اختفاء خاشقجي والتدخل الغربي في السعودية
اختفاء خاشقجي والتدخل الغربي في السعودية

لعل رسم الكاريكاتير الذي نشرته صحيفة الواشنطن بوست بتاريخ 2018/10/10 يلخص مسألة اختفاء الإعلامي السعودي جمال خاشقجي بعد دخوله القنصلية بلاده في إسطنبول: (لم تنته القصة بعد... وما خفي أعظم).

0:00 0:00
Speed:
October 12, 2018

اختفاء خاشقجي والتدخل الغربي في السعودية

اختفاء خاشقجي والتدخل الغربي في السعودية

الخبر:

لعل رسم الكاريكاتير الذي نشرته صحيفة الواشنطن بوست بتاريخ 2018/10/10 يلخص مسألة اختفاء الإعلامي السعودي جمال خاشقجي بعد دخوله القنصلية بلاده في إسطنبول: (لم تنته القصة بعد... وما خفي أعظم).

التعليق:

شهد العالم الكثير من حوادث اختطاف معارضين أو اغتيالهم أو اغتيال سياسيين ولكن لم يشهد مثل هذه العاصفة الإعلامية الضخمة التي ضجت بها الدنيا في أوروبا وأمريكا حيث ارتفعت الصيحات المطالبة بتجلية مصير خاشقجي الذي كان قد دخل القنصلية السعودية لإنجاز بعض الأوراق الرسمية ليتمكن من المضي في عقد قرانه على خطيبته التركية السيدة خديجة. كما كتبت خطيبته مقالا في الواشنطن بوست بتاريخ 2018/10/10 ناشدت فيه الرئيس الأمريكي ترامب، وعقيلته، التدخل لتجلية مصير خاشقجي الغامض حتى الآن.

ورغم كثرة التسريبات الصحفية في وسائل الإعلام نقلا عن هذا المصدر "المطلع على التحقيق" أو ذاك، إلا أنه حتى اللحظة لم يصدر تصريح رسمي عن جهة رسمية لا في تركيا ولا في السعودية. وبالتالي شطحت هذه التسريبات بين جازم بقتل خاشقجي وبين أخرى تترقب تطورات إيجابية. وليس هناك من حقيقة قائمة إلا أنه دخل القنصلية ولم يخرج منها (حتى يثبت العكس).

والناظر في واقع خاشقجي يجد أنه "ابن النظام السعودي" وهو وصف نفسه، في مقابلة له على قناة بي بي سي، بأنه ليس "معارضا". ولو تعلق الاختفاء (أو الاغتيال) بشخصية معارضة مثل محمد المسعري أو سعد الفقيه المقيمين في لندن، لربما أمكن تفهم الأمر، أما أن يتم تغييب شخص مثل خاشقجي فأمر مثير للريبة عن الهدف وراء هذا العمل. وحين يقع هذا الأمر في عقر القنصلية الرسمية فهذا يزيد الأمر دهشة وغموضا، فمن الممكن اغتياله في الشارع أو خطفه بكثير من الطرق المخابراتية المعروفة دون ارتباط الأمر بمقر رسمي للدولة. فقطعا لا يمكن الإقدام على هكذا عمل، في القنصلية، بدون موافقة من أعلى السلطات.

ولكن نحن نسأل ما بال هذه الدول الغربية التي صحا فيها الشعور الإنساني ليتباكى على مصير خاشقجي، وهي الدول التي أثبتت الوقائع الدامغة الصارخة بأنها لا تقيم وزنا لا لقيمة إنسانية ولا روحية ولا أخلاقية، بل لا تتورع عن ارتكاب حملات إبادة شنيعة سودت بها مجلدات ضخمة في تاريخها الاستعماري الكالح. وأقرب شاهد على ذلك الصور التي عرفت بـ"صور قيصر" التي وثقت، باعتراف المنظمات الحقوقية الدولية، جرائم سفاح دمشق في قتل الآلاف من المعارضين في سوريا. ومع هذا كله تواطأت الدول الغربية في جريمته، ولا تزال، بتمكينه من سفك المزيد من الدماء وتدمير ما لم يدمر بعد في سوريا، هذا دون الخوض في مصير الآلاف من المعتقلين في زنازينه، ومن المعروف أن وكالة المخابرات الأمريكية سي آي إيه كانت تستعين بخدمات جلاوزة بشار في التحقيق مع المعارضين من أهل سوريا بعيدا عن سلطة القانون وحقوق الإنسان... فأين الشعور الإنساني المزعوم عند هذه العواصم الاستعمارية؟ وقل مثل ذلك عن جرائم السيسي في مصر التي لم تنته بعد، لا بل حتى النظام السعودي الذي قام باعتقال المئات والآلاف من العلماء والمشايخ والمعارضين في داخل السعودية ولا زال الكثير منهم في السجون فلم نجد للإعلام الغربي كل هذه الضجة المضخمة؟!

نحن لا نبرئ النظام السعودي من سجله الإجرامي الفظيع، وكثير من شباب حزب التحرير عانوا الأمرين من قمع السلطات السعودية المتعاقبة منذ أيام فيصل، بما في ذلك حفلات التعذيب بالكهرباء، لا لشيء إلا لعملهم مع أبناء الأمة لحضهم على المطالبة بالعيش وفق أحكام الدين الحنيف. ولكن نريد هنا الكشف عن واقع أن الإعلام يُسخَّر لخدمة مآرب استعمارية ليست بريئة. فحين يراد الاقتصاص من نظام القذافي تقوم الدنيا ولا تقعد، وحين يريد جورج بوش (1992) إنزال قوات المارينز في الصومال يخترع إعلامه خرافة "المجاعة" لتبرير التدخل العسكري، وبمجرد خروج القوات الأمريكية تتبخر المجاعة المزعومة. وحين تريد أمريكا غزو فيتنام تخترع حادثة (خليج تونكين) التي اتهمت فيه فيتنام الشمالية بضرب بارجة أمريكية، وحين تريد أمريكا غزو العالم تخترع كذبة 11 أيلول 2001...

 ونحن لا نقبل بحال، لا في السعودية ولا في أي بقعة من بلاد المسلمين، أن يكون للكافرين على المؤمنين سبيل، ونحذر من أن السياسات الجائرة لحكام السعودية، بمحاربتهم لله ورسوله وسيرهم الحثيث في علمنة المجتمع السعودي وقمع المطالبين بتحكيم الشريعة، تشرع الأبواب للتدخل الغربي ليعيث الفساد تحت زعم "الإصلاح" وحقوق الإنسان وما شاكل. فعلى أهل الرشد من المسلمين في السعودية المبادرة للأخذ على يد هؤلاء الحكام السفهاء الذين يوردون البلاد مورد الهلاك، وهم الذين لم نسمع لهم ركزاً ردا على إهانات ترامب الذي يمعن في إذلال حاكم السعودية علانية بمطالبته بدفع الجزية السخية لحماية عرشه من السقوط، فيصرح ابنه وولي عهده بمحبة ترامب كما جاء في مقابلته مع بلومبيرغ الأمريكية. فهل بعد هذا العار من عار وشنار؟!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور عثمان بخاش

مدير المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست