اعتقال راشد الغنوشي ومعاونيه رغم مناداته بالديمقراطية والعلمانية  والحبل على الجرار فهل يَتُوبُونَ أَوْ يَذَّكَرُون؟!
اعتقال راشد الغنوشي ومعاونيه رغم مناداته بالديمقراطية والعلمانية  والحبل على الجرار فهل يَتُوبُونَ أَوْ يَذَّكَرُون؟!

نشرت مصادر عدة أن قوات الأمن التونسي اعتقلت في 17 نيسان 2023 رئيس حركة النهضة الشيخ راشد الغنوشي، وهو رئيس البرلمان التونسي السابق، واقتادته إلى جهة غير معلومة دون احترام لأبسط الإجراءات القانونية. (موقع الجزيرة مباشر). ونُشِر أيضاً أن الرئيس التونسي قيس سعيد أوقف منذ بداية شباط 2023، ما لا يقل عن 10 شخصيات بارزة، غالبيتها من المعارضين المنتمين إلى حركة النهضة وحلفائها، واعتبر سعيد الموقوفين "إرهابيين"، واتهمهم "بالتآمر على أمن الدولة الداخلي والخارجي". (موقع عربي بوست).

0:00 0:00
Speed:
April 27, 2023

اعتقال راشد الغنوشي ومعاونيه رغم مناداته بالديمقراطية والعلمانية والحبل على الجرار فهل يَتُوبُونَ أَوْ يَذَّكَرُون؟!

اعتقال راشد الغنوشي ومعاونيه رغم مناداته بالديمقراطية والعلمانية

والحبل على الجرار فهل يَتُوبُونَ أَوْ يَذَّكَرُون؟!

الخبر:

نشرت مصادر عدة أن قوات الأمن التونسي اعتقلت في 17 نيسان 2023 رئيس حركة النهضة الشيخ راشد الغنوشي، وهو رئيس البرلمان التونسي السابق، واقتادته إلى جهة غير معلومة دون احترام لأبسط الإجراءات القانونية. (موقع الجزيرة مباشر). ونُشِر أيضاً أن الرئيس التونسي قيس سعيد أوقف منذ بداية شباط 2023، ما لا يقل عن 10 شخصيات بارزة، غالبيتها من المعارضين المنتمين إلى حركة النهضة وحلفائها، واعتبر سعيد الموقوفين "إرهابيين"، واتهمهم "بالتآمر على أمن الدولة الداخلي والخارجي". (موقع عربي بوست).

التعليق:

تحمل هذه الأخبار والوقائع الكثير من الدلالات، وترجع بالمتابع إلى سجالات وتحذيرات لطالما تكررت، ولطالما تم تجاهلها والقفز عنها بذرائع ضغط الواقع وحجم الهيمنة الغربية. وهذه الأحداث ليست جديدة ولا مستغرَبة، بل هي متوقعة للذين يوالون أعداء الإسلام ويركنون إليهم. وما أكثرَ الآيات التي تحذر من موالاة الكفار.

إن الهدف من هذا التعليق أمران: الأول التذكير بعِظمِ حرمة تحريف أحكام الشرع والتنازل عنها لإرضاء الكفار مهما كانت الذرائع. وتعظمُ هذه الحرمة إذا كان التحريف لإضفاء الشرعية على الأفكار الغربية، وبخاصة إذا كان ذلك في أفكار قطعية. والأمر الثاني هو مآل أصحاب هذه التحريفات، وهو نبذ الكفار لهم وتخليهم عنهم بعد أن يستنفدوا تسخيرهم لمصالحهم وأهدافهم في محاربة الإسلام والمسلمين وتضليلهم، ودسِّ مفاهيم الكفر والانفلات الأخلاقي التي يسمونها حريات عامة في بلاد المسلمين.

لقد اتخذ راشد الغنوشي الديمقراطية وما ينبثق عنها من أفكار وحريات أساساً يحكم به على الدلالات الشرعية قبولاً أو رفضاً، وعلى مواقف الآخرين من الأفكار الغربية. من ذلك مثلاً أنه سئل إثرَ عودته إلى تونس بعد الثورة عن حزب التحرير ومواقفه السياسية، فهاجمه بشكل عنيف وقال عن شبابه إنهم مشبوهون، وذلك لأن الحزب يقول إن الديمقراطية كفر. وتكررت مواقفه التي تدل على أن الديمقراطية هي الأساس عنده وأنها حاكمة على الشريعة. ومن ذلك أنه عندما وجد رفضاً واسعاً للديمقراطية في تونس من أصحاب التوجه الإسلامي، استعان بالشيخ يوسف القرضاوي رحمه الله الذي حضر إلى تونس ليدعمه في باطله، وليقول إنَّ الذين يحرمون الديمقراطية لا يفهمون الإسلام ولا الديمقراطية. والأمر عند الغنوشي أظلم وأنكى، إذ إنه يروج للعلمانية أيضاً كما سيتبين.

أما تحريفات الغنوشي لأحكام الشرع فهي كثيرة جداً. وكتابه الحريات العامة في الدولة الإسلامية شاهد على ذلك. فهو يقول فيه بالمساواة بين الرجل والمرأة، وبجواز أن تكون المرأة رئيساً للدولة. ويردُّ الأحاديث الصحيحة في ذلك، متخذا من الحريات الغربية أسساً لقبول الحكم الشرعي أو رفضه. من ذلك مثلاً أنه رفض دلالة الحديث الذي رواه البخاري «لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أمْرَهُمُ امْرَأَةً»، وأوَّله بأنه خاص بكسرى، لأنه قتل رسول رسول الله ﷺ ومزَّق كتابه إليه. وجعل فكرة المساواة بين الرجل والمرأة حاكمةً على دلالات النصوص. وقد جدَّف بأن الردة حق للإنسان كحقه في الدخول في الإسلام. واستدل على هذا التجديف بما هو أكثر منه بطلاناً، حيث زعم أنّ حق الردة يرجع إلى حفظ العقل الذي هو من مقاصد الشريعة، وهكذا، فهو يُحَكِّم المفاهيم الغربية بالشريعة ومقاصدها، ناهيك عن ترويجه السافر للعلمانية وللفصل بين العمل الدعَوي والعمل السياسي.

لقد توهم الغنوشي أنه بعلمانيته السياسية وبتنازلاته التي فاقت التوقعات، قد نجح ونجا مع حركته من المصير الذي آل إليه الإخوان المسلمون والرئيس محمد مرسي في مصر، ورأى في نفسه نموذجاً للعمل السياسي الإسلامي الناجح، مع أنه تخلى عن الإسلام في طروحاته وأعماله السياسية. وقد قارن نفسه بأردوغان تركيا ليقول عن نفسه إن له منهجه الخاص الذي يستحق أن يكون نموذجاً يُحتذى. وقد اغتر بنفسه بعد الذي هيَّأه له الغرب وأوصله إليه في تونس، حتى توهم أنه قد وصل واستقر أمره، ولم يلتفت إلى ما آل إليه الإخوان المسلمون في مصر، بل أصابه العُجبُ بأنه كان حكيما بتقديمه تنازلات أكثر مما قدموا. ولكن الوقائع جاءت لتقرر الحقائق التي لا تتبدل، وهي قوله تعالى: ﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ﴾ [سورة البقرة: 120]. ولتقرِّرَ أنَّ تولِّي الكافرين والركونَ إلى أعداء الإسلام مصيره الهزيمة والإحباط وتخلي الناصرين، وأن هذا التولي من الكبائر التي قد تستدرج أصحابها إلى الكفر والعياذ بالله. قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ * فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ﴾ [سورة المائدة،: 51-52]. فيا للعَجَب كيف يغفل مسلمٌ أو عالم بالشرع بل يتغافل عن آياتٍ قطعية الدلالة، وهو يقرأ قوله تعالى: ﴿وَلاَ تَرْكَنُواْ إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاء ثُمَّ لاَ تُنصَرُونَ﴾ [سورة هود: 113]!

إن الذي يجري في تونس مخطط له منذ سقوط النظام البائد، وهو يُنَفَّذُ بالتدريج، والهدف منه القضاء على أي أثر للإسلام السياسي، ليس في الحكم فقط، بل في العمل السياسي أو الحزبي في المجتمع والأمة. وهو الهدف نفسه الذي وُضع لمصر إبّان رئاسة محمد مرسي، بغض النظر عن اختلاف خطوات التنفيذ وملابساتها بسبب اختلاف موازين القوى والظروف. فسنن الصراع بين الإسلام والكفر لا تتبدل، وقد بينها القرآن الكريم ومنها: ﴿كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لاَ يَرْقُبُواْ فِيكُمْ إِلّاً وَلاَ ذِمَّةً﴾ [سورة التوبة: 8].

وإن الأمر ليستحقُّ إبداء مزيدٍ من الملاحظات والتنبيهات لتذكير أصحاب هذه المناهج المنحرفة والضارة، إلا أن المقام لا يتسع لذلك، فأكتفي بالتذكير بقوله تعالى: ﴿أَوَلاَ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لاَ يَتُوبُونَ وَلاَ هُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾ [سورة التوبة: 126].

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست