احتفالية 23 نيسان/أبريل، الاعتراف بحق الطفولة يقتصر فقط على الأطفال الذين يعتنقون أي شيء سوى الإسلام!
احتفالية 23 نيسان/أبريل، الاعتراف بحق الطفولة يقتصر فقط على الأطفال الذين يعتنقون أي شيء سوى الإسلام!

كما هو الحال بالنسبة لجميع أعضاء حزب العدالة والتنمية، أيد نهاد زيبكجي، نائب رئيس حزب العدالة والتنمية الحاكم، العلاقات التجارية مع (إسرائيل)، في حين أدان "مذبحة الأطفال المسلمين". وقد صرح قائلاً: "مذبحة الأطفال المسلمين أمر، والتجارة مع (إسرائيل) أمر آخر". وقد برر هذا التمييز الظالم بالإشارة إلى أن تركيا لديها اتفاقية تجارة حرة مع (إسرائيل) حيث "نبيع ستة ونشتري واحدة". (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
April 25, 2024

احتفالية 23 نيسان/أبريل، الاعتراف بحق الطفولة يقتصر فقط على الأطفال الذين يعتنقون أي شيء سوى الإسلام!

احتفالية 23 نيسان/أبريل

الاعتراف بحق الطفولة يقتصر فقط على الأطفال الذين يعتنقون أي شيء سوى الإسلام!

(مترجم)

الخبر:

كما هو الحال بالنسبة لجميع أعضاء حزب العدالة والتنمية، أيد نهاد زيبكجي، نائب رئيس حزب العدالة والتنمية الحاكم، العلاقات التجارية مع (إسرائيل)، في حين أدان "مذبحة الأطفال المسلمين". وقد صرح قائلاً: "مذبحة الأطفال المسلمين أمر، والتجارة مع (إسرائيل) أمر آخر". وقد برر هذا التمييز الظالم بالإشارة إلى أن تركيا لديها اتفاقية تجارة حرة مع (إسرائيل) حيث "نبيع ستة ونشتري واحدة". (وكالات)

التعليق:

لا تُلقِ اللوم على زيبكجي وحده... إنه مجرد واحد من الأطفال المتحدثين بثرثرة، العديمي الخبرة، والمغسولة أدمغتهم، الذين ترعرعوا تحت لواء الرأسمالية العلمانية لهذا المنتج الاستعماري العلماني، الذي يُعرف بالجمهورية التركية، ويجلسون الآن في جمعيتها الوطنية المليئة بالعملاء الذين يخدمون الغرب. لقد عبّر بوضوح وحرية عما يشهده الملايين من المسلمين حول العالم بخصوص تصرفات الحكومة التركية. أي أنها تُدار من قبل قلة من العملاء الاستعماريين، الذين أجّروا عقولهم وقلوبهم لأسيادهم الاستعماريين واليهود، بينما مصطلح "مسلم/إسلام" يظل محفوراً بقوة على بطاقات هوياتهم فقط. هؤلاء الحكام والنواب الذين يحاولون تبرير العلاقات مع أعداء الإسلام، وخاصة مع كيان يهود وداعمته، هم أيضاً نتاج هذه العقيدة. لذلك، لا نتفاجأ عند سماعنا نواب حزب العدالة والتنمية يدينون المسلمين الذين يعارضون تعاملاتهم التجارية مع كيان يهود.

تعي الأمة الإسلامية جيداً أنهم قد باعوا حكم الله وبدّلوا دماء وشرف أمتهم المسلمة مقابل مكاسب عابرة... إنهم يملؤون بطونهم بالنار ولا شيء غيرها.

كما ذُكر سابقاً، هو فقط أحد هؤلاء الأطفال الذين تم غسل أدمغتهم وتربوا على هذه العقيدة التي تحتفل مجدداً بيوم 23 نيسان/أبريل. كل عقيدة لها أيامها الاحتفالية، وكذلك الدولة العلمانية الديمقراطية الجمهورية في تركيا. ويُعتبر يوم 23 نيسان/أبريل - وهو يوم تأسيس الجمهورية العلمانية الديمقراطية في تركيا - عيداً قُدم كهدية للأطفال من قبل مؤسسها مصطفى كمال، وتم الاحتفال به كعطلة وطنية منذ عام 1921م. وعليه، ستقام هذا العام كذلك الاحتفالات والمراسم في جميع أنحاء تركيا. سيتم إجراء فعاليات خاصة للأطفال في مبنى الجمعية الوطنية الكبرى، حيث سيتسنى للأطفال شغل مقاعد البرلمان في "جلسة برلمانية خاصة"، ويقومون رمزياً بحكم البلاد ليوم واحد، وانتخاب رئيس ليلقي خطاباً على التلفزيون الوطني.

ماذا سيتناول الرئيس الرمزي في خطابه؟ من المحتمل أن يذكر أنهم يتضامنون بأفكارهم مع جميع الأطفال حول العالم، وخصوصاً أولئك في غزة، الذين يتعرضون حالياً لإبادة جماعية... سيعرب عن أمله في أن ينمو هؤلاء الأطفال ليصبحوا ممثلين مثاليين للديمقراطية وحقوق الإنسان، ليبنوا بذلك مستقبلاً أفضل يتمكنون فيه من إنقاذ وحماية الأطفال المحرومين في العالم المليء بالصراعات والحروب... سيتحدث عن كيفية بناء غدٍ أفضل معاً، يداً بيد مع جميع "الأطفال الأتراك" من أجل كل الأطفال حول العالم... ألا يبدو ذلك جذاباً؟!

في 23 من نيسان/أبريل، لن يقوم هؤلاء الأطفال بتلاوة القرآن لتسكين آلام صدورهم المتأثرة بالفظائع، كما يفعل نظراؤهم في غزة عندما تُبتر أطرافهم بلا تخدير... لن يوجهوا نصائح للسياسيين البالغين بعدم الوقوف كمتفرجين على الإبادة الجماعية... من المحتمل أكثر أن يتحدثوا عن كيفية قدرة الديمقراطية الحقيقية على إنقاذ أطفال العالم إذا ما اعتنق الأطفال هذه العقيدة بشكل صحيح وفي سن مبكرة...

كل عقيدة لها احتفالاتها الخاصة. وبهذا المعنى، تحتفل هذه العقيدة بتجزئة الخلافة وفصل الأراضي الإسلامية عن أرضها الأم، الخلافة العثمانية. تحتفل بأن المصالح القومية العلمانية أصبحت أهم من روابط الأخوة في الأمة. تحتفل بمراقبتها السلبية لمعاناة الأطفال المسلمين من الجوع والقصف والتيتم في أنحاء مختلفة من العالم مثل نيجيريا، الكونغو، الصومال وأفريقيا الوسطى، وتبقى هذه الأحداث مجرد تقارير هامشية في وسائل الإعلام. تحتفل بأن الشعوب المسلمة يمكن أن تبقى خاضعة عندما يعتبر حكامها الدمى قتلة المسلمين في سوريا واليمن وغيرها حلفاء وأصدقاء... أو أن الأمة تظل صامتة حيال سرقة الأطفال المسلمين من أهاليهم في تركستان الشرقية لغرس أفكار الكفر فيهم، أو عندما يسكن ضباط الأمن الصينيون منازل العائلات المسلمة أو يجبرون الفتيات المسلمات على الزواج قسراً. تحتفل بالتخدير الذي توفره الحريات الليبرالية في مواجهة ذبح الأطفال وحرقهم حتى الموت في ميانمار... وتحتفل بنجاحها في خلق جيل يكره الشهادة ويعشق الحياة الدنيا، بينما يتجاهل الشهادة البطولية لآلاف الأطفال المسلمين في غزة.

لذا، تحتفل تركيا بنجاحها في تربية أطفال متناقضين، حيث يكون الحق في الاستمتاع بالطفولة مقتصراً فقط على الأطفال الذين يعتنقون أي شيء سوى الإسلام!

بالفعل، لهذه العقيدة ومؤيديها كل الأسباب للاحتفال. لكنهم لا يعتبرون أنفسهم قد حققوا النجاح التام بعد. فلا يزال هناك شباب يحتجون ضد صمت النظام التركي إزاء الإبادة الجماعية في الأرض المقدسة، ويحتجون على تجارة تركيا مع المحتل الظالم والقاتل... لهذا، يتهمون الذين يرفضون خضوع تركيا للمصالح الصهيونية الاستعمارية بالجريمة والخيانة. ﴿وَلَن يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾، فلماذا يسمح الله سبحانه وتعالى لهؤلاء المنافقين، الداعمين للقتلة، بحكم المسلمين لفترة أطول؟! إن الله سبحانه وتعالى ينتظر فقط أن تنتفض الأمة ضدهم موحدة.

وإلى أولئك السياسيين والحكام الضعفاء، الذين يبيعون آخرتهم من أجل مكسب زائل، نقول كما يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ وَاللهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست