اجتماع ميجاواتي وروسما يعكس فشل السياسة العلمانية  لوقف وباء العنف الجنسي ضد الأطفال
اجتماع ميجاواتي وروسما يعكس فشل السياسة العلمانية  لوقف وباء العنف الجنسي ضد الأطفال

الخبر: أثنت الرئيسة الإندونيسية السابقة ميجاواتي سوكارنو بوتري، على مبادرة ماليزيا لاستضافة ندوة لمعالجة الجرائم الجنسية ضد الأطفال. وحضرت ميجاواتي ندوة وطنية حول الجرائم الجنسية ضد الأطفال التي كانت مستوحاة من زوجة رئيس الوزراء داتين سيري روسما منصور، والتي تناسب وقتها مع المشاكل التي تواجه العالم اليوم. وفي الوقت نفسه، قالت روسما إن وجود ميجاواتي في الندوة يعتبر نقطة انطلاق للتعاون بين النساء في البلدين، خصوصا في التعامل مع الجرائم الجنسية ضد الأطفال.

0:00 0:00
Speed:
March 19, 2017

اجتماع ميجاواتي وروسما يعكس فشل السياسة العلمانية لوقف وباء العنف الجنسي ضد الأطفال

اجتماع ميجاواتي وروسما يعكس فشل السياسة العلمانية

لوقف وباء العنف الجنسي ضد الأطفال

(مترجم)

الخبر:

أثنت الرئيسة الإندونيسية السابقة ميجاواتي سوكارنو بوتري، على مبادرة ماليزيا لاستضافة ندوة لمعالجة الجرائم الجنسية ضد الأطفال. وحضرت ميجاواتي ندوة وطنية حول الجرائم الجنسية ضد الأطفال التي كانت مستوحاة من زوجة رئيس الوزراء داتين سيري روسما منصور، والتي تناسب وقتها مع المشاكل التي تواجه العالم اليوم. وفي الوقت نفسه، قالت روسما إن وجود ميجاواتي في الندوة يعتبر نقطة انطلاق للتعاون بين النساء في البلدين، خصوصا في التعامل مع الجرائم الجنسية ضد الأطفال.

ونقلت ميجاواتي عن بحث أعدته اليونيسيف عام 2009، قالت فيه إن الاتجار بالبشر كان منتشراً في دول رابطة أمم جنوب شرق آسيا (آسيان). وأضافت أنه تم الاتجار بالفتيات لأغراض جنسية وتم الاتجار بالأولاد كعمال على قوارب في تايلاند. وقالت في مؤتمر صحفي قبل العشاء في سيري بيردانا أيضاً "في خطابي الرئيسي (في الندوة)، سوف أؤكد على أن العديد من القوانين تم سنها من قبل الأمم المتحدة (UN) وغيرها، ولكن الأهم من ذلك هو التنفيذ". وكان من المقرر أن تلقي ميجاواتي كلمة رئيسية بعنوان "تعاون الآسيان فى مكافحة الجرائم الجنسية ضد الأطفال"، في ندوة في مركز بوترا للتجارة العالمية، كوالالمبور يوم الثلاثاء 14 آذار/مارس. [برناما[

التعليق:

إن اجتماع زعيمتي بلدين مسلمين هما من أكبر الدول في الآسيان أمر مثير جدا للدراسة، ناهيك عن الموضوع بالغ الأهمية عن تزايد القلق من العنف ضد الأطفال والتي لا تزال قضاياه متراكمة في العديد من البلدان، بما في ذلك إندونيسيا وماليزيا.

وكما قالت ميجاواتي بالتحديد، إنه بالرغم من سن العديد من القوانين والسياسات من قبل الأمم المتحدة، ولكن التنفيذ ضعيف. وأيضا على المستوى الوطني، حيث باستطاعتنا أن نرى الكثير من السياسات والبرامج في كلا البلدين مشتقة من القوانين. فإندونيسيا على سبيل المثال وضعت برامج مثل التوجيه الرئاسي رقم 5 في سنة 2014 على الحركة الوطنية لمكافحة الجريمة الجنسية ضد الأطفال واستراتيجية وطنية للقضاء على العنف في مرحلة الطفولة (2016-2020). وبالمثل، تملك ماليزيا سياسة وطنية لحماية الطفل وخطة العمل (2009-2015) وخطة العمل بشأن حماية الأطفال على الإنترنت.

أما في السياق العالمي، فإن إندونيسيا وماليزيا كدول أطراف وقعت وصادقت على اتفاقية الأمم المتحدة لحقوق الطفل أو المعروفة باسم اتفاقية حقوق الطفل عام 1989. وقاموا أيضاً بتوقيع البروتوكول الاختياري على اتفاقية حقوق الطفل بشأن بيع الأطفال، وبغاء الأطفال والمواد الإباحية عن الأطفال. كما أنهما أصبحتا من الدول الأطراف في منظمة العمل الدولية (ILO) اتفاقية أسوأ أشكال عمالة الأطفال.

إلا أنه من السخرية أن تكون كل هذه الدعوات والاجتماعات والروايات من مختلف الاتفاقيات والقوانين والبرامج على جميع المستويات عاجزة حقا عن وقف وباء الاعتداء على الأطفال الذي هو في تزايد مستمر. إن ميجاواتي وروسما وجميع صانعي السياسة في العالم الإسلامي يجب أن يكونوا على علم بأن هناك ظروفاً خانقة تحيط بهذه الجهود وتجعلها غير مجدية، وهي:

  1. التعاون الاقتصادي الهائل متعدد الأطراف من لجنة الطاقة الذرية (آسيان الاقتصادية)، الذي ترجم فقط إلى لغة الاقتصاد، بعيداً عن الإنسانية، في شكل من أشكال السياسة الاقتصادية الرأسمالية والتجارة الحرة في الآسيان.
  2. القوانين الدولية الفارغة والاجتماعات الشكلية لأعمال احتفالية فقط.
  3. نمط الحياة المادية الليبرالية السريعة التي روجت بشكل مكثف من قبل الإعلام والإنترنت والترفيه.
  4. أهداف نظام التعليم المعيبة الذي يشكل الأطفال ليصبحوا عمالاً، بدلا من تشكيل سلامتهم، وأخلاقهم المتحضرة وشخصياتهم.
  5. تهميش الدين في جميع مناحي الحياة، بما في ذلك مبدأ الإسلام في بلاد المسلمين. فيصبح الإسلام كالتحلية وتكميلياً فقط. والعقيدة الإسلامية والشريعة الإسلامية هما بالتأكيد ليستا مصدر صنع السياسة في كل من إندونيسيا وماليزيا.

إن هذه العوامل الخمسة في الأعلى هي الآثار الرئيسية للثورة اللاإنسانية والجرائم المرتكبة ضد الأطفال، ومصدرها كلها هو وجود المبدأ الرأسمالي العلماني في العالم اليوم. وعلى الحكام المسلمين في ماليزيا وإندونيسيا أن يتعلموا من آثار الأزمات الاجتماعية في البلدان الرأسمالية العلمانية في الغرب والشرق، حيث يقتل النمو الاقتصادي أطفالهم ويهدم حضارتهم، وفي الوقت نفسه أدى إلى التجريد الشامل من الإنسانية واستغلال الملايين من الأطفال والنساء.

يا حكام المسلمين في إندونيسيا وماليزيا، تذكروا قول الله سبحانه وتعالى: ﴿قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ قُلِ اللَّـهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست