ادعاء الشيخة حسينة الخاطئ حول نجاح المرأة لن يأتي بأمل لنساء بنغلادش (مترجم)
ادعاء الشيخة حسينة الخاطئ حول نجاح المرأة لن يأتي بأمل لنساء بنغلادش (مترجم)

الخبر:   بحسب الأخبار التي نشرت في bdnews24.com يوم 2016/05/18 وخلال خطاب في المنتدى العالمي للنساء القائدات الذي انعقد في العاصمة البلغارية صوفيا، أكدت الشيخة حسينة رئيسة وزراء بنغلادش على التزام حكومتها القوي بتحطيم كل العوائق من أجل تحقيق المساواة بين الرجل والمرأة، وقالت إن تمكين النساء هو موضوع قريب جدًا من قلبها. ومشيرةً إلى استلام النساء لعدة مناصب مهمة في بلادها، قالت حسينة إن بنغلادش هي نموذج وقدوة سياسية. إن بنغلادش اليوم هي لربما الدولة الوحيدة في العالم التي تترأس وزارتها امرأة، وزعيمة البرلمان امرأة، ونائب رئيسة البرلمان امرأة، وزعيمة المعارضة امرأة، والناطق الرسمي امرأة. وقالت إنه يوجد في بنغلادش اليوم 70 امرأة عضوات في البرلمان وهو ما يمثل 20% من البرلمان. وقالت أيضًا "النساء يخدمن في عمليات حفظ السلام التابعة للأمم المتحدة، وكدبلوماسيات، وطيارات لمقاتلات، ونساء أعمال رائدات - لذا فإن نساء بنغلادش قد حطّمن حقيقة العوائق وهن الآن وكيلات في التطوير النشط في عملية بناء الدولة".

0:00 0:00
Speed:
May 24, 2016

ادعاء الشيخة حسينة الخاطئ حول نجاح المرأة لن يأتي بأمل لنساء بنغلادش (مترجم)

ادعاء الشيخة حسينة الخاطئ حول نجاح المرأة

لن يأتي بأمل لنساء بنغلادش

(مترجم)

الخبر:

بحسب الأخبار التي نشرت في bdnews24.com يوم 2016/05/18 وخلال خطاب في المنتدى العالمي للنساء القائدات الذي انعقد في العاصمة البلغارية صوفيا، أكدت الشيخة حسينة رئيسة وزراء بنغلادش على التزام حكومتها القوي بتحطيم كل العوائق من أجل تحقيق المساواة بين الرجل والمرأة، وقالت إن تمكين النساء هو موضوع قريب جدًا من قلبها. ومشيرةً إلى استلام النساء لعدة مناصب مهمة في بلادها، قالت حسينة إن بنغلادش هي نموذج وقدوة سياسية. إن بنغلادش اليوم هي لربما الدولة الوحيدة في العالم التي تترأس وزارتها امرأة، وزعيمة البرلمان امرأة، ونائب رئيسة البرلمان امرأة، وزعيمة المعارضة امرأة، والناطق الرسمي امرأة. وقالت إنه يوجد في بنغلادش اليوم 70 امرأة عضوات في البرلمان وهو ما يمثل 20% من البرلمان. وقالت أيضًا "النساء يخدمن في عمليات حفظ السلام التابعة للأمم المتحدة، وكدبلوماسيات، وطيارات لمقاتلات، ونساء أعمال رائدات - لذا فإن نساء بنغلادش قد حطّمن حقيقة العوائق وهن الآن وكيلات في التطوير النشط في عملية بناء الدولة".

التعليق:

في الوقت الذي تبذل فيه الشيخة حسينة جهودًا جبّارة في رسم صور خيالية عن نجاح حكومتها في تحقيق المساواة بين الجنسين وتمكين المرأة، تعاني ملايين النساء في بلادها نتيجة للأوضاع الاقتصادية المزرية والسياسات الظالمة تجاه النساء، والتي نتجت بسبب تطبيق النظام الاقتصادي الرأسمالي الفاسد. لقد أجبر الفقر المدقع ملايين النساء على العمل في صناعة الملابس مقابل أجور متدنية جدًا، وأوضاع صعبة للغاية فقط من أجل الحصول على لقمة العيش لهن ولأطفالهن. وللهروب من الفقر غادرت آلاف النساء البلاد للعمل كخادمات في منازل بلاد الشرق الأوسط حيث يتم استغلالهن جسديًا وجنسيًا بشكل مستمر. تحت مسمى تمكين المرأة جرّد هذا النظام النساء من حقوقهنّ في تلقي المساعدات المالية من أقاربهنّ الذكور ومن الدولة. في الواقع، إن هذا النظام قد جعل من المرأة سلعةً اقتصاديةً وحوّلها إلى أمَة (عبدة) اقتصادية فقط من أجل توليد الثروة للاقتصاد. يجب على رئيسة الوزراء أن تعلم أن تولي المرأة عدداً من المناصب في البرلمان لا يمثل أي نجاح لمكانة المرأة، وأن معظم نساء بنغلادش لا يوافقن حسينة في قصتها عن النجاح. وعلى سبيل المثال فإن رواندا هي الدولة الوحيدة في العالم التي يفوق فيها عدد النساء في البرلمان عدد الرجال ومع ذلك يعيش الملايين من النساء فيها تحت خط الفقر. وفي موزمبيق والملاوي وبرونوري تشكل النساء القسم الأكبر من القوى العاملة في البلاد، ومع ذلك فإنّهن يعانين من الفقر المدقع والصعوبات المالية الجمة.

الحقيقة، أنه في جميع بلاد المسلمين بما فيها بنغلادش، تعاني النساء من صعوبة مالية نتيجة للسياسات الاستعمارية الرأسمالية المفروضة على العالم الإسلامي من الدول الغربية. إن المفهوم الغامض للمساواة بين الجنسين وتمكين المرأة الأساسي كربة بيت، تضطر المرأة إلى الخروج للعمل لكسب قوتها. ولكن من أجل كسب رضا الأسياد الغربيين ولبناء ثروة شخصية، يروّج الحكام العاجزون في بلادهم، ويدّعون أنها حققت نجاحاً يحتذى به للنساء، مع علمهم أنها لم تحقّق إلّا البؤس المستمر لنساء العالم الإسلامي.

في الواقع، فإن هذه الحكومة الظالمة وهذا النظام الرأسمالي الفاسد ومفاهيمه المقيتة قد فقد المصداقية لرعاية شؤون المرأة المسلمة. تحتاج النساء اليوم إلى نظام جديد، فكرة جديدة، وسياسات جديدة لا تحولهنّ إلى عبيد اقتصاديين ولا تبني تقدم المجتمع على حساب معاناتهنّ، ولكن تحميهنّ من الفقر، ومن الاستغلال والعبودية. هذا النظام هو نظام الإسلام، نظام دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، الذي سيحرر النساء المسلمات حقًا من العبودية الاقتصادية ومن الفقر ومن انتهاك حقوقهنّ الاقتصادية التي ضمنها لهنّ الإسلام. في ظل هذه الدولة لن تضطر المرأة للسعي للحصول على وظيفة أو العمل حتى الموت لتشعر بالتمكين، ولن تضطر إلى التنافس مع الرجل للحصول على قيمة. لن تسمح لها الدولة للعمل بظروف مهينة واستعبادية ومضطهدة ولكن على العكس سوف تضمن وجود بيئة من الكرامة والشرف والمكانة الرفيعة في المجتمع وهو كونها أماً وأختاً وامرأة. من هنا فإنه يجب على نساء بنغلادش ألّا ينخدعن بدعاوى حسينة الخاطئة. ولكي تكون بنغلادش حقًا قدوةً للنساء ونجاحهن، يجب على نساء بنغلادش العمل الدؤوب لإقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فهميدة بنت ودود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست