أفريقيا تعاني من الاستعمار الغربي وتحتاج إلى الخلافة لتحريرها
أفريقيا تعاني من الاستعمار الغربي وتحتاج إلى الخلافة لتحريرها

الخبر: نيجيريا، أكبر اقتصاد في أفريقيا والدولة الأكثر اكتظاظا بالسكان، فقد فاقت الهند وتواجه حاليا أعلى مستوى من الفقر المدقع في العالم! كينيا التي تعتبر أكبر مركز للاقتصاد والتجارة في شرق ووسط أفريقيا يعيش ما يقدر بنحو 17.6 مليون شخص في فقر مدقع وما يقدر حالياً بنحو 1.2 مليون كيني معرضون لخطر الموت من جراء المجاعة. في المجموع، 14.7 مليون شخص بلا طعام بسبب ما تسبب به الجفاف من خسائر! وبشكل عام، فإن المجالات السياسية والاجتماعية والاقتصادية لأفريقيا في حالة فوضى نظامية كاملة!

0:00 0:00
Speed:
April 03, 2019

أفريقيا تعاني من الاستعمار الغربي وتحتاج إلى الخلافة لتحريرها

أفريقيا تعاني من الاستعمار الغربي وتحتاج إلى الخلافة لتحريرها

(مترجم)

الخبر:

نيجيريا، أكبر اقتصاد في أفريقيا والدولة الأكثر اكتظاظا بالسكان، فقد فاقت الهند وتواجه حاليا أعلى مستوى من الفقر المدقع في العالم! كينيا التي تعتبر أكبر مركز للاقتصاد والتجارة في شرق ووسط أفريقيا يعيش ما يقدر بنحو 17.6 مليون شخص في فقر مدقع وما يقدر حالياً بنحو 1.2 مليون كيني معرضون لخطر الموت من جراء المجاعة. في المجموع، 14.7 مليون شخص بلا طعام بسبب ما تسبب به الجفاف من خسائر! وبشكل عام، فإن المجالات السياسية والاجتماعية والاقتصادية لأفريقيا في حالة فوضى نظامية كاملة!

التعليق:

إن الدولتين المذكورتين أعلاه هما مجرد مثال على الحالة الراهنة لأفريقيا نتيجة للتطبيق المستمر للسياسات الرأسمالية العلمانية التي ورثتها القارة وقيادتها عن أسيادها الغربيين. إن المستعمرين الذين ارتكبوا أبشع الجرائم على الإطلاق بحق الإنسانية والذين كان لهم الدور في الاسترقاق العقلي للأفارقة كما ذكر هندريك ف. فرويرد "لا مكان له (للأفريقي) في المجتمع الأوروبي فوق مستوى معين في سوق العمل. وحتى الآن، يخضع (الأفريقي) لنظام مدرسي أبعده عن مجتمعه وضلله من خلال مظهرين له المراعي الخضراء للمجتمع الأوروبي حيث لا يُسمح له بالرعي". وجريمة أخرى كانت باستعباد مادي لسكان أفريقيا ونهب مواردها كما ذكر السير أندريس ستوكنستروم: "إن مسألة سرقة بلاد السكان الأصليين ليست متعلقة بما إذا كان صواباً أم خطأ نهب أراضيهم وارتكاب المذابح بحقهم وإبادة الهوتنتوتيين، الكفار.. لكن السؤال البسيط هو: هل سيدفعون الثمن؟ ولكن إذا ما كان الإنجيل والمبشر يقفان في طريق تحقيق هذا الربح البالغ ألفاً في المائة... وإذا ما كان الأمر بهذا الاختصار، فلن يستطيعوا الترويج للعمل العظيم المتمثل في تحويل شعب من أصحاب محال إلى شعب من أصحاب الملايين... سينتج مسحوق البنادق إنجيلاً أكثر نفعا لخدمة أغراض نظامنا الحضاري". علاوة على ذلك، كتب الفيلسوف البريطاني بيتران راسل عن بعض الفظائع الاستعمارية "أمرت السلطات القرية بأن تجمع كمية معينة من المطاط - أن يحضر الرجال كل ما يمكنهم إحضاره فيما يصب بصالح المشغل. وكانوا إذا ما أخفقوا في إحضار المقدار المطلوب، تؤخذ نساؤهم ويبقين عندهم كرهائن... في قسم نساء موظفي الحكومة الاستعمارية. وإذا ما فشلت هذه الطريقة... تُرسل القوات إلى القرية لنشر الرعب، وإذا لزم الأمر يقتل بعض الرجال... فقد أُمروا بإحضار يد يمنى بترت من ضحية أفريقية مقابل كل خرطوشة استخدمت".

ارتكبت هذه الفظائع من المستعمرين الأوروبيين بقيادة بريطانيا وفرنسا وحلفائهم عندما كانوا القوى العظمى في ذلك الوقت. وعندما برزت أمريكا قبل الحرب العالمية الثانية وأصبحت القوة العظمى، مضت إلى الأمام وتصارعت مع القوى الأوروبية من أجل حصتها من المستعمرات! لذلك، حرضت أمريكا عبر القادة من عملائها الأفارقة الموالين لها على تصعيد موجة من الاستياء في جميع أنحاء القارة بحجة السعي للحصول على الاستقلال من المستعمرين الأوروبيين! وكانت النتيجة أن القوى الأوروبية استطاعت الالتفاف على هذا الاستياء واستغلاله لصالحها من أجل الحفاظ على الوضع الراهن من خلال التنكر وإصدار استقلال كاذب عبر الإعلام في الوقت الذي احتفظت فيه بإدارة الدولة عبر حكام جدد عملاء للمستعمرين يخدمون مصالحهم! ومن هنا ذهبت أمريكا إلى أبعد من ذلك وأدخلت ما يسمى الانتخابات الديمقراطية لاستبدال حكامها العملاء بحكام الأوروبيين العملاء وإذا ما دعت الحاجة تنظم الانقلاب والانقلابات المضادة! هذه السياسة من الهرولة لأفريقيا بين أمريكا وأوروبا لا تزال حتى يومنا هذا! فنظرتهم لأفريقيا هي ذاتها وتقوم على إخضاع ونهب واستعباد شعبها كعمالة رخيصة! الفرق الوحيد هو أن أمريكا مع حلفائها يقودون حالياً هجوماً عالمياً ومفتوحاً على الإسلام والمسلمين من خلال ما يسمى بحربهم على (التطرف والإرهاب). الغرض الوحيد هو تشويه صورة الإسلام والمسلمين كمبدأ بديل لمبدئهم الرأسمالي العلماني الفاسد الذي تسبب في الخراب في جميع أنحاء العالم إلى حد أن العُمي يمكنهم رؤية الفساد المستشري في جميع مجالات الحياة! بالإضافة إلى خلق ضبابية في نهاية المطاف عند البشرية عامة والمسلمين بخاصة لصرف نظرهم عن الإسلام باعتباره مبدأ بديلا قادرا على حل المشاكل الحالية التي تواجههم في جميع أنحاء العالم.

إن الوضع الحالي في أفريقيا هو ذاته في جميع أنحاء العالم وبخاصة في الشرق الأوسط الذي شهد تقسيم دولة الخلافة العثمانية الواحدة إلى 54 دولة صغيرة يحكمها حكام عملاء أغبياء عيونهم تتطلع إلى واشنطن، ولندن وباريس لتدلهم على الطريق! انتهت قسمة بلاد المسلمين في 3 آذار/مارس 1924م عندما دمر صرح الخلافة! ويكمن الحل الوحيد في استبدال الحكام العملاء للمستعمر ومبدئهم وأنظمتهم الرأسمالية العلمانية. ولا يمكن تحقيق ذلك إلا من خلال احتضان الدعوة إلى الخلافة على منهاج النبوة التي يتردد صداها في جميع أنحاء العالم ويدافع عنها حزب التحرير. ففي ظل الخلافة فقط يوقف الرأسماليون العلمانيون وسياساتهم عن استغلال أفريقيا والشرق الأوسط وأخواتهما بسياساتهم وقوانينهم المقيتة. ستحقق الخلافة الطمأنينة الحقيقية والتنمية والازدهار عبر التطبيق الشامل للشريعة (القرآن والسنة). خلافة يحكمها حاكم عادل، خليفة يتوق إلى أعلى درجات الجنة عندما يكرس نفسه لنيل رضا الله سبحانه وتعالى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصورو علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست