آثار سياسة ترامب الخارجية في الأيام الأولى لها
آثار سياسة ترامب الخارجية في الأيام الأولى لها

الخبر: كتب الكثير عن المئة يوم الأولى لرئاسة ترامب، ولأسباب واضحة اختارت وسائل الإعلام التركيز على فشله، ولم يُذكر سوى القليل جدًا عن سياسته الخارجية، فالجانب الأكثر لتقييمهم هو كالمعتاد الجانب الاقتصادي.

0:00 0:00
Speed:
May 05, 2017

آثار سياسة ترامب الخارجية في الأيام الأولى لها

آثار سياسة ترامب الخارجية في الأيام الأولى لها

الخبر:

كتب الكثير عن المئة يوم الأولى لرئاسة ترامب، ولأسباب واضحة اختارت وسائل الإعلام التركيز على فشله، ولم يُذكر سوى القليل جدًا عن سياسته الخارجية، فالجانب الأكثر لتقييمهم هو كالمعتاد الجانب الاقتصادي.

التعليق:

يمكن القول بأن سياسة ترامب الخارجية هي أكثر عدوانية من سلفه، فبعد فترة قصيرة من استلامه السلطة، أذِن ترامب بالقيام بضربات جوية ضد الأسد، واستخدم لغة أشد عدوانية ضد كوريا الشمالية، ونشر مقاتلات النخبة الأمريكية في إستونيا وهو تحد واضح لروسيا.

هذه الإجراءات لا تتعارض مع وعود حملة ترامب فحسب، بل وتشير أيضًا إلى تحول في موقف إدارته في قضايا عدة، فعلى الجانب الروسي، واجه أمل ترامب لبناء شراكة تعاونية مع بوتين مقاومة شديدة في الدولة، فالتغطية الإعلامية المستمرة لعلاقة ترامب السرية مع روسيا، وانتقاد البنتاغون للوكالة الأمنية الوطنية، عطلت أية فرصة للتعاون بين ترامب وروسيا.

بدأ تنظيف وكالة الأمن القومي بـ(مايك فلين)، ثم تلاها الإطاحة بالأيديولوجي اليميني (بانون وجوركا)، وتعيين (مكفارلاند) بدل (فلين)، كل هذا يشير إلى تحكم الجيش الأمريكي الآن في وكالة الأمن الوطنية، وهي الهيئة الرئيسية لصناعة السياسة في البيت الأبيض (البنتاغون والأمن القومي). وقد أدى التأثير غير المسبوق للجيش على السياسة الخارجية الأمريكية إلى خفض تصريحات ترامب غير المتناسقة ضد الحلفاء والخصوم، وفي الآونة الأخيرة كانت تصريحات وزير الدفاع (ماتيس) تتناقض مع رئيسه، وطمأن كوريا الجنوبية بأن دفع مليار دولار مقابل نشر المنظومة الصاروخية (ثاد) لا حاجة لها.

كما أن تراجع ترامب عمّا يتعلق بالملف الصيني ينسجم مع ما تقدم، فقبل بضعة أشهر فقط، هدد ترامب بقلب سياسة 40 عامًا من العلاقات الأمريكية الصينية من خلال بناء جسور مع تايوان، وأثناء الحملة الانتخابية اتهم ترامب الصين بالتلاعب بالعملة الصينية والاستحواذ على الوظائف الأمريكية، ودعت إدارة ترامب (شي جين بينغ) لواشنطن، وطالبته بمزيد من التعاون لثني كوريا الشمالية عن امتلاك السلاح النووي ومشاكسة جيرانها، بيد أن مدى تعاون الصين مشكوك فيه لأن تراكم الأسلحة الأمريكية في منطقة آسيا والباسفيك يجعل بكين شديدة التوتر.

في بداية قدوم ترامب إلى البيت الأبيض، توقع بعض المراقبين أن يتوصل ترامب إلى اتفاق مع روسيا، ويتبنّى موقفًا صارمًا تجاه الصين، لكن بعد مائة يوم من توليه منصبه، تخلى ترامب عن توطيد العلاقات مع روسيا، وحاول حشد الصين للقيام بدور نشط في ردع (بيونج يانج)، وإن لم تكن هناك حلقة مفقودة في القصة فإن هذا ليس مفاجئًا، وقد كان أوباما صاحب الحكاية الأصلي، والفرق الوحيد بينهما هو أن ترامب - أو قل الجيش - قد خَطا خطوة للأمام في نشر الترسانة العسكرية الاستراتيجية بالقرب من روسيا والصين بذريعة كوريا الشمالية.

انتكاسة ترامب لا تقتصر على فشله في مراجعة سياسة الدولة، فحتى دول الحلفاء مثل بريطانيا في يقظة وقحة في الوضع الراهن، وقد أثار ترامب الاتحاد الأوروبي ضد بريطانيا في عقد صفقات تجارية تفضيلية، وقد كان تقرير لجنة اللوردات الدولية حول اختيار العلاقات الدولية - والذي نشر هذا الأسبوع - يؤكد على "الطبيعة الزئبقية التي لا يمكن التنبؤ بها لصنع السياسة من قبل الرئيس ترامب" ويوصي بريطانيا بأن تنأى بنفسها عن أمريكا. في معرض حديثه عن التجارة، أشار ترامب أيضًا إلى أن أمريكا قد لا تنسحب من نافتا، وهذا الانعكاس الواضح قد يسترضي فيه المكسيك وكندا، ولكن من المؤكد سيثير غضب مؤيديه.

إن ترويض ترامب من قبل أقسام مختلفة من المؤسسات الحاكمة - الجيش الأمريكي، ووول ستريت، والفصائل الأخرى - يوضح تصميم أمريكا على الحفاظ على هيمنتها الاقتصادية والسياسية في جميع أنحاء العالم. وقد استثمرت أمريكا الكثير في النظام الليبرالي ومؤسساتها الدولية لتبني النزعات الانعزالية، كما كان يحب أنصار ترامب. وهذا يعني أن أيام ترامب المتبقية في منصبه من المتوقع أن تشهد المزيد من التدخلات في شئون الآخرين الدولية والحروب الأجنبية، وفي صفقات تجارية غير عادلة لمصلحة أمريكا، وبالطبع المزيد من الانعكاسات السياسية.

إن طول عمر النظام الليبرالي الأمريكي قائم على إمكانية التنبؤ بالحرب والصفقات التجارية، وأعداء أمريكا وخصومها يعرفون ذلك جيدًا، ومع ذلك فإن عدم القدرة على التنبؤ بحقبة ترامب من المرجح أن يثير أزمة في الثقة في موقف أمريكا العالمي، وسيزيد من القلق بين حلفاء أمريكا ويدفعهم للبحث عن جهات أخرى للأمن والحماية، وبالفعل تفكر أوروبا حاليًا في تطوير رادع نووي خاص بها، واليابان وكوريا الجنوبية ليستا متخلفتين عن هذا الركب.

بالمثل، فإن الغموض المصاحب لقرارات ترامب سيشجع خصوم أمريكا على اختبار تصميمها في المناطق، حيث كانت خارج الحدود المعقولة (في سوريا، وكوريا الشمالية، وبحر الصين الجنوبي، والشرق الأوسط) وهي المسارح المحتملة لهذه المسابقات، وهذا يزيد من احتمالية نشوب نزاع كبير بين القوى العالمية، وهو نذير عصر جديد من التقلبات وعدم الاستقرار، ويعني اليقين بأن الصورة الاستراتيجية الحالية للموقف الدولي في حالة تغير ملحوظ.

لقد شهد الموقف الدولي تقلبات في زمن رسول الله r، وقبل إقامة الدولة الإسلامية الأولى في المدينة المنورة كان رسول الله rعلى اطلاع على المواجهة بين بلاد فارس والروم؛ وكانت القوى العظمى في حالة حرب (الحرب البيزنطية - الساسانية من 602-628م)، وتزامنت هجرته rإلى المدينة في عام 622م مع حملة قتال بين الدولتين الكبيرتين. بالتالي، فإن الوضع الحالي يمثل فرصة مناسبة لأبناء الأمة، وخاصة القوات المسلحة، لاستلام السلطة وتسليمها لأصحاب مشروع الخلافة على منهاج النبوة، فهل يهتدي المخلصون منهم إلى هذا الحل؟

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي – باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست