آخر خزعبلات دي ميستورا مبعوث الإجرام الأممي وعصابته
آخر خزعبلات دي ميستورا مبعوث الإجرام الأممي وعصابته

أكد وزير الخارجية السوري وليد المعلم إثر اجتماعه بدي ميستورا (السبت 2016/1/9)، ضرورة الحصول على قائمتين، واحدة بأسماء التنظيمات "الإرهابية" وأخرى بمكونات المعارضة التي تعتزم المشاركة في مؤتمر جنيف، مكرراً استعداد بلاده حضور هذه المحادثات المقررة في جنيف في الـ25 من الشهر الحالي

0:00 0:00
Speed:
January 10, 2016

آخر خزعبلات دي ميستورا مبعوث الإجرام الأممي وعصابته

آخر خزعبلات دي ميستورا مبعوث الإجرام الأممي وعصابته

الخبر:

أكد وزير الخارجية السوري وليد المعلم إثر اجتماعه بدي ميستورا (السبت 2016/1/9)، ضرورة الحصول على قائمتين، واحدة بأسماء التنظيمات "الإرهابية" وأخرى بمكونات المعارضة التي تعتزم المشاركة في مؤتمر جنيف، مكرراً استعداد بلاده حضور هذه المحادثات المقررة في جنيف في الـ25 من الشهر الحالي.

التعليق:

هذه آخر خزعبلات المبعوث "الأممي" دي ميستورا لجر المسلمين في سوريا إلى بيت الطاعة الأمريكي تحت شعار التفاوض مع النظام لأجل الحل السياسي "السلمي". ويتزامن تصريح المعلم مع "نصيحة" سفير الإجرام الأمريكي السابق في دمشق روبرت فورد الذي يرى، في حديثه لصحيفة العربي الجديد، أنه من الأفضل للمعارضة التخلي عن كل الشروط المسبقة والدخول في مفاوضات "تعطيها أفضل اتفاق يمكن الحصول عليه"، معتبرا أنه عند لحظة جلوس المعارضة على طاولة المفاوضات "سيكون من المستحيل للأسد القول إنهم متشددون وإرهابيون"، وبالتالي "سيغيرون موضوع المباحثات إلى كيفية التوصل إلى حكومة سورية جديدة".

ويأمل دي ميستورا أن ينجح فيما فشل فيه الأخضر الإبراهيمي وكوفي عنان، وهو ليس في عجلة من أمره، فحسب حسابات أسياده الأمريكان فإن التدخل الروسي الإجرامي، والذي يهدد بوتين بأن روسيا لم تلق بثقلها بعد في الميدان وآخر ذلك المجزرة التي ارتكبها الطيران الروسي يوم السبت (2016/1/9) في مدينة معرة النعمان التي أدت إلى استشهاد نحو 40 مدنياً بينهم نساء وأطفال، إلى جانب عشرات الجرحى، إثر استهداف طائرات العدوان الروسي بالصواريخ الفراغية سوقاً شعبيةً ومحيط مبنى القصر العدلي، كما أفاد مراسل أورينت هاشم العبد الله، بالإضافة إلى المجزرة في حي العامرية جنوب غرب حلب. بالإضافة إلى سلاح الحصار والتجويع للمدنيين في مضايا والغوطة وغيرها من المناطق، كل هذا يجعل من دي ميستورا متفائلا بأن معارضة الفنادق التي صنعت على أعين المخابرات في اسطنبول والرياض وعمان ستنجح في التمثيل "على" الشعب المنتفض في سوريا والذي أعلن من يومه الأول أن ثورته هي لله هي لله. فقد صرح رياض حجاب (الحياة 2016/1/7) أن المفاوضات هي الخيار الاستراتيجي، مع اعترافه بخذلان المجتمع الدولي للثورة في سوريا، واستمرار حمام الدماء. ولكن ما همه من حمام الدماء وهو المتنقل من عاصمة إلى أخرى ومن فندق إلى آخر، وما الذي يربطه بالمحاصرين في مضايا وفي الغوطة، والذين يتلقون حمم صواريخ التفاوض الدولي في حلب وإدلب؟! وما زالت المعارك طاحنة بين الطامحين للسفر إلى جنيف، وآخر التسريبات إلى الآن تفيد بأن الوفد المفاوض في جنيف (بما في ذلك "المستشارين") يصل إلى 60 عضوا (مع أن الهيئة العليا تشكلت من 33 شخصا في مؤتمر المعارضة بالرياض).

ولإضفاء صفة "الشرعية الثورية" على "الممثلين على الشعب السوري في الرياض" خرج علينا بعض ممن يزعمون أنهم قيادات في 24 فصيلاً ثورياً ببيان موحد أكدوا من خلاله دعمهم لـ"الهيئة العليا للتفاوض"، وهذا ما يذكرنا بتمثيلية فرض ما سمي بـ"منظمة التحرير الفلسطينية" الممثل الشرعي الوحيد للشعب الفلسطيني.

وأكد هؤلاء على وقوفهم إلى جانب الحل السياسي في الثورة السورية الذي "سعت إليه الدول المعنية بالثورة السورية". تماما كما انتهت "الثورة حتى النصر" الفلسطينية إلى الاعتراف بكيان يهود وتحت شريعة "المجتمع الاستعماري الدولي"!!

فمن هي هذه الدول؟ وعلى أي أساس قامت مؤتمرات جنيف وفيينا؟ وآخر التسريبات من الخارجية الأمريكية، التي نشرتها وكالة أسوشيتدبرس، تشير إلى مرحلة انتقالية تمتد إلى آب 2017 دونما ذكر لمصير السفاح بشار الذي لا يوجد ما يمنعه من العودة رئيسا منتخبا تماما كما جرى في مصر وتونس؟

نعم مسلسل التفاوضات الخياني هذا هو آخر ما بجعبة الشيطان الأمريكي رأس الشر لتركيع الشعب المنتفض في سوريا، وليحقق الشيطان الأمريكي، عبر أدواته من "الممثلين على الشعب السوري" وحكام المسلمين، بالدبلوماسية المسمومة ما عجز عنه بالقمع الهمجي البربري الذي لم تشهد له البشرية مثيلا.

ولكن حسب أهلنا الصادقين الصامدين في شام الإسلام، حسبهم أن الله قد تكفل بهم وهنيئا لكم بشرى رسول الله e «عليكم بالشام فإنها صفوة بلاد الله يسكنها خيرته من خلقه فمن أبى فليلحق بيمنه وليسق من غدره فإن الله عز وجل تكفل لي بالشام وأهله» ومن تكفل الله به فلا يضيره كيد العبيد. ونذكركم بقول الحق سبحانه ﴿وما النصر إلا من عند الله﴾ فلا تتوهموا أن أسباب النصر من عند العبيد من الساسة الذين يمثلون عليكم، ولا من عند الحكام العملاء للغرب الصليبي، فضلا عن أن يكون من عند عواصم الكفر في أوروبا وروسيا وأمريكا، فانبذوا حبال العبيد العاجزين الذين لا يملكون لأنفسهم ضرا ولا نفعا واعتصموا بحبل الله المتين هو مولاكم فنعم المولى ونعم النصير.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس عثمان بخاش

مدير المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست