اجتماع قمة ترامب وكيم ليس من أجل السلام والأمن
اجتماع قمة ترامب وكيم ليس من أجل السلام والأمن

الخبر: في الوقت الذي ذهب فيه الرئيس الأمريكي دونالد ترامب والزعيم الكوري الشمالي كيم جونغ أون إلى سنغافورة لحضور اجتماع القمة الذي عقد في 12 حزيران/يونيو، نشرت مقالة على موقع الجزيرة بعنوان "كيف فشل 11 رئيسًا لأمريكا في صنع السلام مع كوريا الشمالية"، الأمر الذي يشير إلى ما يجب أن يكون واضحًا - وهو حقيقة أن أمريكا عملت باستمرار ضد السلام والأمن في شبه الجزيرة الكورية: خلافاً للإدراك الشائع، فإن القضية الجوهرية التي يجب حلها في قمة 12 حزيران/يونيو - وأية اجتماعات قادمة - بين الرئيس الأمريكي دونالد ترامب والزعيم الكوري الشمالي كيم جونغ أون ليست قضية نزع السلاح النووي لكوريا الشمالية. إن استعداد بيونغ يانغ لنزع السلاح النووي واضح بالفعل.

0:00 0:00
Speed:
June 15, 2018

اجتماع قمة ترامب وكيم ليس من أجل السلام والأمن

اجتماع قمة ترامب وكيم ليس من أجل السلام والأمن

(مترجم)

الخبر:

في الوقت الذي ذهب فيه الرئيس الأمريكي دونالد ترامب والزعيم الكوري الشمالي كيم جونغ أون إلى سنغافورة لحضور اجتماع القمة الذي عقد في 12 حزيران/يونيو، نشرت مقالة على موقع الجزيرة بعنوان "كيف فشل 11 رئيسًا لأمريكا في صنع السلام مع كوريا الشمالية"، الأمر الذي يشير إلى ما يجب أن يكون واضحًا - وهو حقيقة أن أمريكا عملت باستمرار ضد السلام والأمن في شبه الجزيرة الكورية:

خلافاً للإدراك الشائع، فإن القضية الجوهرية التي يجب حلها في قمة 12 حزيران/يونيو - وأية اجتماعات قادمة - بين الرئيس الأمريكي دونالد ترامب والزعيم الكوري الشمالي كيم جونغ أون ليست قضية نزع السلاح النووي لكوريا الشمالية. إن استعداد بيونغ يانغ لنزع السلاح النووي واضح بالفعل.

لكن الأمر غير الواضح هو ما إذا كانت أمريكا مستعدةً لمنح كوريا الشمالية ضمان أمنها وهو مطلبها الرئيسي. لا شك في أن بيونغ يانغ يمكنها تعطيل وتفكيك ترسانتها النووية. إنها فقط مسألة حول الطريقة.

لكنها لن تفعل ذلك إذا أصرت أمريكا على نزع السلاح النووي من جانب واحد دون أي التزام متبادل. وبالنقل عن جورج كينان، وهو دبلوماسي أمريكي مشهور: مفهوم الأمن القومي الذي يفشل في التنازل عن نفس الشرعية للاحتياجات الأمنية للآخرين يجعل نفسه عرضة للتأنيب الأخلاقي.

بهذا المعنى، فإن السجل التاريخي لإخفاقات أمريكا في تحقيق السلام والأمن في شبه الجزيرة الكورية غير مشجع. فشلت الإدارات الأمريكية المتعاقبة في تقديم وضمان ترتيب أمني مقبول لبيونغ يانغ، وتملصت مراراً وتكراراً من فرص التوصل إلى اتفاق.

وتظهر التصريحات الأخيرة لمستشار الأمن القومي جون بولتون ونائب الرئيس مايك بينس - والتي أدت وبسرعة إلى تفجر الخطابات وتعليق مؤقت للقمة المخططة - أن مثل هذه المواقف مستمرة في واشنطن. كان هذا النوع من التفكير هو الذي جعل المفاوضين الأمريكيين يختارون لغة فطنة، ومواقف أيديولوجية ويختارون التحديات بدل التسويات منذ 64 عاماً.

التعليق:

الشيء الوحيد الذي يميز ترامب، في هذه المرحلة، عن أسلافه هو قلة خبرته في السياسة. وإلا فهو يلتزم بأمانة وثيقة باللعبة الأمريكية، على الأقل النسخة الأحادية منه، سواء على إيران، أو التعريفات الجمركية، أو الصين، أو كوريا الشمالية.

تتصرف أمريكا وفقًا للأهداف الاستراتيجية الكبرى. فأمريكا هي التي أوجدت المشكلة الكورية بغزوها لشبه الجزيرة الكورية بعد الحرب العالمية الثانية. وأمريكا هي التي أطالت المشكلة الكورية على مدى أكثر من ستة عقود. لقد وفر الحفاظ على حالة الحرب مع كوريا الشمالية مبرراً لوجودها العسكري المهم في كوريا الجنوبية طوال هذه الفترة الزمنية. كما أنه ساعد على تبرير وجود القاعدة العسكرية الأمريكية المهمة في اليابان.

إن الوجود العسكري الأمريكي في غرب المحيط الهادي له هدفان: أولاً تأمين المحيط الهادئ، والذي تعتبره أمريكا مياهها الخاصة. وثانياً، التعدي على الحدود الصينية والروسية لمواجهة أي توسع شرقي من جانبهما. ليس لدى ترامب أية نية لتسوية القضية الكورية. وسيسعى على الأغلب إلى تفكيك الصواريخ الباليستية الكورية العابرة للقارات التي يمكن أن تستهدف أمريكا، مقابل تخفيف العقوبات الاقتصادية التي يمكن أن تفيد أيضاً أمريكا من خلال تصميمها لخفض الاعتماد الاقتصادي لكوريا الشمالية على الصين.

تتشكل العقلية السياسية الأمريكية بشكل كامل من خلال مبدئها الرأسمالي، الذي تطور من خلال حل وسط بين العلمانية الفاسدة للغرب النصراني مع القيم والمثل للإلحاد المادي الأناني. وهذا يتم ترجمته على المستوى الوطني إلى سياسة خارجية استعمارية تسعى إلى استغلال الكوكب بأسره. في غضون قرنين من الزمان، جلبت هذه الأيديولوجية الشيطانية العالم إلى حافة الدمار من تهديدات وجودية متعددة: نووية وبيولوجية وكيميائية وبيئية واقتصادية ومالية والقائمة تطول. ولكن ربما تكون أعظم جريمة هي أن الغرب قد أعاد كتابة التاريخ للخروج من السلام والعدالة التي سادت في العصر الإسلامي، حيث كانت دولة الخلافة هي القوة العظمى العالمية، ونشرت المعرفة والرخاء، والقيم الحضارية العالية لجميع شعوب العالم. لقد كان العصر الإسلامي هو الذي وفر الظروف للحضارة الغربية للتقدم، وللحضارة الصينية للازدهار. لكن الغرب تخلى عن نصرانيته، مشتهياً وراغباً في غنائم هذا العالم، مما أدى في النهاية إلى استفزازها للصين للخروج من وجودها السلمي، ووضعها بشكل مخادع على طريق عسكري فقط حتى تستفيد أمريكا من قوة موازنة صينية للاتحاد السوفييتي. والآن أصبحت هذه القوة الموازنة الصينية هي الشاغل العالمي الأول لأمريكا.

لن يعيش العالم أبداً في سلام طالما أن الغرب الرأسمالي العلماني المادي يهيمن عليه. بإذن الله، سرعان ما ستختبر الإنسانية وستعيش السلام والعدل في جميع أنحاء العالم عند إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وبعد تطبيق الإسلام داخلياً وحمل نوره إلى العالم كله، ومواجهة واحتواء، ثم تهدئة صراعات العالم، وإحياء الحضارة التي ترفض المادية الأساسية وتجعل الروحانية أساسها، مطبقةً آيات القرآن الكريم مثل: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾. ومتمسكة بأحاديث الرسول ﷺ مثل: «اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا فَإِنَّهُ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ».

كان هذا هو السبب الذي جعل الأصوات داخل الإمبراطورية البيزنطية المنهزمة تقول، عندما واجهت الخلافة العثمانية من جهة والكنيسة الرومانية من جهة أخرى: "أفضّل العمامة التركية على التاج البابوي".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست