آل سعود؛ آل يهود وآل أمريكا
آل سعود؛ آل يهود وآل أمريكا

نُشر الخبر التالي على جريدة الرياض السعودية يوم 2017/4/10: ضبط 34 مخالفة لنظام العمل والإقامة والقبض على 6 مخالفين في الرياض.

0:00 0:00
Speed:
April 13, 2017

آل سعود؛ آل يهود وآل أمريكا

آل سعود؛ آل يهود وآل أمريكا

الخبر:

نُشر الخبر التالي على جريدة الرياض السعودية يوم 2017/4/10:

ضبط 34 مخالفة لنظام العمل والإقامة والقبض على 6 مخالفين في الرياض.

التعليق:

كثيرة هي مثل هذه الأخبار المستفزة لأبعد درجة أن يظلم المسلم أخاه هذا الظلم! فهذه المخالفات وهذه الاعتقالات تقع من المسلمين على المسلمين بسبب النظام السعودي المجرم! فهل بقي في الناس من لا يعلم أن سياسات ملوك آل سعود وقوانينهم الوضعية المجحفة نتيجة طبيعية لغرور هذا النظام المنافق الذي لا يحكم بما أنزل الله تعالى؟ نعم هذا النظام الملكي الفاجر قد أذل العباد بتطبيق أحكام الكفر على المسلمين!

ومع أنه لا يزال البعض يرى أن النظام في "السعودية" نظام "مقدس" لأنه يغير كسوة الكعبة المشرفة ولأن الحرم النبوي الشريف موجود في المدينة المنورة، وتعودوا على اتباع علماء المملكة لأنهم علماء الأراضي المباركة بدون تفكير، إلا أن "الصبغة الإسلامية" لنظام ملوك آل سعود وعلماء السلاطين التابعين لهم تظهر في قضايا محددة ومتقصدة بخبث مبطن لتخدير الأمة بفتاوى خاطئة، من مثل: حرمة الخروج على الحكام الرويبضات الجبريين بحجة أنهم ولاة أمور، ووجوب تقديس الملك والرئيس والدعاء له بقوة القانون، وحرمة المظاهرات والثورات على الظلم، وبالتالي إباحة ضرب المتظاهرين بحجة حفظ الأمن والأمان، وتقرير التاريخ الذي يبدأ فيه صيام رمضان المبارك أو يوم عيد الفطر المبارك أو تحديد تاريخ يوم عرفة ومناسك الحج، أما القرارات الاقتصادية: كالرؤية الاقتصادية 2030 الرأسمالية التي وضعتها أمريكا، ومنها قرار (سَعْوَدَة) العمالة الذي أفسد على المسلمين "من غير السعوديين" أعمالهم وحُرموا من مناصبهم ورواتبهم، وجعل المستثمرين الغربيين من أمريكا وأوروبا - الذين هم أجانب فعلياً - يستفيدون من ثروات المسلمين، ورُهنت مليارات الدولارات من مقدرات البلاد التي ترجع لأبناء هذا البلد بيد أعداء الإسلام، غير النفط الذي باعوه للكفار أو نهبوا عائداته لمصالحهم الشخصية حتى انتشر الفقر في بلاد الحرمين الشريفين، وأصبح هذا الجانب أداة ضغط على النظام لينفذ مخططات أمريكا ومؤامراتها على المسلمين في المنطقة.

ومن أبرز قرارات السعودية السياسية هو انضمامها لأمريكا في حربها على (الإرهاب) وهي في واقعها حرب شرسة على الإسلام لمنع نهضة الأمة بإقامة دولة إسلامية حقيقية، ومن قراراتها العمرانية: كإنشاء "مدينة ترفيهية عملاقة" الأولى من نوعها في العالم لإشغال الشباب في الترفيه المبالغ فيه لإلهائهم عن التفكير في قضايا أمتهم المصيرية، وقراراتها العسكرية لشراء أسلحة بملايين الدولارات من أمريكا ووجود قواعد عسكرية أمريكية على أراضي المسلمين في بلاد الحرمين الشريفين وموافقة هذا النظام الملكي على تأجيج الفتن ومسايرة لعبة اقتتال السنة والشيعة السياسية والسكوت على احتلال أمريكا للعراق وقتل المسلمين في اليمن في صراع على المصالح وحرب بالوكالة بين أمريكا وبريطانيا، وقتل المسلمين في سوريا بمشاركة التحالف الصليبي الأمريكي وموافقة النظام الروسي في سياساته تجاه نظام بشار السفاح، وقتل المجاهدين في أفغانستان، وإذا رجعنا إلى أبعد من ذلك نتساءل عن سكوت هذا النظام الفاسق الذي يعتبره المسلمون "معقل" الإسلام وحامي مقدسات المسلمين على احتلال اليهود الأنجاس، الذي يتفاخر هذا النظام بأنهم أبناء عمومتهم، لأرض فلسطين المباركة واقتحام وتدنيس ثالث الحرمين المسجد الأقصى المبارك، بل ملوك آل سعود هم من باع فلسطين لليهود تنفيذاً لأوامر الإنجليز في عام 1922، ثم ذهبوا أبعد من ذلك فشارك ملوك آل سعود الإنجليز وعميلهم مصطفى كمال في هدم الخلافة في يوم 28 رجب في سنة 1342 هجرية الموافق ليوم 3 آذار/مارس سنة 1924 ميلادية:

"يقول الإمام العلامة الشيخ عبد القديم زلوم رحمه الله تعالى رحمة واسعة في كتابه الراقي: "كيف هدمت الخلافة": وكان معروفاً أن هذه الحملة الوهابية عمل إنجليزي، لأن آل سعود عملاء للإنجليز، وقد استغلوا المذهب الوهابي - وهو من المذاهب الإسلامية، وصاحبه الإمام محمد بن عبد الوهاب مجتهد من المجتهدين - استغلوا هذا المذهب في أعمال سياسية لضرب الدولة الإسلامية، والاصطدام مع المذاهب الأخرى، لإثارة حروب مذهبية داخل الدولة العثمانية، دون أن يدرك ذلك أتباع هذا المذهب، ولكن عن إدراك ووعي من الأمير السعودي ومن السعوديين. لأن العلاقة لم تكن بين الإنجليز وصاحب المذهب محمد بن عبد الوهاب، وإنما كانت بين الإنجليز وعبد العزيز بن محمد بن سعود ثم بينهم وبين ابنه سعود.".

 وهذا النظام اليوم عميل أمريكا لا زال يرقص على جراح الأمة ويسير على درب الباطل وعلى طريق الأعداء ويفعل كل ما بوسعه لمنع إقامة خلافة المسلمين ووحدتهم، فهو نظام تجري الخيانة للإسلام والمسلمين في دمه، وما علينا إلا أن ننظر إلى معاملة آل سعود للناس - وعلماء بلاطهم كالشيطان الأخرس يدافعون عن الباطل - يعاملون المسلمين من غير السعوديين على أنهم درجة ثانية، ويطلق عليهم لقب أجانب أو مخالفين - كما جاء في الخبر - ويطالبونهم بإجراءات باهظة الثمن ومرهقة إن أرادوا العمل في بلاد الحرمين الشريفين التي يعتبرها النظام ملكاً له يتوارثونه ويحتكرونه من نصبوا أنفسهم ملوكا أو شيوخا "مقدسين" "مرفهين" حتى سمّى كبير سحرتهم نفسه بخادم الحرمين الشريفين وذلك شرف لا يستحقه من ظنوا أنهم يمتلكون حق التصرف في أرزاق وآجال العباد وحقوقهم وثرواتهم التي كفلها لهم الشرع، فللمسلم أن يختار البلد الذي يريد أن يعمل ويعيش فيه من بلاد المسلمين وفي الشرع لا يوجد بين بلاد المسلمين حدود ولا حواجز ولا سدود، إلا أن هذا النظام يحمي حدود سايكس بيكو الاستعمارية الغربية ويرسخ لتمزيق جسد الأمة الواحدة التي لن يجتمع ولن يتوحد المسلمون إلا بعودة الخلافة الراشدة الدولة الإسلامية الواحدة التي ستزيل حكم الملوك الجبري وحكم الغرب الكافر وستزيل الحدود والظلم وستكفل للإنسان حقوقه وسترعاه بشرع رب العالمين. ولقد سقط قناع هذا النظام الظالم وبان عواره خصوصاً في موالاته لأنظمة الكفر أمريكا وروسيا ودوره المستمر لإفشال ثورة الأمة المباركة في الشام، ووجب على المسلمين نبذه وإسقاطه وإسقاط أعلام الاستعمار التي مزقت الأمة.

 وفي ذكرى هدم الخلافة الإسلامية الـ 96 نستنهض همم المسلمين حول العالم لتصحيح المسار بالرجوع لعزة الخلافة الراشدة وأمجادها، بالعمل مع حزب التحرير لإقامتها من جديد للتخلص من عار هدم الخلافة ومن هدموها ومن الاستعمار ومخلفاته لنطبق شرع الله جل وعلا ومنهج رسوله e، ولنرفع راية "لا إله إلا الله محمد رسول الله" ولتحرير بلاد المسلمين ومقدساتهم من حكم آل سعود وأمثالهم!

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة محمد حمدي – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست