أبناء سابع أقوى جيش في العالم يقعون فريسة لإرهاب الصداقات الزائفة (مترجم)
أبناء سابع أقوى جيش في العالم يقعون فريسة لإرهاب الصداقات الزائفة (مترجم)

الخبر: قال الجيش التركي بأن أربعة عشر جنديا تركيا قتلوا وأصيب 33 آخرون في يوم الأربعاء 21 كانون الأول/ديسمبر، في اشتباكات بالقرب من بلدة الباب التي يسيطر عليها تنظيم الدولة في شمال سوريا. وآخر الإضافات، أكثر من 30 من القوات التركية قد قتلوا كجزء من عملية درع الفرات. قبل بضعة أيام فقط، في 17 كانون الأول/ديسمبر، هجوم انتحاري بسيارة مفخخة في وسط مدينة قيصرية تركيا تسبب بمقتل 13 جنديا على متن حافلة وجرح 56 آخرين. وقبل أسبوع فقط، انفجار قنبلة آخر قتل 30 ضابط شرطة و8 مدنيين في اسطنبول. (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
December 24, 2016

أبناء سابع أقوى جيش في العالم يقعون فريسة لإرهاب الصداقات الزائفة (مترجم)

أبناء سابع أقوى جيش في العالم

يقعون فريسة لإرهاب الصداقات الزائفة

(مترجم)

الخبر:

قال الجيش التركي بأن أربعة عشر جنديا تركيا قتلوا وأصيب 33 آخرون في يوم الأربعاء 21 كانون الأول/ديسمبر، في اشتباكات بالقرب من بلدة الباب التي يسيطر عليها تنظيم الدولة في شمال سوريا. وآخر الإضافات، أكثر من 30 من القوات التركية قد قتلوا كجزء من عملية درع الفرات. قبل بضعة أيام فقط، في 17 كانون الأول/ديسمبر، هجوم انتحاري بسيارة مفخخة في وسط مدينة قيصرية تركيا تسبب بمقتل 13 جنديا على متن حافلة وجرح 56 آخرين. وقبل أسبوع فقط، انفجار قنبلة آخر قتل 30 ضابط شرطة و8 مدنيين في اسطنبول. (وكالات)

التعليق:

أصبح أبناء سابع أقوى جيش في العالم ضحايا للصداقات الزائفة. يقعون فريسةً لقوى الكفار، الذين وضعوا على الأمة حزمةُ من الذئاب الخاطفة. وما ذاك إلا لأن هؤلاء القادة، الذين يأمرونهم، فقدوا أنفسهم في الفوائد الدنيوية. إنهم لا يريدون ما تريده الأمة منهم. فهم يعصون أوامر الله سبحانه وتعالى. هذه الأمة اليوم، في حالة متفوقة كثيرا عن جميع الدول الأخرى في هذا العالم، فهي لديها العدد وقوة في القلب وتعطش من أجل التحرر والازدهار. ومع ذلك؛ هذه الأمة المتفوقة، رغم امتلاكها الجيوش الأكثر تفوقا في العالم، فهي في أتعس حالة. تماما بالفعل كما أبلغنا رسول الله rمنذ قرون: «يوشك أن تداعى عليكم الأمم من كل أفق كما تداعى الأكلة على قصعتها»، قال: قلنا يا رسول الله أمن قلة بنا يومئذٍ؟ قال: «أنتم يومئذٍ كثير ولكن تكونون كغثاء السيل، ينتزع المهابة من قلوب عدوكم، ويجعل في قلوبكم الوهن»، قلنا وما الوهن؟ قال: «حب الدنيا وكراهية الموت» (أبو داود)

ومع ذلك، فإنه ليس من أمتنا أو جنودنا من وقع في "الوهن"، حب الدنيا وكراهية الموت، لأنهم توّاقون للتضحية بأثمن ما عندهم، وحتى حياتهم، في صالح إيمانهم وعقيدتهم. ويريدون حقا أن يصدقوا بأن هؤلاء الذين يقودونهم ويأمرونهم، يتصرفون بناء على الآمال والرغبات الإسلامية.

والحقيقة هي مع ذلك، أن الحكومة التركية وقادتها لم يتصرفوا أبدا بناء على إرادة الأمة أو الله عز وجل. وهم حتى لا يتصرفون بناء على إرادتهم. فهم يتصرفون فقط بناء على أوامر سادتهم الاستعماريين. فكيف يمكن أن يفسر عدم قدرة تركيا على التدخل في سوريا خلال الست سنوات الأخيرة؟ ولكنها اليوم، قادرة على إرسال قواتها تحت ذريعة محاربة إرهاب تنظيم الدولة أو أي كان، ولكنها لم تكن قادرة على إطلاق رصاصة واحدة من أجل حماية المسلمين الذين يستنجدون للمساعدة. تركيا وقادتها، يتباهون بأنهم "ساعدوا" بإنقاذ المسلمين من حلب، ومنح بعضهم قداسة تربتهم. كما يجمل أردوغان نفسه بإنقاذ بانا العابد، والفتيات في سن السبع السنوات من حلب، والتي غردت أمها خلال التفجيرات في اسمها. لا! والله! "عزيزتي بانا! فإنه سيكون أكثر دقة أن نشكر روسيا وإيران، بدلا من أردوغان وتركيا. لأنك في تركيا، فقط لأن روسيا وإيران سمحوا لك بمغادرة المدينة، وليس لأنه تم انقاذك! سمحوا لك بأن تتركي وطنك، لأن تركيا تعاونت واتفقت على مواصلة التعاون مع روسيا وإيران في محو المسلمين من سوريا. فالإنقاذ هو شيء... والمساعدة هي شيء آخر...

نعم، لقد قدمت تركيا المساعدة طوال هذه الـ6 سنوات: لقد فتحت قواعدها الجوية للكفار، حتى يتمكنوا من قصف الأطفال الأبرياء وأسرهم بسهولة... وفتحت حدودها حتى يتمكن اللاجئون المسلمون من استخدام مياهها بسهولة للإسراع إلى أحضان قتلتهم، والكثير، الكثير منهم ماتوا غرقا... وهي قد قدمت المساعدة، من خلال استيعاب اللاجئين في المخيمات ذات الرقابة الصارمة، شريطة انتظام الغذاء والرعاية الطبية، ولكن دون أمل في الحياة خارجها... وأخيرا ساعدت الكفار على التخلص من المجاهدين الذين حموا حلب، وتضليلهم، وإلهائهم عن طريق عملية درع الفرات. لذلك فهي فعلت ما في وسعها "لمساعدة" الكفار في تطهير المدينة من كل فرد مسلم داخلها.

نعم، هناك إرهاب في تركيا! وهناك إرهاب في سوريا. وكلاهما يجريان من القوى نفسها -القوى السياسية والعسكرية الموحدة من عشرات دول الكفار، مع الولايات المتحدة الأمريكية وروسيا وإيران باعتبارهم رأس الحربة. وهذا الإرهاب سوف يستمر بلا هوادة، ما لم يصحح قادة هذه الأمة خطأهم، وتركيا في الطليعة، ويجدوا طريقهم إلى الحق. وسوف يستمر، إلا إذا قطع زعماء المسلمين علاقاتهم مع أسيادهم المستبدين، وطرد أي من ممثليهم من البلاد الإسلامية، والبدء في اتخاذ قراراتهم بأنفسهم. تلك القرارات التي يعدون بالوفاء بها عندما يسألون، وعلاوة على ذلك حرفيا يعبئون، من أجل أصوات الأمة. ليس هناك شخص واحد - لا بين الأمة البسيطة، ولا القوات المسلحة - لن يضحي بحياته من أجل إطاعة أوامر القادة في تركيا. شهدنا هذا بالفعل أثناء محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو. لذلك الشيء الوحيد الذي عليهم القيام به هو إعطاء الأوامر الإسلامية الصحيحة. ثم، في هذه الحالة، ليس فقط المسلمون، من الرجال والنساء والشباب، سوف يتدفقون إلى الشوارع، بل العالم الإسلامي كله سيسرع في تنفيذ هذه الأوامر دون تأخير.

ومع ذلك، فإن الأمر ذا الأولوية الذي عليهم اتخاذه هو إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. وإذا كان لديهم أو لدى أحد من الأمة شكوك بالنجاح الفوري، إذن تذكروا بأن الله سوف يهدي القوم الذين ينصرون، فهذا هو وعد الله، ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ [سورة محمد: 7]، ﴿وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ﴾ [سورة فاطر: 17]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست