اكذب ثم اكذب حتى يصدقك الناس
اكذب ثم اكذب حتى يصدقك الناس

الخبر:   نتيجة استطلاع مفتوح في ألمانيا حول مشاهدة مونديال 2022 في قطر، أن نصف الألمان لن يشاهدوا أية مباراة ويعزمون المقاطعة التامة للمونديال. [Bild]. فيما أعلنت العديد من المدن الفرنسية عن مقاطعتها للألعاب بعدم بث المباريات عبر الشاشات العمومية [المصدر]

0:00 0:00
Speed:
November 15, 2022

اكذب ثم اكذب حتى يصدقك الناس

اكذب ثم اكذب حتى يصدقك الناس

الخبر:

نتيجة استطلاع مفتوح في ألمانيا حول مشاهدة مونديال 2022 في قطر، أن نصف الألمان لن يشاهدوا أية مباراة ويعزمون المقاطعة التامة للمونديال. [Bild].

فيما أعلنت العديد من المدن الفرنسية عن مقاطعتها للألعاب بعدم بث المباريات عبر الشاشات العمومية [المصدر]

التعليق:

لقد أصبح الإعلام في كل أنحاء العالم مشابها لإعلام هتلر الذي تولاه جوزيف غوبلز، بوق الإعلام النازي القائل: "اكذب ثم اكذب حتى يصدقك الناس".

يكاد المرءُ يتقيأ كلما تحدثت وسائل الإعلام الأوروبية عن مقاطعة مونديال قطر 2022 لكرة القدم، ويزيد حالة الغثيان عندي بشكل خاص سماعُ متحدثين ومنظرين عما يسمونه حقوق الإنسان التي لم تراعها قطر أثناء تجهيزها لاحتضان المونديال من بناء استادات أو فنادق وأماكن لإقامة وتدريب اللاعبين وترفيههم وإبهاج المشجعين بكل وسائل الترفيه التي تكلفت ما يزيد عن 220 مليار دولار حسب ما أعلنت قطر نفسها.

الأوروبيون يدّعون أن أعمال البناء هذه أودت بحياة أكثر من 6500 عامل من مختلف أنحاء البلاد الفقيرة؛ من بنغلادش ونيبال والهند وغيرها، ولكن قطر تنفي ذلك وتعترف بوفاة 3 أشخاص فقط في حوادث عادية وليس بسبب السخرة وظروف العمل الاستعبادية وشدة الحر كما يقول الإعلام الغربي.

لستُ مدافعا عن قطر وأميرها المستبد والمسرف الذي أنفق هذه المليارات لإرضاء الغرب والتذلل لهم بتنازلات فكرية وثقافية واجتماعية وقانونية ناهيك عن التنازلات الدينية التي لا يعيرها الأمير اهتماما من أصله، فهو يحكم بغير ما أنزل الله حكم كفر رأسمالي عفن.

الدافع لكتابة هذا التعليق هو التأكيد على ازدواجية المعايير المستفزة عند الغرب والوقاحة في فرض الرأي ووجهة النظر الغربية على كل شعوب الأرض باعتبارهم أوصياء على عقول الناس وفكرهم وعاداتهم مهما كان فساد هذه النظرة ظاهرا وعوارها مكشوفا ومخالفا لفطرة الإنسان.

من ضمن آليات الدفاع عن حقوق الإنسان الذي سنته هيئة الأمم المتحدة هناك اتفاقية تسمى [الاتفاقية الدولية لحماية حقوق جميع العاملين المهاجرين وأفراد أسرهم] مؤرخة في 18 كانون أول/ديسمبر 1990 وقد وقعت عليه دول كثيرة، لكن اللافت للنظر أن أمريكا وكندا وكلَّ الدول الأوروبية وكذلك قطر لم توقع هذه الاتفاقية التي تعمل على حماية حقوق العمال المهاجرين والعمال الموسميين وعمال الحدود ورعايتهم وعدم إكراههم على العمل سخرة أو قسرا.

ترى هل غفل الغرب وإعلامه عن ظروف العمل التي يعيشها العمال الأجانب في بلاده التي تدعي الرقي والحفاظ على حقوق الإنسان؟! وكم من فضيحة كشفت هذه التجاوزات من خلال متابعة بعض الغيارى المخلصين أو مصادفة أو من أولئك الذين يبحثون عن السبق الصحفي لمصالح ذاتية؟!

لا نُذكِّر هنا بظروف هجرة السوريين أو العراقيين ووقوفهم على حدود بولندا وهنغاريا في ظروف قاسية أدت إلى موت أطفال ونساء وغرق العشرات في قوارب الموت، فكل هذه لا اعتبار لها في حقوقهم ولا إنسانيتهم. بل نذكُر هنا ظروف معيشة عمال المسالخ الألمانية بشكل عام وبشكل خاص فضيحة عمال شركة مسالخ توننيس Tönnies في عام 2020 وموت عشرات العمال بسبب ظروف العمل المخزية والسخرة لعمال الحدود الذين كانوا يبيتون ويقيمون في مخيمات أشد بؤسا من تلك التي شاهدناها في قطر. فماذا فعلت الحكومة والشركة لتعويض هؤلاء العمال وذويهم؟ مجرد فتات لا يسمن ولا يغني من جوع! وهذا غيض من فيض؛ فهناك أيضا عمال جني الثمار الموسمية في إسبانيا أو إيطاليا وفرنسا التي تستقدم العمال المؤقتين من المغرب وتونس، وكذلك ألمانيا التي تستقدم العمال من رومانيا وهنغاريا وبولندا، وتضع على عاتق أرباب العمل توفير المأوى والمأكل، وحينما فرضت الحكومات الحد الأدنى للرواتب ثار أرباب العمل وضجوا وتحايلوا على القانون بخصم تكاليف الإقامة والرعاية من الرواتب. وإذا حصلت متابعة من الدولة فإنما تكون من أجل الحصول على الضرائب التي يمكن أن تخسرها بسبب العمل الأسود بدون رواتب وتأمين صحي وضمان معيشة.

وكذلك فضائح عمالة السخرة لإنتاج الماركات العالمية في المغرب وتونس وباكستان وبنغلادش على سبيل المثال حيث انهار مؤخرا مصنع نسيج وحياكة أدى إلى وفاة مئات العاملين ولم تتكلف الدولة ولا الشركة الممولة تكاليف تعويض لائقة، وسكتت هنا منظمات حقوق الإنسان عن السعي لتحسين ظروف العمل في المصانع الأخرى ما خلا بعض المناداة الضعيفة هنا وهناك إمعانا في التضليل.

الأمثلة على تجاوزات ما يسمى حقوق العمال لا يمكن استيعابها في مقالة أو حتى في كتاب، ولكنهم يصرفون النظر عن سوءاتهم بكشف سوءات الآخرين، فيكذبون ويكذبون حتى يصدقوا أنفسهم ويصدقهم السامع المغفل.

والحديث عن سوأتهم في الدعوة لترويج الشذوذ والجندرة غني عن التعريف والتوصيف لما فيه من قذارة في حق الإنسانية.

نسأل الله أن يخلصنا من هذه الحضارة، دعاة الحقارة ومروجي القذارة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. يوسف سلامة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست