اجتماعِ حکامِ عَمیٖل: ایک نئی غداری کا پیش خیمہ
خبر:
ایران نے مسلم ممالک میں قائم ریاستوں کو دعوت دی ہے کہ وہ کیانِ یہود کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ آپریشن سینٹر تشکیل دیں، اور کہتا ہے کہ ہمیں فلسطینیوں کے قتل کو روکنے کے لیے مؤثر فیصلے کرنے چاہییں۔
تبصرہ:
اسلام مسلمانوں پر فرض کرتا ہے کہ ان کی پوری دنیا میں ایک ریاست اور ایک حکمران ہو۔ لہذا ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں: کہ ہمارے اسلامی ممالک میں متعدد ریاستوں کا وجود ایک حرام فعل ہے چاہے یہ ریاستیں اسلام کے مطابق ہی حکومت کیوں نہ کریں۔ تو پھر کیا حال ہوگا جب وہ صریح کفر کے ساتھ حکومت کر رہے ہوں؟! یہ اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے ساتھ غداری ہے جو اس ذلت، انتشار اور بڑی طاقتوں کے ان پر غلبے کے بعد اتحاد کے خواہاں ہیں۔
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے اسلامی ممالک کے حکمران امت کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے، بلکہ انہیں کافر نوآبادیاتی مغرب نے ہم پر مسلط کیا ہے، اور وہ ہمارے ملکوں کو اپنے زیر تسلط رکھنے، ان کے وسائل کو لوٹنے اور کسی بھی تبدیلی کی کارروائی میں ان کی عدم فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔
تو پھر ان ریاستوں اور ان کے غدار حکمرانوں کی جانب سے کیانِ یہود کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ آپریشن سینٹر بنانے کی دعوت کیسے دی جا سکتی ہے تاکہ وہ فلسطین اور دیگر مسلم ممالک میں ہمارے لوگوں کے قتل کو روک سکیں؟! یہ تو اس شخص کی مانند ہے جو بھیڑیے سے ریوڑ کی حفاظت کرنے کو کہے۔!
غدار اور ایجنٹ سے یہ کیسے مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ آزاد ہو اور وہ کام کرے جو رب العالمین چاہتا ہے، جبکہ وہ کافر نوآبادیاتی مغرب کو اپنا آقا مانتا ہے اور امریکہ ان سب کا سرغنہ ہے؟!
مختصر اور واضح طور پر ہم کہتے ہیں: ہمارے اسلامی ممالک میں ان بہت سی ریاستوں کا وجود ہی ایک تباہی ہے جس کی سنگینی کو امت نے ان دنوں واضح طور پر محسوس کیا ہے، اور اسے احساس ہو گیا ہے کہ اس کے لیے ایک مضبوط اور غالب ریاست کا ہونا ضروری ہے جو سیاست، معیشت، معاشرت، مالیات، زراعت، صنعت، تعلیم، پرورش، طب، صحت، ماحولیات، سائنس اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کے احکامات کے مطابق حکومت کرے۔
لہذا ان دنوں ہمارے غدار حکمرانوں کا کوئی بھی اجلاس جو ہو رہا ہے، وہ امریکہ، مغرب اور ان کے پروردہ کیانِ یہود کی جانب سے امت کے خلاف ایک نئی غداری اور سازش کا انتباہ ہے۔
حل ان اجلاسوں میں نہیں ہے جن کے نتائج پہلے سے معلوم ہیں، بلکہ موثر، حقیقی اور ممکنہ حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب امت آج ہی کل سے پہلے ایک خلیفہ کی بیعت کرنے کا فیصلہ کر لے جو اس پر خالص اسلام کے مطابق حکومت کرے، اور ہمارے لوگوں سے، نہ صرف فلسطین میں بلکہ تمام مسلم ممالک میں، غم، دکھ، قتل، بے گھری اور ذلت کو دور کرے۔
ہاں، ہمارے ممالک یقیناً ایک ملک اور اسلام کے ذریعے ایک غالب ریاست کے طور پر واپس آئیں گے جیسا کہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے ﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾۔
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا
ڈاکٹر محمد جابر
رئیس لجنة الاتصالات المركزية لحزب التحرير في ولاية لبنان