150 عاما من الإصلاح و70 عاما من الأهداف!  (مترجم)
150 عاما من الإصلاح و70 عاما من الأهداف!  (مترجم)

الخبر:   تم اتخاذ خطوات على قدر كبير من الأهمية في تنظيمات بنية القوات المسلحة التركية كما أشار إلى ذلك بن علي يلدريم رئيس الوزراء بقوله "150 عاما من الإصلاح". حيث إن رئاسة الأركان الموجودة إلى جانب وزارة الدفاع مقابل البرلمان التركي، انتقلت من المركز. فقط وزير الدفاع سيقدم الخدمة في هذا الحرم. [المصدر: صباح، 2016/08/03م]

0:00 0:00
Speed:
August 05, 2016

150 عاما من الإصلاح و70 عاما من الأهداف! (مترجم)

150 عاما من الإصلاح و70 عاما من الأهداف!

(مترجم)

الخبر:

تم اتخاذ خطوات على قدر كبير من الأهمية في تنظيمات بنية القوات المسلحة التركية كما أشار إلى ذلك بن علي يلدريم رئيس الوزراء بقوله "150 عاما من الإصلاح". حيث إن رئاسة الأركان الموجودة إلى جانب وزارة الدفاع مقابل البرلمان التركي، انتقلت من المركز. فقط وزير الدفاع سيقدم الخدمة في هذا الحرم. [المصدر: صباح، 2016/08/03م]

التعليق:

بدأت أمريكا بمطاردة زمرة من الأشخاص بعد محاولة الانقلاب الفاشل في 15 تموز، حيث تم إيقاف 10 آلاف و137 شخصاً واعتقال 18 ألفاً و699 شخصاً حتى الآن. ووصل عدد الأشخاص الذين تم طردهم من أعمالهم إلى 70 ألفاً. ربما تكون هذه هي المرة الثانية في التاريخ السياسي التركي التي يتم فيها إجراء عملية تطهير بهذا الحجم.

تم اعتقال العديد من المدنيين والعسكريين من جميع المستويات الحكومية أو صرفهم من عملهم ضمن إطار عملية التطهير هذه. وما زالت الاعتقالات وعمليات الطرد من العمل مستمرة. تم اتهام 40 في المائة من الجنرالات والأدميرالات الأتراك بمحاولة الانقلاب. أمريكا تقوم بتطهير الإنجليز المتمركزين في تركيا تحت غطاء تبعيتهم لجماعة غولن، وضمن هذا السياق يتم أيضا إجراء بعض التغييرات الجذرية في الجيش؛ حيث سيتم إغلاق بعض المدارس العسكرية والأكاديميات العسكرية التي تقوم بتخريج الضباط على أعلى مستوى والتي أسسها عبد المجيد، أو سيتم افتتاحها أمام خريجي الجامعات المدنيين، وسيتم ربط سلك الدرك وخفر السواحل بوزارة الداخلية.

تقوم أمريكا بالعديد من الإصلاحات أكثر مما نستطيع عدّه، والهدف من هذه الإصلاحات والتغييرات الجذرية هو زيادة هيمنة السياسيين التابعين لأمريكا على الجنرالات التابعين للإنجليز، وتهدف إلى تجنب القيام بمحاولة انقلاب ثانية من شأنها أن تطيح بحكومة رئيس الجمهورية الموالي لأمريكا رجب طيب إردوغان.

ولكن يوجد هناك مخاطر لهذا الأمر، ذلك أن المطرودين من الجيش والذين قيل إنهم قد خططوا لانقلابات في الماضي، والذين نفذوا محاولة الانقلاب الشهر الماضي هم الذين خلفوهم، والآن سيتم طرد الانقلابيين الجدد من الجيش، وتعيين الانقلابيين القدامى (المطرودين) مكانهم مرة أخرى، وبالتالي يكون الحال كالذي استجار من الرمضاء بالنار. ولذلك لم يتلاشَ الخوف من الانقلاب تماما. فمن المحتمل أن يكون هناك انقلاب آخر، ولهذا فإنهم ما زالوا يدْعون الشعب للبقاء في الشوارع كفريق للتدخل السريع لحراستهم من الانقلاب، وسيستمر إردوغان وزمرته عقب محاولة الانقلاب الفاشلة في إثارة الأجواء من خلال بث القلق في نفوس الناس بشكل متواصل من إمكانية حصول محاولة انقلاب عسكرية جديدة.

أي أن 150 سنة من الإصلاح المذكورة لن تقوم بتغيير الكثير من الأمور. لأنه لا يوجد هناك قادة عسكريون يستطيع حزب العدالة والتنمية وضعهم مكان القادة الذين تمت تصفيتهم. قسم كبير من القادة هم علمانيون كماليون موالون للإنجليز، أما حزب العدالة والتنمية وإن كان حزباً علمانياً ديمقراطياً مواليا لأمريكا إلا أنه يستند لقاعدة شعبية عريضة محافظة متدينة، لهذا السبب فإن الخلاف بين الجيش والحكومة المنتخبة على المنظور القريب سيظل قائما، وسيكون من الصعب على حزب العدالة والتنمية أن يفرض سيطرته الكاملة على الجيش في المستقبل القريب كما يدعي. ولكن ربما قد يكون بإمكانهم تجنب حدوث انقلاب آخر في المستقبل القريب أو معارضة القادة على الأقل.

نعم قام إردوغان بإغلاق المدارس العسكرية المشبعة بالفكر الكمالي وفتحها أمام جيش من خريجي الجامعات، فلربما قد يستطيع ضمان السيطرة على قسم من الأشخاص المشبعين بالفكر المحافظ داخل الجيش. ومع ذلك، فإن هذه قضية من شأنها أن تستغرق وقتا طويلا. من الممكن مع الوقت تدريب وتخريج جنود يحملون هَم الشعب ويفكرون مثل الشعب.

إذا أراد إردوغان القضاء على الانقلاب تماما، فيجب أن لا يصب ذلك في مصلحة أي من القوى الأجنبية سواء أكانت أمريكا أو بريطانيا، ويجب تدريب وإعداد جيش قوي همه خدمة مصالح الإسلام والمسلمين. لن يتم التخلص تماما من الخوف من الانقلاب طالما لم يتم تطهير الجيش من العقلية الأمريكية والإنجليزية على حد سواء. لأنه عندما لا يقوم السياسيون بخدمة مصالح هذه القوى الكبرى، أو عندما يرون أن مصالحهم أصبحت على المحك، فسيكون باستطاعة القوى الكبرى فسح المجال أمام انقلاب عسكري في كل لحظة. ومصر مثال واضح على ذلك. لذلك، إخراج الجيش من تبعيته للإنجليز وإدخاله في التبعية لأمريكا لن يمسح تماما آثار الانقلاب العسكري. أضف إلى ذلك أن تنفيذ انقلاب عسكري هو أحد الأساليب التي تنتهجها أمريكا في تغيير الأنظمة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إرجان تيكينباش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست