عار على مصر وجيشها أن يكون على رأسها قاتل يشيد بالقتلة ويعادي الإسلام وأهله
عار على مصر وجيشها أن يكون على رأسها قاتل يشيد بالقتلة ويعادي الإسلام وأهله

نقلت جريدة اليوم السابع الجمعة 2015/10/09م، قال المتحدث باسم الكرملين دميتري بيسكوف، إن مصر تشيد بجهود روسيا فى تحقيق الاستقرار في الوضع بسوريا، موضحاً أن هذا الأمر ناقشه هاتفيا رئيسا مصر وروسيا، ولكنه كان الغرض الرئيسي من هاتف السيسي هو تهنئة بوتين في عيد ميلاده...

0:00 0:00
Speed:
October 15, 2015

عار على مصر وجيشها أن يكون على رأسها قاتل يشيد بالقتلة ويعادي الإسلام وأهله

خبر وتعليق

عار على مصر وجيشها
أن يكون على رأسها قاتل يشيد بالقتلة ويعادي الإسلام وأهله


الخبر:


نقلت جريدة اليوم السابع الجمعة 2015/10/09م، قال المتحدث باسم الكرملين دميتري بيسكوف، إن مصر تشيد بجهود روسيا فى تحقيق الاستقرار في الوضع بسوريا، موضحاً أن هذا الأمر ناقشه هاتفيا رئيسا مصر وروسيا، ولكنه كان الغرض الرئيسي من هاتف السيسي هو تهنئة بوتين في عيد ميلاده. وأضاف بيسكوف في تصريحات للصحفيين أنه بالإضافة إلى ذلك ناقش الرئيسان الوضع في سوريا، عملية القوات المسلحة الروسية، ودعم جيش الجمهورية العربية السورية.

التعليق:


الوضع في سوريا وما أدراك ما الوضع في سوريا الغرب كله والكفر كله في قلق مما قد يسفر عنه الوضع في بلاد الشام التي أعلنتها منذ اليوم الأول قائدنا للأبد سيدنا محمد وحددوا مطلبهم وغايتهم واضحة جلية وهي خلافة على منهاج النبوة، وتنامى وعيهم بفضل الله وعمل المخلصين الواعين شباب حزب التحرير، حتى رأينا رايات سيكس بيكو تتهاوى وتحرق أمام راية العقاب، الأمر الذي أصاب الغرب وعملاءه من حكام بلادنا بالهلع والفزع، فاستنفر الغرب كل قواه متداعيا على أهلنا المخلصين المجاهدين في أرض الشام ليجبرهم على الرضوخ وقبول ما يمليه عليهم تحت وطأة البراميل المتفجرة والكيماوي والقصف بكل أنواع الأسلحة التي نعرف والتي لا نعرف، ولكن الغرب فوجئ رغم كل هذا بالثبات والصمود الأسطوري لأهلنا في الشام، في صراع غير متكافئ من كل الجوانب ومن جميع وجهات النظر؛ فالغرب ينظر من جانبه حسب ما يقود به من دعم مادي وعسكري ولوجستي، بينما ينظر المخلصون حسب مقومات النصر الإلهي والتي لا حساب فيها لعدد أو عدة أو سلاح، فهم يعملون لإحدى الحسنيين النصر أو الشهادة، ولذا فهم على يقين من عون الله ونصره وتمكينه، وعلى يقين أن تأخر النصر لحكمة إلهية، مع ما فيه من تمايز للصفوف وسقوط لأقنعة الخونة وأهل النفاق ولعلنا رأينا نظرة الأمة الآن لأردوغان تركيا وبعض مشايخ السلاطين، فحق لثورة الشام أن تكون كما قيل عنها كاشفة فاضحة تنفي خبثها.


معلوم للقاصي والداني أن أمريكا وروسيا وإيران وحزبها بل والعالم أجمع يدعم بشار بكل أنواع الدعم ومنذ اليوم الأول من الثورة، فما الذي تغير الآن ليكون مثل هذا الإعلان والتصريح وما الذي يدعو حكام بعض الدول إلى الترحيب بهذا العمل والإشادة به على ملأ الناس؟!


إن الذي تغير هو الأمة بوعيها وفكرها وعقيدتها، وأيقنت أن حكامها ما هم إلا دمى يحركها الغرب الكافر وأنهم أداة تحول بينها وبين عزها وكرامتها، وأنهم أداة نهب ثرواتها وخيراتها وقمعها وبقائها في ربقة الغرب الكافر المستعمر، الأمر الذي أشعل الثورات التي لن تنتهي إلا بخلافة على منهاج النبوة تقتلع هؤلاء الحكام من فوق عروشهم المعوجة وتلقي بهم في هاوية سحيقة وتقضي على هيمنة الغرب على بلادنا إلى غير رجعة.


فهل سيستسلم الغرب وينتهي الصراع في أولى جولاته لصالح الأمة؟! الغرب لن يذعن إلا في الرمق الأخير وسيصارع حتى آخر رمق، ولكن خاب فأله وفأل شيعه وأحزابه وأحلافه، وها نحن نرى حلف أمريكا التي تقود الصراع في أرض الشام بكل أدواتها وعملائها ليس صراعا على أهل الشام فقط وإنما هي حرب على الأمة عبر عنها لافروف عندما أعلن وبالنص - أن هدف موسكو والسعودية عدم قيام خلافة إرهابية في سوريا - نعم الخلافة ترهبهم لأنها تقضي على مصالحهم في بلادنا وتعيد ما نهبوه من ثرواتنا، ولأنها تعيد لنا كرامتنا وعزتنا وسيادة عقيدتنا التي لا عز لنا بدونها، فنحن من أعزنا الله بالإسلام وخلافته دولته وشريعته.


وها نحن نرى الحاكم الذي ترأس الكنانة وأمعن في أهلها قتلا وحرقا واعتقالا وتعذيبا يشيد بسفاح روسيا وما يعين به سفاح الشام، وكأنه يقول لأهل الكنانة وجيشها لو فعلتم ما فعل أهل الشام فسآتي بهم يقصفون بيوتكم ويقتلونكم وأطفالكم فيها، وكأنه يخيفهم من المطالبة بمطلب أهل الشام الذي أصبح مطلب الأمة بعمومها، فهل يستكين أهل الكنانة وتنتهي ثورتهم إلى أسوأ مما بدأت؟! وهل يستقر الأمر لعسكر أمريكا شركاء السفاحين في قتل المسلمين؟ّ!


إن أهل الكنانة من أكثر الشعوب حبا للإسلام وفداءً له، وهذا ما عهد منهم على مدار عقود طويلة كانوا هم حصن الأمة ودرعها الواقي ونقطة انطلاق جندها الغازي، وهي مليئة بالمخلصين من أبنائها وما عدمت المخلصين في جيشها الراكع الساجد الصائم القائم، فعلام صمت هؤلاء المخلصين على حكام يسومونهم سوء العذاب ويسوقونهم للذبح كما تساق الخراف ويعينون كل من قاتل وقتل أبناءها حتى قال اليهود عنه أنه هدية الرب لهم!


فأين أنتم يا أبناء الكنانة ومن للإسلام إن لم يكن أنتم؟! أين أنتم أيها المخلصون في جيش الكنانة وعلام صمتم وإلى متى صبركم؟! وحرمات الأمة تنتهك والأمة تذبح من الوريد إلى الوريد، كيف تلقون ربكم وأنتم رجالها وحماتها والمنوط بكم الذود عنها والحفاظ على بيضتها، ماذا تقولون لربكم غدا؟! حين يسألكم عن هذه الدماء وتلكم الأعراض التي تنتهك ويهتك سترها أمام أعينكم، من لها غيركم؟! من للإسلام ومقدساته وحرماته إن لم يكن أنتم؟!


أعلنوها لله خالصة واجعلوا الولاء له وحده لا لرئيس ولا حاكم ولا قائد فلن يغنوا عنكم من الله شيئا، وبيعوا أنفسكم لله لقاء الجنة وكونوا طليعة المخلصين حاملي لواء الخلافة الثانية على منهاج النبوة يربح بيعكم وتربو تجارتكم ويخيب فأل عدوكم.


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
عبد الله عبد الرحمن
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست