اغسل عينيك بماء الإيمان بتغيير رأيك ضد أمريكا!
اغسل عينيك بماء الإيمان بتغيير رأيك ضد أمريكا!

الخبر:   أعلن جو بايدن مؤخراً عن ميزانيته الدفاعية البالغة 715 مليار دولار للسنة المالية 2022، والتي تضمنت أيضاً 3.3 مليار دولار من المساعدات للقوات الأفغانية. والعرض الجديد يزيد بمقدار 300 مليون دولار عن العرض الذي قدمته الولايات المتحدة العام الماضي لأفغانستان. وبالإضافة إلى المساعدات العسكرية، ستتلقى أفغانستان أيضاً مزيداً من المساعدة من وزارة الخارجية الأمريكية. كما أعلنت وزارة الخارجية بالفعل أنها سترسل 360 مليون دولار كمساعدات مدنية إضافية لأفغانستان في عام 2021، بزيادة قدرها 34 مليون دولار عن العام الماضي. وتهدف هذه المساعدة المالية إلى مساعدة أفغانستان في محاربة الإرهاب ومكافحة المخدرات وحماية حقوق المرأة.

0:00 0:00
Speed:
June 08, 2021

اغسل عينيك بماء الإيمان بتغيير رأيك ضد أمريكا!

اغسل عينيك بماء الإيمان بتغيير رأيك ضد أمريكا!

(مترجم)

الخبر:

أعلن جو بايدن مؤخراً عن ميزانيته الدفاعية البالغة 715 مليار دولار للسنة المالية 2022، والتي تضمنت أيضاً 3.3 مليار دولار من المساعدات للقوات الأفغانية. والعرض الجديد يزيد بمقدار 300 مليون دولار عن العرض الذي قدمته الولايات المتحدة العام الماضي لأفغانستان. وبالإضافة إلى المساعدات العسكرية، ستتلقى أفغانستان أيضاً مزيداً من المساعدة من وزارة الخارجية الأمريكية. كما أعلنت وزارة الخارجية بالفعل أنها سترسل 360 مليون دولار كمساعدات مدنية إضافية لأفغانستان في عام 2021، بزيادة قدرها 34 مليون دولار عن العام الماضي. وتهدف هذه المساعدة المالية إلى مساعدة أفغانستان في محاربة الإرهاب ومكافحة المخدرات وحماية حقوق المرأة.

التعليق:

لقد كان واضحاً بشكل لا لبس فيه أن كلاً من الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي عانوا من هزيمة عسكرية كبرى في أطول حرب في تاريخهم. لكن الولايات المتحدة ليست مستعدة بأي حال من الأحوال للاعتراف بهزيمتها، كما فعل السوفييت في أفغانستان، لأنه يبدو أنها قلقة من العواقب الكارثية لهذه الهزيمة على مكانتها العالمية؛ لهذا فهي قد لجأت إلى عملية السلام وبدأت المفاوضات مع طالبان، والتي أدت في النهاية إلى اتفاق الدوحة.

بموجب اتفاقية الدوحة، كان على الولايات المتحدة سحب قواتها من أفغانستان بحلول الأول من أيار/مايو. لكن، كالعادة، لم تف بالتزاماتها حيث أعلن بايدن تأجيل انسحاب قواتها حتى أيلول/سبتمبر، دون تنسيق القرار مع طالبان، مثل هذا القرار يُترجم بشكل ملحوظ على أنه انتهاك البيت الأبيض لاتفاق الدوحة.

من ناحية أخرى، فإن الولايات المتحدة والدول الأعضاء في الناتو والاتحاد الأوروبي والدول الكافرة الأخرى والحكومات الدمى في البلاد الإسلامية لم تسمح أبداً لجماعة إسلامية بالوصول إلى السلطة بنجاح في بلد إسلامي، سواء من خلال النضالات العسكرية أو الإجراءات الديمقراطية. لأن مثل هذه الجماعات والحكومات ستكون بمثابة نموذج يحتذى به للجماعات المسلحة الأخرى في البلاد الإسلامية مما سيؤدي بالتأكيد إلى فقدان الحكام الخونة والدمى الكافرة سلطتهم فيها. لذلك، تضافرت كل شياطين الحكومات الكافرة لمنع طالبان من الفوز بالعرش بنجاح، مما جعلهم يتذوقون مصير المجاهدين الأفغان.

لذلك، من ناحية، وصل العنف إلى ذروته التاريخية ضد جميع أطياف المجتمع، بما في ذلك النساء والرجال والأطفال والعلماء المسلمين والصحفيين والناشطين السياسيين والمحاضرين الجامعيين والطلاب وغيرهم في أفغانستان؛ ومن ناحية أخرى، فإن كل العناصر المعنية بقضية أفغانستان تستعد لحرب أخرى في أفغانستان بتوجيهات وظلال الولايات المتحدة وحكومتها العميلة التي تمولها وتكفلها الهند وإيران والسعودية والإمارات. في غضون ذلك، أعلنت الولايات المتحدة عن ميزانية إضافية بقيمة 300 مليون دولار للقوات الأفغانية مقارنة بالعام الماضي. لذلك، فإن قرار بايدن، وقت الانسحاب من أفغانستان، سيرسل رسالة دعم مهمة لقوات الأمن التابعة لحكومته العميلة في أفغانستان.

على الرغم من أن معظم الدول المجاورة لأفغانستان تؤيد أفغانستان مزدهرة ومسالمة بينما يهتفون بالانسحاب المسؤول للولايات المتحدة والناتو من البلاد؛ ونظراً لحساسية القضايا في أفغانستان، تسعى الولايات المتحدة إلى الاستفادة من الدول المجاورة لتوسيع نفوذها العسكري والاستخباراتي والاقتصادي في المنطقة. ورغبة الولايات المتحدة في إقامة قواعد عسكرية في آسيا الوسطى وباكستان دليل واضح على هذا السيناريو القذر.

لقد حجبت الولايات المتحدة الوضع السياسي في أفغانستان في ظل سيناريو محادثات السلام وتصعيد العنف، مما يجعل الأمر معقداً للغاية بالنسبة للجميع حيث لا يوجد سياسي مؤثر، بما في ذلك كبار المسؤولين الحكوميين وحتى قيادة طالبان ليس لديهم فكرة واضحة عما هو حقيقي، ونوايا اللاعبين العالميين في أفغانستان وإلى أين سيقود الوضع الحالي.

يجب ألا ننسى أن الولايات المتحدة كانت قادرة على وقف هجمات طالبان على القوات الأمريكية وحلف شمال الأطلسي من خلال محادثات السلام وتسبب في تكثيف الهجمات بين القوات الأفغانية وطالبان، مما جعلها حرباً أفغانية خالصة ضد الأفغان. خلال هذه الفترة، تعززت ممارسة العسكرة حيث كانت معظم العناصر الأفغانية مستعدة للحرب بينما تحول أولئك الذين فشلوا في حشد شعبهم في ظروف غامضة للتآمر على عمل إرهابي وهجمات إرهابية لاستفزاز شعبهم للوقوف ضد طالبان. إلى جانب ذلك، تعتزم الحكومة الأفغانية، من خلال التخطيط لمثل هذه الهجمات الغامضة والسرية، إرسال رسالة إلى العالم مفادها أن حركة طالبان تستخدم نطاق العنف القاسي للاستيلاء على السلطة حيث لم يظهر أي تغيير جوهري في استراتيجيتها حتى الآن.

بالنظر إلى الحقائق المذكورة أعلاه، فقد أعلناها مرات عديدة ونؤكدها مرة أخرى أن توقع السلام والخير من الاحتلال، خاصة من الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي، يشبه توقع الهداية من الشيطان. لذلك يجب على جميع المسلمين أن يغيروا رأيهم فيما يتعلق بمحادثات السلام. إضافة إلى ذلك، من واجبنا أن نلجأ إلى السياسة الإسلامية القائمة على مبدأ الإسلام بدلاً من السياسة البراغماتية وغير الإسلامية.

كما أن الله سبحانه وتعالى أمر المسلمين من خلال القرآن، بينما ذكر رسول الله ﷺ عداوة اليهود والنصارى والمشركين. لهذا السبب، يجب على جميع الأفغان أن يتحدوا ضد الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي حتى لا يدعوا أمريكا المهزومة تستفيد من الوضع المعقد الحالي.

بدلاً من ذلك، يجب على الفصائل المسلمة أن تقاتل بلا كلل وبوحدة ضد الولايات المتحدة إلى حد تحويل هزيمة الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي في أفغانستان إلى واقع عالمي، حتى لا يعودوا قادرين على الحفاظ على نفوذهم في هذه الأرض أو حتى في المنطقة. يجب أن يتم تنسيق هذا النضال مع إخوانكم الذين يكافحون بجدية لإعادة الخلافة على منهاج النبوة في المنطقة حتى نعيد إقامة الدولة الإسلامية معاً، وندحر القوات المحتلة والاحتلال لبلادهم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

#أفغانستان
Afghanistan#
Afganistan#

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست