عدم التشدد (التطرف) يساوي العلمانية (مترجم)
عدم التشدد (التطرف) يساوي العلمانية (مترجم)

 الخبر:   عقد مؤخرًا في كوالالمبور المؤتمر الدولي لمنع التطرف ومحاربة العنف المتطرف لعام 2016. وقد حضر المؤتمر جميع وزراء آسيا، بالإضافة إلى تسعة وزراء من الدول الاستراتيجية الشريكة وهي الولايات المتحدة، وفرنسا، وأستراليا، وبريطانيا، والسعودية، واليابان،

0:00 0:00
Speed:
February 27, 2016

عدم التشدد (التطرف) يساوي العلمانية (مترجم)

عدم التشدد (التطرف) يساوي العلمانية

(مترجم)

الخبر:

عقد مؤخرًا في كوالالمبور المؤتمر الدولي لمنع التطرف ومحاربة العنف المتطرف لعام 2016. وقد حضر المؤتمر جميع وزراء آسيا، بالإضافة إلى تسعة وزراء من الدول الاستراتيجية الشريكة وهي الولايات المتحدة، وفرنسا، وأستراليا، وبريطانيا، والسعودية، واليابان، والإمارات العربية، والصين وإيطاليا. وقام ممثلو الدول بعرض الإجراءات التي يقومون بها ضد الإرهاب في بلدانهم. ولمواجهة الجماعات الدينية المتطرفة والإرهابيين، قال رئيس وزراء ماليزيا داتوك سيري نجيب تون رزاق في كلمته الافتتاحية أن ماليزيا سنت قانون الجرائم الأمنية (إجراءات خاصة) (سوسما)، في عام 2012 من أجل حماية الناس من النشاطات الإرهابية، بالإضافة لهذا، فقد قدمت الحكومة تشريعًا لمجلس الأمن القومي كان قد وافق عليه مؤخرًا مجلس النواب ويهدف إلى مكافحة النشاطات التي من الممكن أن تشكل تهديدًا على الأمن الوطني. وأخيرًا، تبذل الحكومة الماليزية مساعي لجعل ماليزيا المركز الإقليمي للاتصالات والرسائل الرقمية، والذي سيحصل على ميزانية تبلغ 200 مليون رينجيت ماليزية من الحكومة الماليزية ويستخدم نماذج مماثلة للنماذج التي تبنتها الولايات المتحدة والإمارات العربية.

التعليق:

إن مصطلح "متشدد (متطرف)" ليس مصطلحًا غريبًا لأنه يستعمل منذ مدة لإعطاء مفهوم سلبي لأفراد أو جماعات يمتلكون وجهة نظر معينة عن الحياة. ولقد استعمله الغرب بشكل مكثف لوصم أفراد وجماعات إسلامية مختلفة. ولكن هذا المصطلح يعتبر جديدًا نوعًا ما كما أبرزته الحكومة الماليزية. إن كلمة "تشدد (متطرف)" هي كلمة ترتبط أو تؤثر على الطبيعة الأساسية لشيء ما (بعيد المدى أو عميق). وبناءً على هذا التعريف فإن "التشدد (المتطرف)" بمعناه الأصلي هو كلمة محايدة، وليست مائلة إلى شيء سلبي أو إيجابي.

ولذا فإن تقرير إذا ما كان هذا المفهوم هو سلبيًا أو إيجابيًا يعتمد على كيفية استخدامه. وعلى سبيل المثال إذا ما عرف مسلم بأنه "مسلم متشدد (متطرف)"، فهذا يعني أن الشخص هو مسلم يؤمن حقيقةً بالإسلام بشكل صحيح ودقيق، وهذا ما يجب أن يكون عليه حقيقةً موقف المسلم. وبكلمات أخرى إذا ما كان المسلم يطبق الإسلام بشكل جزئي أو يرى أن الحلول الإسلامية ليست حصرية، فهذا يعني أنه ليس "متشددا (متطرفاً)". ولكن هذا المصطلح قد حرفه الغرب وأعداء الإسلام بنجاح من أجل إعطائه مفهومًا مرادفًا للإرهاب. وهذه الدعاية الكاذبة كانت ناجعةً عندما وجهت نحو أفراد وجماعات لا توافق الفكر والمصالح الغربية. وأصبح مصطلح "الإسلام المتشدد (المتطرف)" كثير الاستعمال ضد من يعارضون الأفكار الغربية ونظامها الرأسمالي العلماني الديمقراطي، ويسعون لإجاد الإسلام محله.

قال آنجيل راباسا، أحد أعضاء مؤسسة راند في ندوة لمؤسسة اليابان للعلاقات الدولية والذي عقد في طوكيو عام 2008، إن المسلم المعتدل هو المسلم الذي يقبل التعددية والمساواة بين الجنسين والديمقراطية والمجتمع المدني والإنساني. وقال أندرو مكارثي من ناشينال ريفيو أون لاين يوم 2010/08/24 بكل وضوح إن أي شخص يدافع عن الشريعة الإسلامية لا يمكن وصفه بالمعتدل.

وبناءً على ذلك فإن مصطلح "الإسلام المتشدد (المتطرف)" نشر بمضمون سلبي أدى بعدها لخلق مصطلح "الإسلام المعتدل". وبهذا المصطلح تم إيجاد نوع غربي للإسلام. ومفهوم هذا المصطلح "الإسلام المعتدل" يناقض "الإسلام المتشدد (المتطرف)" في كونه ينطبق على من يرغبون، بوصفهم مسلمين، قبول طريقة الغرب في الحياة. في الواقع فإن هذه هي نية الكفار، لن يكونوا سعداء ما لم نتبع طريقتهم في الحياة، إن طريقة الغرب في الحياة هي طريقة علمانية تفصل الدين عن الحياة اليومية. ويجب ألا يتدخل الدين، في إطار العلمانية، في شؤون الحياة حيث لا محل لأحكام الله عز وجل. في هذه الخدعة العلمانية يعتبر الإسلام أمرًا شخصيًا، ولا يلعب دورًا في إدارة المجتمع والدولة. ومن هنا فإن أي مسلم يريد تطبيق الأحكام الشرعية بشكل كامل - في حياته الخاصة وفي الدولة؛ الخلافة - يعتبر متطرفًا و"متشددًا". وقال رئيس وزراء بريطانيا السابق توني بلير أن الإسلام فكر شيطاني (بي بي سي 2005/07/16) لأنه: 1. يريد القضاء على "كيان يهود". 2. يريد وضع أحكام الشريعة مصدرًا للقوانين. 3. يطمح لإقامة الخلافة. 4. ولأنه مخالف للقيم الليبرالية. وبدون شك هذا المضمون سوف يستمر في وصف المسلمين الملتزمين بالإسلام "بالتطرف" أو حتى "الإرهاب"، ويوصف من يتبعون القيم الغربية "بالاعتدال".

في الواقع، إن مشروع عدم التطرف تم تقديمه لترويض من يطمحون لتطبيق الإسلام بشكل كامل. إن مصطلحات مثل "الدولة الإسلامية " و"الخلافة" و"الجهاد" وغيرها تم إعطاؤها مفهوما سلبيا كبيرا. وكذلك فإن الشعائر الإسلامية والرموز الإسلامية مثل لواء رسول الله r ورايته سيتم ربطها مباشرةً بالتطرف والإرهاب. ويراد من خلال عدم التطرف دفع المسلمين والحركات الإسلامية للاستمرار بالعمل تحت المظلة الديمقراطية، وإطاعة القوانين البشرية والإعراض عن أحكام الله عز وجل، والقبول بالدستور الاستعماري ووضعه فوق القرآن الكريم، وأكثر من ذلك تقسيم المسلمين بواسطة القومية والوطنية وعدم العمل لإقامة الخلافة على منهاج النبوة.

هذا ما يريده الغرب، وسيكون هذا أحد المساعي الأساسية لفكرة عدم التطرف - دفع المسلمين بعيدًا عن الإسلام وعلمنة الأمة. يجب على المسلمين أن يدركوا أن أجندة عدم التطرف هي لإبعادهم عن المفاهيم الحقيقية للإسلام وتثبيط عزائم حملة الدعوة من التمسك به بوصفه طريقةً كاملةً للحياة. من الأفضل لنا أن نكون "مسلمين متشددين (متطرفين)"، نصوم ونصلي ونسعى لتطبيق الإسلام كاملاً، على أن نكون "مسلمين معتدلين" نصوم ونصلي ولكننا نتبع رغبات وشهوات الغرب.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست