کے لیے فضائی راہداری فراہم کی، اور امریکی میزائل شکن نظاموں نے بہت سے ایرانی میزائلوں کو روکا۔ اور جب یہود کے نقصانات بڑھنے لگے اور ان کے بڑے شہروں میں انفراسٹرکچر ملبے کا ڈھیر بن گیا تو واشنگٹن کو ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کرکے جنگ ختم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
غزہ میں ریاست یہود نے ان خوفناک مظالم کے باوجود امت کے عزم کو نہیں توڑا جو اس نے کیے۔ وہ اپنے فوجی آپریشنوں کے ذریعے اپنے قیدیوں کو آزاد کرنے سے قاصر ہے، اس لیے اس نے مدد کے لیے قطر اور مصر کے ایجنٹ حکمرانوں سے رجوع کیا۔ غزہ میں اب بھی بہت سے یہودی قیدی مجاہدین کی گرفت میں ہیں۔ نیز، کیان غزہ، لبنان اور شام میں اپنی سرحدوں کو وسعت دینے کے لیے بے تابی سے کوشاں ہے تاکہ بفر زون قائم کیے جاسکیں، کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ عرب فوجوں کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا، اور اگر مسلمانوں کی فوجیں اس کی شمالی سرحدوں کی طرف بڑھیں تو وہ حیرت کے عنصر کو کم کرنا چاہتا ہے۔
تو پھر ترکی الفیصل نے یہ غیر منطقی بیانات کیوں جاری کیے، حالانکہ وہ سادہ لوح نہیں ہیں اور وہ کیان یہود کی کمزوری کو جانتے ہیں؟ جواب آسان ہے: امت مسلمہ کے درمیان فوجوں کو یہود کے خلاف جہاد کی طرف دھکیلنے کے لیے بڑھتا ہوا عوامی دباؤ حکمرانی کے ایوانوں تک پہنچ گیا ہے۔ غدار حکمران محسوس کر رہے ہیں کہ زمین ان کے قدموں تلے لرز رہی ہے، اور وہ فوجوں میں بڑھتے ہوئے غصے سے خوفزدہ ہیں، اس لیے انہوں نے اپنے میڈیا کے ذریعے اس جذبے کا مقابلہ کرنے کا سہارا لیا ہے۔ مصری صدر "جنرل" السیسی نے حال ہی میں غزہ میں بھوک مری کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا، جو اس قتل عام سے انکار کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی، یہ بھول گئے کہ وہ جنوب سے ناکہ بندی کر رہے ہیں۔
امت مسلمہ اچھی طرح جانتی ہے کہ ہمارے حکمران ہمارے لیے سب سے بڑی مصیبت ہیں، کیونکہ وہ غیر ملکی جارحیت کے خلاف ڈھال بننے کے بجائے مجرم حملہ آوروں کے ساتھ صف بندی کرتے ہیں۔ یہ حکمران اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر اپنی مصنوعی سرحدوں اور نام نہاد قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے دوست ہیں، اور ان سے کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ مسلمانوں کی اصل امید مخلص افسران اور سپاہیوں میں ہے جو یہود سے لڑنے اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ غزہ کے بھوکے بچوں کی خوفناک تصاویر نے سپاہیوں کے اپنے حکمرانوں پر غصے میں اضافہ کر دیا ہے، اور یہ ایجنٹ حکمران فوجوں میں عظیم بیداری کے خطرے کو محسوس کر رہے ہیں۔ ہمیں مخلص رہنماؤں اور سپاہیوں کے جذبات کو بیدار کرنا جاری رکھنا چاہیے یہاں تک کہ یہ بیداری ایک سیلاب میں تبدیل ہو جائے جو غداری کے تختوں کو بہا لے جائے۔ اور وہ دن دور نہیں جب امت اور اس کی فوجیں یہود سے لڑیں گی، ان پر فتح حاصل کریں گی اور مسجد اقصیٰ کو آزاد کرائیں گی۔ اور اس وقت، منافقین جیسے ترکی الفیصل مسجد اقصیٰ سے امت اور اس کے سپاہیوں کی تکبیریں سنیں گے، لیکن ان کے پاس دنیا اور آخرت میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔
ابو الزناد نے روایت کی ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جب موت کے قریب تھے تو روئے اور کہا: "میں نے اتنی جنگیں لڑی ہیں کہ میرے جسم میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تلوار سے وار یا تیر سے زخم نہ ہو، اور میں اپنے بستر پر اونٹ کی طرح مر رہا ہوں، تو بزدلوں کی آنکھیں نہ سوئیں!" ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، اور مسلمان ان کو قتل نہیں کریں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو، سوائے غرقد کے کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے» (صحیح بخاری)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے
محمد سلجوق - صوبہ پاکستان