أبهذا الشكل سيطبع النظام السعودي مع كيان يهود؟!
أبهذا الشكل سيطبع النظام السعودي مع كيان يهود؟!

الخبر:   قال وزير خارجية السعودية فيصل بن فرحان على حسابه في موقع تويتر يوم 2022/5/24: "لن يكون هناك تطبيع ما لم تحل القضية الفلسطينية.. لم يتغير أي شيء بالطريقة التي نرى فيها هذا الموضوع.. التطبيع ليس النتيجة النهائية ولكنه النتيجة النهائية للمسار. السعودية هي من أطلقت مبادرة السلام العربية وستفضي لتطبيع كامل بين (إسرائيل) والمنطقة. لن نستطيع (التطبيع) طالما لم تحل القضية الفلسطينية. إن الأولوية حاليا دفع عملية السلام بين الفلسطينيين و(الإسرائيليين) إلى الأمام، وهذا بالتأكيد سيفيد المنطقة و(إسرائيل) وفلسطين".

0:00 0:00
Speed:
May 30, 2022

أبهذا الشكل سيطبع النظام السعودي مع كيان يهود؟!

أبهذا الشكل سيطبع النظام السعودي مع كيان يهود؟!

الخبر:

قال وزير خارجية السعودية فيصل بن فرحان على حسابه في موقع تويتر يوم 2022/5/24: "لن يكون هناك تطبيع ما لم تحل القضية الفلسطينية.. لم يتغير أي شيء بالطريقة التي نرى فيها هذا الموضوع.. التطبيع ليس النتيجة النهائية ولكنه النتيجة النهائية للمسار. السعودية هي من أطلقت مبادرة السلام العربية وستفضي لتطبيع كامل بين (إسرائيل) والمنطقة. لن نستطيع (التطبيع) طالما لم تحل القضية الفلسطينية. إن الأولوية حاليا دفع عملية السلام بين الفلسطينيين و(الإسرائيليين) إلى الأمام، وهذا بالتأكيد سيفيد المنطقة و(إسرائيل) وفلسطين".

التعليق:

ومع أن وزير خارجية النظام السعودي يقول لا تطبيع قبل حل القضية الفلسطينية، ولكنه يريد التطبيع الكامل مع كيان يهود، فهو يرتكب الخيانة بهذه الدعوة، فمجرد هذا القول وهذه الدعوة فإنه يرتكب خيانة هو ونظامه. فالقبول بوجود كيان يهود على شبر واحد من فلسطين هو خيانة. علما أن سيده ابن سلمان لا يشترط حل القضية الفلسطينية، فيقول يجب حل بعض القضايا قبل التطبيع ويأمل أن تحل المشكلة ولكنه لا يشترط ذلك وهو يعتبر كيان يهود حليفا وليس عدوا!

فقال ولي عهد السعودي محمد بن سلمان لمجلة أتلانتيك الأمريكية يوم 2022/3/3 إن "السعودية لا تنظر إلى (إسرائيل) كعدو، بل كحليف محتمل. لكن يجب أن تحل بعض القضايا قبل الوصول إلى ذلك. نأمل أن تحل المشكلة بين (الإسرائيليين) والفلسطينيين". ونشرته وكالة الأنباء السعودية ليؤكد صحة الخبر والموقف الرسمي للنظام السعودي.

وقد ارتكب النظام السعودي الخيانة منذ عقدين عندما طرح ما سمي المبادرة العربية وقد أملتها عليه أمريكا وهي الاعتراف بكيان يهود وعقد الصلح وإقامة السلام معه بشرط اعترافه بإقامة دولة فلسطينية ضمن حدود المحتل عام 1967 في الضفة وغزة، وهو حل الدولتين الأمريكي.

ومن ناحية ثانية، فإنه يجري الحديث حول تسليم جزر صنافير وتيران إلى السعودية باتفاق سعودي مصري مع كيان يهود حيث تنص اتفاقية كامب ديفيد التي وقعها الخائن أنور السادات مع كيان يهود عام 1979 على عدم تسليح الجزيرتين. وبذلك تكون السعودية قد دخلت في اتفاقية مباشرة مع كيان يهود تمهيدا للتطبيع. علما أن هاتين الجزيرتين تتحكمان في مدخل ميناء العقبة في الأردن وميناء إيلات الذي يسيطر عليه كيان يهود. ويظهر أن هناك خطة لأمريكا للتطبيع من وراء قرار تسليم السيسي عام 2016 هاتين الجزيرتين للسعودية وإدخالها في هذه الاتفاقية الخيانية. وبما أنه عميل فإنه ينفذ خطط أمريكا ولو كان ذلك على حساب بلده وأمته حتى تبقيه في الحكم.

وقد ذكر موقع أكسيوس الإخباري الأمريكي يوم 2022/5/24 أن "إدارة الرئيس الأمريكي بايدن تتوسط لإتمام أول خطوة نحو تطبيع العلاقات بين السعودية و(إسرائيل)". حيث إنه من المتوقع أن يقوم بايدن بزيارة إلى المنطقة في نهاية شهر حزيران الجاري قد تشمل السعودية وكيان يهود. وبما أن النظام في السعودية تابع لأمريكا فإنه سيجري العمل على إخراج التطبيع بصورة معينة بشكل ما ليظهر أن النظام السعودي كأنه هو الكاسب، وأنه حقق شيئا للقضية الفلسطينية!

علما أن ابن سلمان قد نبذه بايدن فلم يتصل به ولم يخاطبه ولوح بملف مقتل خاشقجي، حتى يضغط عليه ويبتزه للتطبيع وللخنوع أكثر لأمريكا، فعندما يعترف بايدن به ويغلق ملف خاشقجي سيفعل ابن سلمان كل شيء تطلبه أمريكا لأن أغلى ما عنده أن تعترف به كولي عهد حتى يصبح ملكا. فيعلن استعداده للتطبيع أو يعلنه مباشرة ويوقع اتفاقية تتعلق بذلك، وبالمقابل ربما يعلن كيان يهود شيئا فيما يتعلق بالدولة الفلسطينية أو يعد وعدا غرورا حتى يكون مبررا للنظام السعودي بإعلان التطبيع.

فهم ينطقون بالخيانة ويرتكبونها فعليا ويتهيؤون للإعلان عنها بصورة رسمية، والمسألة مرتبطة فقط في كيفية الإخراج حتى يتم إنتاج الفيلم وعرضه على الناس بصورة علنية.

فأردوغان قال كلاما كبيرا بحق كيان يهود بأنه دولة إرهاب ولكنه ما لبث أن أعاد التطبيع مع كيان يهود واستقبل رئيسه في القصر الجمهوري بأنقرة استقبال الأبطال والعظماء، وبالأمس أرسل وزير خارجيته جاويش أوغلو ليؤكد التطبيع وليمهد لزيارة أردوغان المستقبلية لكيان يهود حيث جرى الحديث حول ذلك وتأجل بسبب الأحداث التي حصلت في فلسطين من بعض أعمال المقاومة ليهود على إثر تدنيسهم المسجد الأقصى وقيام كيان يهود بعمليات قتل للعديد من أبناء فلسطين وهدم منازلهم. فتأجل الحديث عن ذلك.

وقد أكد جاويش أوغلو سياسة رئيسه أردوغان بقوله أثناء زيارته لفلسطين يوم 2022/5/24 "إن تركيا ستواصل التنسيق مع الجانب الفلسطيني بخصوص تطبيع العلاقات مع (إسرائيل)، ودعمنا للقضية الفلسطينية منفصل عن علاقتنا مع تل أبيب". أي أن تركيا ستستمر في تعزيز علاقاتها مع كيان يهود مهما فعل من جرائم في فلسطين، ولكنه سيتباكى ويندد إذا حصل لأهل فلسطين شيء يثير المشاعر، ويدعو لدعم القضية الفلسطينية بالدعوة إلى تنفيذ حل الدولتين الخياني الذي يؤكد اغتصاب يهود لنحو 80% من فلسطين.

فعلى شاكلته سيفعل حكام السعودية كما يفعل حكام مصر والأردن وغيرهم؛ ينددون عندما يحصل شيء يثير الرأي العام ويلهب المشاعر فيما يتعلق بأهل فلسطين والأقصى، فيركبون الموجة منددين غير متجاوزين الحد! ولكن لا ينسون التأكيد على حل الدولتين ألهية آخر الزمان ويوهمون الناس كأنه هو الخلاص لأهل فلسطين! وفي الوقت نفسه يواصلون التأكيد على التطبيع مع كيان يهود وأنه لا تراجع عنه. ﴿هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ‌ أَنَّى يُؤْفَكُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست