أهل الأردن مصدومون من تصريحات ولي العهد
أهل الأردن مصدومون من تصريحات ولي العهد

قال ولي عهد النظام الأردني الحسين بن عبد الله الثاني "من غير المعقول أن العالم أجمع ليس قادرا على وقف المأساة التي تحدث" في غزة. وقال "جميعنا مصدومون من عجز العالم أن يوقف هذه المذبحة، والشعوب في منطقتنا فقدت ثقتها بالمجتمع الدولي ومصداقيته وهم على حق".

0:00 0:00
Speed:
May 31, 2024

أهل الأردن مصدومون من تصريحات ولي العهد

أهل الأردن مصدومون من تصريحات ولي العهد

الخبر:

قال ولي عهد النظام الأردني الحسين بن عبد الله الثاني "من غير المعقول أن العالم أجمع ليس قادرا على وقف المأساة التي تحدث" في غزة. وقال "جميعنا مصدومون من عجز العالم أن يوقف هذه المذبحة، والشعوب في منطقتنا فقدت ثقتها بالمجتمع الدولي ومصداقيته وهم على حق".

التعليق:

نقول لولي عهد النظام الأردني: إن أهل الأردن جميعهم مصدومون من تظاهركم بالعجز، وأنتم تلقون بالمسؤولية على عاتق الآخرين. وقد فقدوا الثقة فيكم وفي نظامكم من زمن بعيد وليس لديكم أي مصداقية والناس على حق!

فالنظام الذي توجد على رأسه بجانب والدك، يتظاهر بالعجز ولديه جيش جرار ولا يتحرك لمساعدة أهل غزة وعموم أهل فلسطين وتطلبون من العالم وقف المأساة! فإذا لم تحركوا أنتم الجيوش ولا تسمحون لأهل النخوة أهل الأردن بالتحرك وتقبضون عليهم، فكيف تطلبون من الآخرين التحرك؟! ومن هو المجتمع الدولي الذي تقصدونه؟! أمريكا والغرب الذين أقاموا كيان يهود ويسهرون على حمايته ورعايته ويمدونه بكل أسباب البقاء؟! فكيان يهود قاعدتهم الغربية المتقدمة في قلب بلاد المسلمين لمحاربة الإسلام والمسلمين. وقد صرح رئيس الكيان هرتسوغ ورئيس وزرائه نتنياهو أن كيانهم "قائم للدفاع على القيم الغربية".

وتضيف وأنت جالس أمام شاشة قناة "العربية" السعودية يوم 2024/5/25 وتقول: "لغاية اليوم أكثر من 35 ألف شهيد، 70% منهم نساء وأطفال. ما هو الرقم الذي يجب أن نصل له ليتحرك العالم؟". كلام غريب متناقض، فهو يطلب من الغرباء أن يتحركوا، ولكنه ونظامه والقائمين عليه لا يتحركون لنصرة أهل غزة! وقد تظاهر بإلقاء بعض المساعدات من الجو بإذن من كيان يهود! في الوقت الذي أرسل فيه الفواكه والخضار لكيان يهود وفتح طريقا للشاحنات القادمة من الإمارات وكر الخيانة الآخر متجهة إلى فلسطين لتمويل جيش يهود.

وتكتفي بالقول "الأردن يخوض معركة دبلوماسية وسياسية منذ بداية الأزمة"! كيف ذلك، ونظامكم لا يقطع العلاقات الدبلوماسية والسياسية مع هذا الكيان المجرم، فكيف تخوضون هذه الحرب المزعومة؟! فنظامكم لا يقطع العلاقات مع كيان يهود ولا يسحب الاعتراف به ويواصل الدعم والتطبيع! فأدنى عمل يمكن أن يقوم به نظامكم هذا، هو قطع العلاقات كلها مع هذا الكيان الإجرامي.

وتقول "نقوم بعمل كل شيء ضمن قدرتنا لمساعدة أشقائنا"! فهل قمتم بأدنى عمل لمساعدة أشقائكم ألا وهو قطع العلاقات مع كيان يهود؟! وتقول "القضية الفلسطينية قضيتنا"، فمن يتخذ فلسطين قضيته يقطع علاقته مع المحتل الغاصب لفلسطين ويتخذ كل ما يلزم لتحريرها، ويعلن أن المحتل لها عدو تجب مقاتلته، ويستعد للقتال، ويرسل الجيش نحو النهر حتى يجتازه الجنود الأشاوس إلى فلسطين.

وتقول في تناقض آخر: "أولويتي أن نحافظ على أمن واستقرار البلاد، لأن الأردن القوي هو القادر على الدفاع عن القضية الفلسطينية ليكون أكبر سند للشعب الفلسطيني". فهلا نفذت كلامك لو كان صحيحا وطالبت بتحريك الجيش الأردني ليكون سندا لأهل فلسطين؟!

وتقول "منذ اتفاقية أوسلو لليوم، عدد المستوطنين (في الضفة الغربية) ارتفع من 200 ألف لأكثر من 700 ألف. هذا لا يحقق سلاما". ألا ترى إن اتفاقية أوسلو التي وقعتها منظمة التحرير الفلسطينية واتفاقية وادي عربة التي وقعها النظام الأردني قد خرقهما الطرف الآخر وهو العدو، فوجب نبذهما على سواء، مع أنهما منبوذتان من البداية لأنهما خيانة وتعزيز لقوة هذا العدو اللئيم المشهور عنه بنكث الوعود والعهود.

وتضيف "السؤال المهم لنا جميعا اليوم، هل الهدف من التطبيع لأجل التطبيع؟"، وتجيب عن السؤال، بعذر أقبح من ذنب كما يقال، وتقول: "إن الأردن والعرب منذ مبادرة السلام العربية التي أطلقتها السعودية سنة 2002 يدعون إلى السلام، وإن هناك إجماعا عربيا أن الحل الوحيد هو منح الفلسطينيين حقوقهم وإنهاء الاحتلال مقابل علاقات مع (إسرائيل)". فالتطبيع للحفاظ على كيان يهود وأن تمنح الفلسطينيين حقوقهم التي تراها فقط في الضفة وغزة، وتقر باغتصاب يهود بما اغتصبه عام 1948 فتصف تلك المنطقة بأنها (إسرائيل)! فنظامكم في الأردن وكافة الأنظمة التي أقامتها بريطانيا بمساعدة فرنسا في المنطقة، ومنذ أن قام جدّك الأول الحسين بن علي بارتكاب الخيانة الكبرى بالتعاون مع بريطانيا ضد الدولة العثمانية بوصفها دولة إسلامية، وقد ورثتم الخيانة والعمالة عنه، تحرصون على تنفيذ المشروع البريطاني الذي تبناه الغرب الكافر كله وتقوده أمريكا، ألا وهو تركيز يهود في فلسطين وتعزيز كيانهم وخداع أهل فلسطين والمسلمين كافة بأن فلسطين خارج الأرض التي أطلقتم عليها اسم (إسرائيل)، فترون فلسطين في أجزاء من الضفة وغزة، وعندما تقام لهم سلطة منزوعة السلاح وتحت أمن كيان يهود وتسلطه ومن ثم يطلق عليها دولة للتضليل، فيكون الفلسطينيون قد أخذوا حقوقهم بعدما جرى التخلي عن 80% من فلسطين لليهود!

نحن هنا لا نعلق على تصريحاتك يا ولي العهد، حيث لا نتمنى أن يبقى النظام وتصبح ملكا، وننتقدها ونبين الحق من باب أن ذلك سيؤثر فيك وفي موقف النظام الأردني، وإنما أردنا أن نفضح خيانة نظامكم المكشوفة، إذ مرد نظامكم على الخيانة والنفاق منذ أول يوم أسسته بريطانيا ليكون منطقة عازلة بين الأمة وبين كيان يهود حتى لا يتمكن أحد من أن يهاجم كيان يهود فيتصدى له نظامكم أولا تحت مسميات عديدة، وقد رأينا ذلك عندما تصدت صواريخكم مع الصواريخ الأمريكية والأوروبية للصواريخ والمسيرات الإيرانية يوم 2024/4/21. وقد سمح نظامكم بإقامة قواعد عسكرية لأمريكا ولدول أوروبا حماة كيان يهود. فعندما تتم مهاجمة كيان يهود تتصدون لها وتقولون إن ذلك خرق لسيادة الأردن، وإذا قام شخص وتسلل من الأردن إلى فلسطين ليضرب العدو، يعتقل أو يقتل، وتقولون إن ذلك تعد على سيادة الدولة، وعندما يتظاهر الناس ضد سفارة يهود في عمّان تعتقلون المئات لأن ذلك مخالفة للقوانين والاتفاقيات مع الدول، وهكذا فقد دأبتم على الخداع والمراوغة، ومردتم على النفاق والكذب، كدأب أسيادكم الإنجليز حتى إذا أصبحت ملكا ستواصل مسيرة الخيانة وأنت سائر عليها الآن كما ظهر من تصريحاتك، والتي سار عليها والدك وجدك الملك حسين الذي سلّم الضفة الغربية بما فيها القدس والأقصى ليهود عام 1967.

نسأل الله سبحانه القوي العزيز أن يمكّن أهل الأردن من أن يسقطوا نظامكم المهترئ، ويقيموا نظام الإسلام، ليكون الأردن نقطة ارتكاز لدولة الخلافة الإسلامية التي تجمع شمل المسلمين جميعا وتنطلق منها جحافل المسلمين لتحرير الأقصى وعموم فلسطين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست