أفريقيا تعاني من فيروس الاستعمار أكثر من فيروس كورونا
أفريقيا تعاني من فيروس الاستعمار أكثر من فيروس كورونا

الخبر:   اعتبارا من 8 نيسان/أبريل 2020، تفشى وباء كوفيد-19 على نطاق واسع في أفريقيا، مما ترك بلدين فقط دون حالات مبلّغ عنها، في حين إن عدد الحالات والوفيات المؤكدة يشكل معدلا ينذر بالخطر. ...

0:00 0:00
Speed:
April 19, 2020

أفريقيا تعاني من فيروس الاستعمار أكثر من فيروس كورونا

أفريقيا تعاني من فيروس الاستعمار أكثر من فيروس كورونا

(مترجم)

الخبر:

اعتبارا من 8 نيسان/أبريل 2020، تفشى وباء كوفيد-19 على نطاق واسع في أفريقيا، مما ترك بلدين فقط دون حالات مبلّغ عنها، في حين إن عدد الحالات والوفيات المؤكدة يشكل معدلا ينذر بالخطر.

التعليق:

لم يجلب الوباء الكوارث في الجانب الإنساني والطبي في أفريقيا فحسب، بل كشف أيضا عن ضعف المشاعر في القيادة وكذلك في العلاقة الاستعمارية بين أفريقيا والمستعمرين الغربيين الذين حولوا أسلوب الاستعمار من الاستعمار القديم إلى الاستعمار الجديد، مستخدمين عملاء لهم للحكم نيابة عنهم.

في 2020/04/01، أشار كاميل لوكت، رئيس الأبحاث في المعهد الوطني الفرنسي للصحة والبحوث الطبية وجان بول ميرا، رئيس قسم العناية المركزة في مستشفى كوشين في باريس، إلى أن أفريقيا هي أفضل مكان لاختبار لقاح كوفيد-19.

أثار هذا البيان الصادر عن الأطباء الفرنسيين ضجة وإدانة من العديد من الأفراد البارزين باعتباره عنصرية، ومع ذلك رحب رئيس المعهد الوطني للبيولوجيا في الكونغو جان جاك مويمبي بالفكرة.

وفي تصريحاته، قال مويمبي لوسائل الإعلام: "لقد تم اختيارنا لإجراء هذه التجارب"، وأقترح كذلك أن "التجارب السريرية يمكن أن تبدأ في تموز/يوليو أو آب/أغسطس" (MSN، 2020/04/03م)

وأثارت تصريحات مويمبي جدلا في الكونغو وأفريقيا بشكل عام، وسط اتهامات بأن السكان يُستخدمون كفئران تجارب. ويبين هذا السيناريو العلاقة بين السيد والمملوك، بين المستعمرين الغربيين وقادتهم الأفارقة العملاء الذين هم على استعداد لبيع شعوبهم من أجل السلطة والمنفعة البسيطة.

وفي حين إن الكونغو مستعدة للتضحية بشعبها من أجل أسيادها في الاستعمار الفرنسي، فإن بعض المسؤولين الأفارقة الذين تأثروا كثيرا بالرأسماليين والأفكار الاستعمارية الذين ينظرون إلى أنفسهم على أنهم أفضل من بقية الناس، يرفضون مسألة الحجر الصحي. وكان ينبغي ذكر هذه المسألة في تنزانيا في البرلمان، بعد أن رفض أحد وزراء زنجبار عمداً في البداية أن يكون موجوداً في منطقة معزولة في الحجر الصحي، ووقعت حالة مماثلة لنائب حاكم كيليفي في كينيا. بينما في بوتسوانا خرق بعض أعضاء البرلمان أيضا قواعد الحجر الصحي المنزلي، وبالتالي نشر خطر الجائحة إلى الجمهور. فقامت الحكومة بعد ذلك بعزلهم خارج المنزل في مكان حجر صحي تحت إشرافهم بعد ردود فعل الناس.

هذا هو مدى الإهمال الذي تقوم به هذه الهيئات الاستعمارية الأفريقية التي تبيع وتخاطر بحياة شعوبها التي تشهد انتقالاً محلياً أعلى بعد الاستيراد المتقطع الأولي للحالات. وحتى هذا التاريخ، بلغ عدد الحالات المبلغ عنها في أفريقيا 7105 حالة و324 حالة وفاة حتى هذا التاريخ. (المنطقة الأفريقية لمنظمة الصحة العالمية، تقرير الحالة الخارجية كوفيد-19).

في حين إن القادة الأفارقة يعتنقون الأيديولوجية الرأسمالية الغربية الشريرة ويتصرفون بذل مع سادة الاستعمار، فإنه من المفارقات التفكير في أن الرأسماليين الغربيين سيساعدون أفريقيا بشكل جدي على مكافحة وباء فيروس كوفيد-19، على الرغم من حقيقة أنهم كانوا يستغلون مواردها لأكثر من قرن من الزمان.

تواجه أفريقيا العديد من المشاكل التي فشلت الدول الغربية الرأسمالية في مساعدتها الجادة بحلها بما في ذلك الجوع، 257 مليونا يعانون من الجوع في أفريقيا (الرؤية العالمية 2019/10/24)، وبالنسبة لمسألة الفقر ارتفع عدد الفقراء من 278 مليون شخص في عام 1990 إلى 413 مليوناً في عام 2015 (دبليو بي، 2019/10/9) وتشير بعض التقارير الأخرى إلى أن القارة ستؤوي 90% من فقراء العالم بحلول عام 2030، دون الحصول على المياه النظيفة وما إلى ذلك.

لقد حان الوقت لقارة أفريقيا أن تستيقظ من إخفاقات المبدأ الرأسمالي ليس في أفريقيا فحسب، بل في جميع أنحاء العالم. وفي الجانب الآخر، نذكرهم بأن أفريقيا كانت آمنة ومزدهرة في ظل الإسلام منذ القرن السابع الميلادي (614م). ومنذ ذلك الحين، تمتعت جميع المقاطعات الأفريقية في ظل الخلافة بحياة فضلى وبأقصى قدر من الأمن والحماية. لطالما شعرت دولة الخلافة بأنها ملزمة بحماية المسلمين لدرجة أنه في عام 1586م أرسل الخليفة في إسطنبول جيشاً تحت قيادة القائد مير علي بيك الذي تمكن من إنهاء الاحتلال البرتغالي للبلاد الساحلية للمسلمين في شرق أفريقيا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد بيتوموا

عضو المكتب الاعلامي المركزي لحزب التحرير في تنزانيا

#كورونا         |       #Covid19       |       #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست