أبشر أيها النمنم فهي حقا معركة وجود وعلمانيتكم مهزومة من داخلها وتلفظ آخر أنفاسها
أبشر أيها النمنم فهي حقا معركة وجود وعلمانيتكم مهزومة من داخلها وتلفظ آخر أنفاسها

الخبر:   ذكر موقع الموجز الجمعة 2017/7/14م، أن حلمي النمنم وزير الثقافة المصري قال إن الحرب التي تخوضها مصر ضد (الإرهاب) بوضعه الراهن، أشد خطرا وأكثر شراسة من كافة الحروب التي سبق وخاضتها على مر التاريخ... مشيرا إلى أن الحرب ضد (الإرهاب) هي "حرب وجود" تستهدف كيان الدولة المصرية، وتسعى إلى تفتيتها وتقسيمها إلى مناطق صغيرة على أسس مذهبية وعرقية وطائفية وقبلية.

0:00 0:00
Speed:
July 18, 2017

أبشر أيها النمنم فهي حقا معركة وجود وعلمانيتكم مهزومة من داخلها وتلفظ آخر أنفاسها

أبشر أيها النمنم فهي حقا معركة وجود

وعلمانيتكم مهزومة من داخلها وتلفظ آخر أنفاسها

الخبر:

ذكر موقع الموجز الجمعة 2017/7/14م، أن حلمي النمنم وزير الثقافة المصري قال إن الحرب التي تخوضها مصر ضد (الإرهاب) بوضعه الراهن، أشد خطرا وأكثر شراسة من كافة الحروب التي سبق وخاضتها على مر التاريخ... مشيرا إلى أن الحرب ضد (الإرهاب) هي "حرب وجود" تستهدف كيان الدولة المصرية، وتسعى إلى تفتيتها وتقسيمها إلى مناطق صغيرة على أسس مذهبية وعرقية وطائفية وقبلية.

التعليق:

إن غلمان العلمانية لا يؤرقهم إلا الإسلام ولا يشغل بالهم إلا محاولات النيل منه ومن أحكامه، متبنين نفس رؤية سادتهم في الغرب الكافر ونفس خطابهم، ويتناسى هؤلاء المضبوعين أن الخطاب هنا يوجه لشعوب مسلمة تحب دينها وإن جهلت الكثير من أحكامه العملية نتيجة لسنوات طويلة من التجهيل والتشويه وتلويث الأفكار بواسطة الغرب وعملائه من الحكام العملاء ونخب العلمانيين المضبوعين بثقافته.

أيها المثقفون والسياسيون والمفكرون في مصر الكنانة إن الغرب هو صانع الإرهاب وداعمه ومنتج كل أدواته، والإسلام والمسلمون منه براء وتاريخنا وتاريخهم خير شاهد ودليل، وما خوفهم من عودة ديننا وسعيهم لوصمه بـ(الإرهاب) إلا دعاية لتبرير حربهم على المسلمين ومنعهم من إقامة الدولة التي تحمل مبدأهم وتحقق غايتهم وتنهي عقود هيمنة الغرب على بلادهم ونهب ثرواتهم وسلب خيراتهم ومقدراتهم، تبرير لا يوجه لشعوبنا وإنما يوجه لشعوبهم التي تدفع الضرائب التي ينفق منها على هذا الصراع، تبرير لتلك الشعوب التي لا يعنيها تأمين منابع النفط في العراق وبحر قزوين لصالح شركات النفط الكبرى التي تتحكم في سياسييهم وقادتهم.

يا أبناء الكنانة عامة ومثقفيها خاصة! إن الإسلام وحده هو الذي يضمن لمصر وللأمة نهضة حقيقية ودائمة، هو وحده الذي يضمن لمصر كيانها ويبقي ليس على وحدتها فحسب، بل يعيد لها ما اقتطعه الغرب منها بحدوده المصطنعة، وأكثر من ذلك يعيده جزءا من دولة عظيمة كانت يوما جزءا منها دولة الإسلام (الخلافة على منهاج النبوة).

يا أبناءنا وإخواننا وأهلنا في مصر عامة وخاصة إخوتنا في جيش الكنانة وسياسييها ومثقفيها وأهل القوة والمنعة فيها، لسنا بغرباء عنكم فاسمعوا منا فإن وجدتم خيرا قبلتموه وإن وجدتم شرا كُف عنكم ما تكرهون، إننا نحمل إليكم دينكم الذي به تؤمنون وأحكامه التي نزلت في هذا القرآن الذي تتلون، والتي أوجبها الله وأوجب العمل بها وتطبيقها وجعل لتطبيقها طريقة شرعية محددة وهي تحكيم الإسلام من خلال الخلافة على منهاج النبوة، وأوجب أن تكون دولة واحدة لكل المسلمين يحكمها حاكم واحد تنيبه الأمة عنها ببيعة شرعية صحيحة على أن يحكمها بالإسلام وله عليها السمع والطاعة ما دام قائما فيها يحكمها بعدل الإسلام. كما أوجب الإسلام على الأمة أن تحاسب هذا الحاكم وتلزمه جادة الحق وتمنعه ظلم رعيته التي استرعاه الله عليها.

يا أهل الكنانة! إننا في حزب التحرير نحمل لكم مبدأ الإسلام الذي ينسجم معكم ومع فطرتكم وبيئتكم والمنبثق عن عقيدتكم، إنه المبدأ الذي حكم به نبيكم r وبعده الخلفاء الراشدون المهديون ومن خلفهم لما يزيد عن ثلاثة عشر قرنا من الزمان وصل العدل في فترات منها لقمة لا يصل لها أحد ويشهد بها العدو قبل الصديق، ويكفينا منها ما كان من حال عمر بن الخطاب في عام المجاعة عندما كان أول من جاع عندما جاع الناس وآخر من أكل عندما شبع الناس ومقولته الشهيرة (والله لا أذوق اللحم حتى يشبع منه أطفال المسلمين) ورده على اليهودي العجوز الذي كان يسأل الناس ليدبر مال الجزية فقال عمر (والله ما أنصفناك نأخذ منك شاباً ثم نضيعك شيخاً والله لأعطينك من مال المسلمين)، وما كان من عمر بن عبد العزيز ومقولته الشهيرة "انثروا القمح على رؤوس الجبال كي لا يقال جاع طير في بلاد المسلمين"، إن تاريخنا حافل بقصص العدل التي لا يضاهيها في الدنيا عدل وكلها نتجت من تطبيق الإسلام، ولا يستوي أبدا تطبيق الإسلام مع إساءة هذا التطبيق وتطبيق الرأسمالية مع إحسان تطبيقها فتطبيق الإسلام في ذاته عدل وكفيل بتقويم اعوجاج منفذيه من الحكام بما فيه من أحكام، أما العلمانية فهي دين الهوى تتغير وتتلون على هوى الحكام وتضع القوانين والأحكام التي تناسبهم وتستعبد الناس لهم ولمن خلفهم من السادة في الغرب، وقد عشتم تحت حكمها وجربتموها عقودا طويلة لم تروا فيها إلا البؤس والشقاء والتعاسة، ولن ينجيكم منها إلا ما نحمله لكم وندعوكم إليه مبدأ الإسلام الذي يطبق فقط في ظل الخلافة على منهاج النبوة.

نعم إن بلادنا كلها وليست مصر وحدها تواجه خطرا شديدا وحرب وجود مصيرية بينها وبين الغرب بمبدئه الرأسمالي، فالصراع في حقيقته هو صراع بين الإسلام والرأسمالية، وهو صراع لن ينتهي إلا بزوال أحدهما وفناء واندثار الأمة التي تحمله، والإسلام ليس مؤهلا للزوال وأمتنا ليست مؤهلة للموت والفناء والاندثار، وحتما سيأتيها نصر وعد الله به وبشر به نبيه r وستكون يا نمنم خلافة على منهاج النبوة تحكم بالإسلام الذي تكره وتزيل هيمنة سادتك في الغرب الكافر ولا تبقي لهم سيادة ولا أمناً حتى في عقر دارهم إن بقي لهم عقر دار، أبشر يا نمنم وبشر سادتك من الحكام وسادتهم من خلفهم أن نصر الله قد اقترب والشدة التي تمر بها الأمة الآن وهذه الدماء التي تسيل ما هي إلا ثمن زهيد ندفعه لقاء نصر الله وجنة عرضها السماوات والأرض، وما انتفاش باطلكم الآن إلا من إرهاصات وبشائر هذا النصر القادم قريبا، فكلما اشتد بطشكم دنت ساعة نهايتكم؛ فأشد ساعات الدجى ما يسبق الفجر وفجر أمتنا قريب نراه ونتنفس نسيمه، صبحاً يزيل باطلكم ويعلي راية الإسلام ومبدأه ويعيد الدولة التي تطبقه على الناس تطبيقا صحيحا وحقيقيا، فيراه الناس واقعا عمليا مطبقا فيدخلون في دين الله أفواجا ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله...

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست