أفغانستان مباحثات في مصر وعروش تهتز
أفغانستان مباحثات في مصر وعروش تهتز

الخبر:   ذكرت قناة الأخبار على موقعها الأحد 2021/8/15م، أن الرئيس المصري بحث مع ويليام بيرنز، مدير وكالة الاستخبارات المركزية الأمريكية "CIA"، تطورات الأوضاع في أفغانستان ومستجدات ملف سد إثيوبيا المتنازع عليه بين القاهرة والخرطوم وأديس أبابا، ونشرت الرئاسة المصرية بياناً الأحد، جاء فيه أن السيسي استقبل بيرنز، بحضور عباس كامل رئيس المخابرات العامة بمصر، وجوناثان كوهين السفير الأمريكي بالقاهرة، دون تحديد مدة زيارة مدير الاستخبارات الأمريكية أو موعد وصوله. وأكد السيسي خلال اللقاء "الأهمية التي توليها مصر للتعاون الراسخ بين البلدين في مختلف المجالات، خاصةً على الصعيد الأمني والاستخباراتي في ضوء انتشار خطر الإرهاب والتطرف". كما قال بيرنز، إن بلاده "حريصة على التنسيق المستمر مع مصر إزاء التحديات المختلفة، لا سيما في ضوء تطورات الأوضاع بمنطقتي الشرق الأوسط وشرق المتوسط والقارة الأفريقية".

0:00 0:00
Speed:
August 17, 2021

أفغانستان مباحثات في مصر وعروش تهتز

أفغانستان مباحثات في مصر وعروش تهتز

الخبر:

ذكرت قناة الأخبار على موقعها الأحد 2021/8/15م، أن الرئيس المصري بحث مع ويليام بيرنز، مدير وكالة الاستخبارات المركزية الأمريكية "CIA"، تطورات الأوضاع في أفغانستان ومستجدات ملف سد إثيوبيا المتنازع عليه بين القاهرة والخرطوم وأديس أبابا، ونشرت الرئاسة المصرية بياناً الأحد، جاء فيه أن السيسي استقبل بيرنز، بحضور عباس كامل رئيس المخابرات العامة بمصر، وجوناثان كوهين السفير الأمريكي بالقاهرة، دون تحديد مدة زيارة مدير الاستخبارات الأمريكية أو موعد وصوله. وأكد السيسي خلال اللقاء "الأهمية التي توليها مصر للتعاون الراسخ بين البلدين في مختلف المجالات، خاصةً على الصعيد الأمني والاستخباراتي في ضوء انتشار خطر الإرهاب والتطرف". كما قال بيرنز، إن بلاده "حريصة على التنسيق المستمر مع مصر إزاء التحديات المختلفة، لا سيما في ضوء تطورات الأوضاع بمنطقتي الشرق الأوسط وشرق المتوسط والقارة الأفريقية".

التعليق:

ما حدث في أفغانستان يثبت هشاشة كل أنظمة العمالة للغرب تلك التي تحكم بلادنا وتتنمر وتستأسد على شعوب مغلوبة مقهورة، ما حدث هناك رسالة لكل تلك الشعوب أن هؤلاء هم حكامكم بدون غطاء من سادتهم فئران مذعورة تفر في أي اتجاه، ورسالة واضحة المعالم لكل حكام بلادنا أن هؤلاء هم سادتكم الذين ركنتم إليهم وقهرتم شعوبكم وأمتكم من أجلهم واستبدلتم رضاهم بسخط الله عليكم، في النهاية لا تساوون عندهم شيئا لقاء مصالحهم في بلادكم التي تحكمون فلو اقتضت مصالحهم إلقاؤكم للشعوب تقتص منكم وتذيقكم ما أذقتموهم فسيفعلون ولن يرف لهم جفن ولن يذرفوا عليكم دمعة واحدة، رسالة من سادتكم لإرهابكم حتى يضمنوا استمرار عمالتكم ومزيداً من خضوعكم لأطماعهم ومزيداً من رعاية وخدمة مصالح السادة، ورسالة من الله لكم أن هذه عاقبة كل خائن لله ولرسوله ودينه وأمته يستخدمه الغرب لمسح قذارتهم حتى يستنزفونه فإذا انتهى دوره ألقوه كخرقة بالية لا قيمة لها بل ربما تكون الخرقة أكثر قيمة من هؤلاء العملاء!

نعم رسائل كثيرة وراء ما حدث في أفغانستان ولربما كان هذا هو محور اللقاء بين السيسي ورئيس المخابرات الأمريكي الذي تحدث في قضايا شائكة كسد النهضة، وملفات طلب من النظام المصري التعامل معها وحلها كملف ليبيا وفلسطين، وكأن لسان حاله يقول للرئيس المصري هذا هو مصير من يتلكأ في تنفيذ قراراتنا أو يقصر في رعاية مصالحنا ونحن لا يعنينا من يكون الحاكم بقدر ما يعنينا حرصه على مصالحنا، الأمر الذي يفهمه السيسي بكل تأكيد ولهذا أقحمكم في محادثاته أمر الإرهاب والتطرف وكأنه يستعديهم على طالبان، ويذكرهم أنه رجلهم الذي وقف في وجه الإسلاميين وطمأنهم علهم يبقون عليه ولا يتخلون عنه كما فعلوا مع غيره خاصة مع عظيم جرمه في حق أهل مصر.

إن النظام المرتعش يخشى وحق له أن يخشى أن تدور عليه الدائرة وحقا وحتما ستدور إن لم يكن بيد سادته في الغرب فبيد الأمة الثائرة التي لا يدرك الغرب ماهيتها وإن أتقن فن التعامل معها، إلا أن وعي الأمة سنواتها الأخيرة قد نما وزاد ولهذا فشلت الكثير من خطط أمريكا ومؤامراتها ضدها وأدركت أن صراعها معها بات يستنزف قوتها ويبين ضعفها فهي التي لم تستطع هزيمة جنود طالبان ولم تتمكن من رعاية مصالحها بشكل صحيح حتى لجأت لعدوها ليؤمن لها مصالحها وما تنهب من خيرات الأمة، فأمريكا اليوم وكدولة هي الأولى في العالم وحاملة للنظام الرأسمالي لا يبقيها ويبقي نظامها المهترئ حيا إلا غياب دولة العدل وأداء الحقوق دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، تلك الدولة التي يخشى الغرب قيامها ويحاربها قبل ولادتها أيما حرب وينفق في سبيل تأخير قيامها كل غال ونفيس.

يا أهل مصر الكنانة: إن بلادكم ليست في حاجة لأمريكا ولا نظامها ولا قروضها ولا بنكها الدولي وقراراتها التي تزيدكم فقرا فوق فقر وبؤساً فوق بؤس، فالفظوا عنكم نظام العمالة هذا ونظامه الرأسمالي الذي يطبق عليكم وأقيموها دولة عز ترضي ربكم عنكم وتؤدي الحقوق منكم ولكم.

أيها المخلصون في جيش الكنانة: إن مصير البلاد والعباد وثروات الناس وخيراتهم بين أيديكم فإما أن تسلموهم للغرب فتتلوث أياديكم فتستحقوا بهذا عقاب الله لكم في الدنيا والآخرة أو تقطعوا كل حبال تصل بينكم وبين النظام أو سادته في الغرب وتصلوها بالله عز وجل والمخلصين من عباده الحاملين لدعوة الخير العاملين لتقام فيكم دولة عزكم خلافة راشدة على منهاج النبوة فكونوا أنتم أنتم رجالها عسى الله أن يمن عليكم ويفتح على أيديكم فتفوزوا فوزا عظيما وستذكرون ما أقول لكم وأفوض أمري إلى الله.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

#أفغانستان      #Afganistan#Afghanistan

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست