مع الحديث الشريف - "الخمر مفتاح كل شر"
نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
سریع الدعم فورسز نے ہفتہ 26/07/2025 کو سوڈان میں قائم حکومت کے متوازی ایک حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا، یہ اعلان جنوبی دارفر (نیالا) کے دارالحکومت میں کیا گیا۔ سریع الدعم فورسز کا یہ اقدام، دارفر صوبے کو تقسیم کرنے کی جانب ایک پیش قدمی ہے، جس پر ان کا کنٹرول ہے، سوائے الفاشر شہر کے کچھ حصوں کے، جس کا انہوں نے ایک سال سے زائد عرصے سے سخت محاصرہ کر رکھا ہے، اور اس پر مسلسل حملے کر رہے ہیں تاکہ اسے گرا سکیں، یہاں تک کہ پورا دارفر صوبہ ان کے کنٹرول میں آ جائے۔
مزید پڑھیں ←نحييكم جميعا أيها الأحبة المستمعون في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
حزب التحریر/ولایہ سودان کی جانب سے دارفور کو الگ کرنے کے امریکی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے منعقد کی جانے والی مہم کے ضمن میں، حزب نے آج بروز سوموار 17 صفر 1447 ہجری، بمطابق 11/08/2025 کو پورٹ سوڈان شہر کے سوق الکبیر میں فندق الحرمین کے سامنے ایک سیاسی خطاب کا انعقاد کیا، جس کا عنوان تھا: (امت کی وحدت اور ریاست کی وحدت اہم مسائل میں سے ہے)۔ اس میں استاد محمد جامع ابو ایمن نے حاضرین کے جم غفیر کو ایک سخت پیغام دیا، جس میں کفار نوآبادیات کی جانب سے بلاد المسلمین کو برنارڈ لیوس منصوبے کے ذریعے تقسیم کرنے کی سازش کو واضح کیا۔
اتوار کی شام، 10 اگست 2025 کو غزہ شہر میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے سامنے ایک چھوٹا سا میڈیا خیمہ یہودی ریاست کی براہ راست بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں پانچ صحافی شہید ہو گئے جو غزہ میں جاری نسل کشی کی دستاویزی فلم بنا رہے تھے۔ شہداء میں رپورٹر انس الشریف، محمد قریقع، اور فوٹوگرافر ابراہیم زاہر، مؤمن علیوہ، اور محمد نوفل شامل تھے، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین میں شمار کرے، اور وہ بہترین ساتھی ہیں۔
جب سے ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سوڈان کی فائل سنبھالی ہے، وہ سوڈان میں فوجی اور سیاسی کارروائیوں کی قیادت کر رہی ہے، اور دارفور کے علاقے کو الگ کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بدھ کے روز، 2025/03/26 کو، فوج نے خرطوم پر دوبارہ قبضہ کر لیا، اور اس وقت البرہان نے صدارتی محل سے کہا: "خرطوم آزاد ہے اور یہ ختم ہو گیا"،
کسی بھی ریاست کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے باشندے ایک ہی قدم اٹھاتے ہیں، وہ ہے اس کے لیے زندہ رہنا یا اس کے لیے مرنا۔ امریکہ نے اپنی جنوبی ریاستوں کی بغاوت کے دوران سخت اقدامات کیے، اور ایک بے رحم جنگ شروع کی، جس میں چھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، اور یہ سب امریکی جنوبی ریاستوں کو علیحدہ ہونے سے روکنے کے لیے تھا۔
حزب التحریر / ولایہ سوڈان کی جانب سے دارفور کو تقسیم کرنے کے امریکی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے منعقد کی جانے والی مہم کے ضمن میں، حزب نے آج شام، پیر 17 صفر 1447 ہجری، بمطابق 11/08/2025، پورٹ سوڈان شہر کے بڑے بازار میں فندق الحرمین کے سامنے ایک سیاسی خطاب کا انعقاد کیا، جس کا عنوان تھا: (امت کا اتحاد اور ریاست کا اتحاد اہم مسائل میں سے ہیں)۔
جب سے ٹرمپ انتظامیہ نے نومبر/جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سوڈان کی فائل سنبھالی ہے، وہ سوڈان میں فوجی اور سیاسی کارروائیاں کر رہی ہے، اور دارفور کے علاقے کو الگ کرنے کی سمت دھکیل رہی ہے۔ بدھ، 26/03/2025 کو فوج نے خرطوم پر دوبارہ قبضہ کر لیا، اور اس وقت برہان نے صدارتی محل سے کہا: "خرطوم آزاد ہے اور معاملہ ختم ہو گیا ہے۔"
حزب التحریر کی جانب سے دنیا بھر میں غزہ اور عموم فلسطین (دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک) میں ہمارے اہل خانہ کی مدد اور نصرت کے لیے منعقد کی جانے والی عالمی سرگرمیوں کا ایک منظر، یہ سلسلہ گذشتہ 22 مہینوں سے جاری وحشیانہ قتل عام (نسل کشی) کے نتیجے میں شروع کیا گیا ہے، جو مجرم یہودی ریاست کی جانب سے غزہ کی پٹی میں نہتے مسلمانوں کے خلاف کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 210,000 سے زائد مسلمان شہید، زخمی اور لاپتہ ہو چکے ہیں۔
حزب التحریر/ولایہ سوڈان میں ہمیں خوشی ہے کہ ہم میڈیا کے بھائیوں، سیاستدانوں اور عوامی امور میں دلچسپی رکھنے والوں کو پریس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیں، جس میں حزب التحریر کے ولایہ سوڈان کے سرکاری ترجمان اس عنوان سے خطاب کریں گے: