أضف إلى رصيد الحكام امرأة مسلمة تُضرب وتُهان
أضف إلى رصيد الحكام امرأة مسلمة تُضرب وتُهان

الخبر:   نشر موقع الجزيرة نت في يوم الخميس 2016/7/7 هذا الخبر وننشر مقتطفات منه: "... وجرى التعدي على هذه  السيدة المحجبة ظهر السبت الماضي، غير أن وسائل الإعلام الألمانية لم تكشف عن تفاصيله إلا الأربعاء، ونقلت صحيفة "كييلرناخريشتن" الصادرة بمدينة كييل التي وقع فيها الحادث عن الضحية وهي ألمانية من أصل تركي تبلغ 35 عاما، قولها إن شخصا هجم عليها فجأة خلال سيرها في شارع بضاحية نوي ميهيلين في طريقها لمتجر، وصرخ بسباب للمسلمين ثم وجه لها عدة لكمات قوية بوجهها.

0:00 0:00
Speed:
July 08, 2016

أضف إلى رصيد الحكام امرأة مسلمة تُضرب وتُهان

أضف إلى رصيد الحكام امرأة مسلمة تُضرب وتُهان

الخبر:

نشر موقع الجزيرة نت في يوم الخميس 2016/7/7 هذا الخبر وننشر مقتطفات منه:

"... وجرى التعدي على هذه  السيدة المحجبة ظهر السبت الماضي، غير أن وسائل الإعلام الألمانية لم تكشف عن تفاصيله إلا الأربعاء، ونقلت صحيفة "كييلرناخريشتن" الصادرة بمدينة كييل التي وقع فيها الحادث عن الضحية وهي ألمانية من أصل تركي تبلغ 35 عاما، قولها إن شخصا هجم عليها فجأة خلال سيرها في شارع بضاحية نوي ميهيلين في طريقها لمتجر، وصرخ بسباب للمسلمين ثم وجه لها عدة لكمات قوية بوجهها.

وقالت السيدة إن الاعتداء حدث خلال ثوان، وإن الجاني ضربها بوجهها بعنف بالغ كأنه يصارع غريما له بحلبة ملاكمة، وأشارت إلى أنها راقبت خلال سقوطها على أرض الشارع نازفة المعتدي وهو ينصرف بخطوات طبيعية وكأنه لم يفعل شيئا..."

التعليق:

ضُربت أختنا في أواخر شهر رمضان وكُشف عن الحادثة في يوم عيد الفطر. هذه الحادثة الشرسة تعكس جزءاً بسيطاً من الإرهاب الذي يمارسه الكفار ضد المسلمين في بلاد الغرب الكافر. وهو خبر صادم إلا أن الصدمة الأسوأ تكمن في غياب ردة فعل سريعة لأردوغان، فهذه الحادثة تعكس تصعيداً غير مسبوق للعنف على المرأة المسلمة التي تعيش في بلاد الغرب الكافر؛ وأين أردوغان رئيس تركيا المحترم؟ نجده مشغولاً بدعم بشار وحصار المسلمين في سوريا وقتلهم؛ ونجده فخوراً بالتطبيع مع اليهود أعداء الله ورسوله eالذين يقتلون المسلمين في فلسطين ويحتلون مسرى رسول الله منذ عقود؛ كما نجده مبسوطاً كونه وطد صداقته مع بوتين الملحد الحاقد على الإسلام والمسلمين! وأيضاً نجد النظام التركي يركض لاهثاً خلف عضوية الاتحاد الأوروبي مع أن الدول الأعضاء لا تريد لتركيا الانضمام لأنه بلد مسلم. ولماذا يهتم أردوغان لامرأة مسلمة واحدة ضربت وأهينت وهو الذي غض البصر عن آلاف وآلاف المسلمات اللاتي تُنتهك أعراضهن يومياً على أيدي الكفار ومن والاهم؟ ولا نتحدث عن أردوغان فقط، بل إن هذه المرأة المسلمة هي مسؤولة من كل حكام المسلمين، لكنها مآساة الأمة الإسلامية التي تشتتت وتمزقت بعد هدم دولة الخلافة التي كانت سداً منيعاً في وجه الاستعمار الأوروبي الذي انتشر بعد سقوط دولة المسلمين الواحدة.

إن سبب هذه المهانة وهذه المذلة التي يعيشها المسلمون في بلاد الغرب الكافر هو الأنظمة الحاكمة في بلادهم والفاشلة في الدفاع عنهم، في خارج البلاد كما هو الوضع في داخلها. فإن كان نظام أردوغان العلماني ناجحاً اقتصادياً كما يدعي أتباعه فلماذا هاجر عشرات الآلاف من أهل تركيا إلى ألمانيا ليعيشوا بدون كرامة، أرواحهم مهددة طوال الوقت؟! وليست هذه الحادثة الأولى التي يؤذى فيها مسلم من تركيا في ألمانيا وشأنه شأن المسلمين من مختلف البلاد الذين يعيشون في بلاد الغرب الكافر بعد أن هاجروا من ديارهم بسبب الأنظمة الحاكمة التي باعت أعراضهم وأراضيهم وثرواتهم للكافر المستعمر، فلا تركت هذه الحكومات الشعب يعيش في بلده باطمئنان ولا رعته في بلاد المهجر.

إن من يضرب امرأة في الطريق العام وبهذا الشكل المريع إنسان مريض يحمل عقلية همجية، وفي هذه الحالة ضرب امرأة مسلمة فهو كالمقاتل في الحروب الصليبية المتعطش لسفك دماء المسلمين، وفي وقتنا هذا يبحث عن ضحية ليمارس حريته بلا رادع ولا وازع، هذا الشخص الذي تجرع الإلحاد وكراهية التدين وعُجن بمفاهيم مدمرة، مفاهيم الحضارة الغربية المتعفنة التي أضلته وأصبح يطالب بفصل الدين عن الحياة، هذا الشخص الذي يعشق أفلام العنف والشذوذ ويكره الجميع وهدفه فقط تحصيل أكبر كم من المتع والأموال، أضف إلى ذلك تاريخ ألمانيا الدموي الذي لا يخفى على أحد، تربى هذا المجرم على العنصرية من صغره، يعيش في مجتمع كافر أدمن حياة الفسوق والانحلال، مجتمع فيه الناس أشبه بأسلحة دمار شامل بما يحملونه من أفكار ومفاهيم هدامة؛ لا يرى غضاضة في ضرب امرأة، وكيف إن كانت امراة مسلمة تلبس الخمار الذي استفزه، حتى كسر أنفها وسقطت أرضاً، ولم يساعدها أحد من المارة، طبيعي! لأن هذه ثقافة مجتمع بأكمله وليست جريمة فردية.

فهذه الحادثة تفضح زيف الديمقراطية وحرية العقيدة وتفضح أكذوبة التعايش السلمي وتفضح المنظمات النسوية التي لا تحارب العنف ضد المرأة إن كانت هذه المرأة "المعنفة" مسلمة، ونحن لا ننتظر من القضاء في ألمانيا شيئاً فلو كان هذا الشخص يخاف من القضاء في بلده  لما تجرأ وضرب المرأة بدون داع إلى ذلك، فهو يعلم أن القضاء ينصفه، كما لا يجب أن يكون الرد على ما حدث لأختنا مجرد التنديد والشجب، فما يعانيه المسلمون في أوروبا وحول العالم هو نتيجة مخطط تنفذه الأنظمة الحاكمة في الغرب والتي تشحن عقول الغربيين بكراهية الإسلام لأنه دين إرهابي!! أي مفارقة وأي تناقض!! لقد أدرك الغرب الكافر أن الحرب هي حرب صليبية على الإسلام ويتصرف أبناء الحداثة والعصرنة على هذا الأساس، فمتى يدرك المسلمون طبيعة هذه الحرب؟!

ما كانت حكومات بلاد الغرب الكافر ولا وسائل إعلامها تجرؤ على أن تمس شعرة واحدة من رأس مسلم أو مسلمة لو كانت لدينا دولة إسلامية قوية تدافع عن المظلومين أينما كانوا! فالخلافة القادمة منقذة العالم كله من ظلم الأنظمة الرأسمالية للإنسانية جمعاء. أما ظلمها للكافر بأنها نفرته وخوفته من الإسلام وغطت على عقله وقلبه لتحقق مصالح مادية ومناصب وسلطة وشهرة للسياسيين، وأما ظلمها للمسلم الذي شُرد وهُجر من بلاده بعد أن هدمت الدولة الإسلامية الواحدة التي جمعت أبناء الأمة الإسلامية وتحرك الجيوش لنصرة المسلمين والمستضعفين أينما كانوا وهي التي تحرك الجيوش لتدافع عن المرأة المسلمة كما فعل رسول الله eوالخلفاء من بعده.

إن الرد الوحيد لما حصل هو أن يعمل المسلمون في ألمانيا وفي بلاد المسلمين على طرد النفوذ الغربي من بلادهم وعلى إسقاط الأنظمة العميلة وأن يعملوا لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي ستنتقم للمسلمات والمسلمين والتي سيعيش المسلم والكافر في كنفها بعيداً عن ظلم الكفر وأهل الصليب وبها ينتصر الحق على الباطل بإذن الله تعالى.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة محمد حمدي – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست