اكتشاف الغاز الطبيعي في تركيا؛ هل هذا هو الخبر العظيم؟!
اكتشاف الغاز الطبيعي في تركيا؛ هل هذا هو الخبر العظيم؟!

الخبر:   أعلن الرئيس التركي رجب طيب أردوغان وعده "بالأخبار العظيمة"، في إشادة بأن الـ320 مليار متر مكعب هي أكبر اكتشاف للغاز الطبيعي في تركيا حتى الآن، وصرح أيضاً بما يلي: "إلى جانب كونها العامل الرئيسي في تنمية البلد، فإن الطاقة مهمة جداً أيضاً في إرساء السيادة الوطنية، كما أن توزيع مصادر الطاقة هو ما يكمن وراء اللعبة التي تقام في شرق البحر الأبيض المتوسط. إن هذا النظام العالمي غير الإنساني يواصل هيمنته، الذي يعتبر قطرة واحدة من النفط أكثر أهمية من سفك دماء الإنسان في شلالات". وأضاف: "اللهم افتح لنا أبواب الغنى". (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
August 24, 2020

اكتشاف الغاز الطبيعي في تركيا؛ هل هذا هو الخبر العظيم؟!

اكتشاف الغاز الطبيعي في تركيا؛ هل هذا هو الخبر العظيم؟!

(مترجم)

الخبر:

أعلن الرئيس التركي رجب طيب أردوغان وعده "بالأخبار العظيمة"، في إشادة بأن الـ320 مليار متر مكعب هي أكبر اكتشاف للغاز الطبيعي في تركيا حتى الآن، وصرح أيضاً بما يلي:

"إلى جانب كونها العامل الرئيسي في تنمية البلد، فإن الطاقة مهمة جداً أيضاً في إرساء السيادة الوطنية، كما أن توزيع مصادر الطاقة هو ما يكمن وراء اللعبة التي تقام في شرق البحر الأبيض المتوسط. إن هذا النظام العالمي غير الإنساني يواصل هيمنته، الذي يعتبر قطرة واحدة من النفط أكثر أهمية من سفك دماء الإنسان في شلالات". وأضاف: "اللهم افتح لنا أبواب الغنى". (وكالات)

التعليق:

مما لا شك فيه أن اكتشاف مثل هذا المصدر حدث يبعث على الراحة لبلد مسلم، وعلى هذا النحو سأبدأ بالدعاء الذي قصدته بالفعل في نهاية هذا التعليق نسأل الله سبحانه وتعالى أن يمنح الأمة الإسلامية التفوق والإتقان في المجالات الأيديولوجية والسياسية والاقتصادية والأكاديمية والتكنولوجية والعلمية وجميع المجالات، في أقرب وقت ممكن وبالتأكيد إن الأمة المسلمة تستحق هذا. ومع ذلك، من أجل أن تستمر فرحتنا لفترة أطول ومن أجل إعلان أردوغان "للأخبار العظيمة" هناك قضيتان يجب أن توضعا في عين الاعتبار، أود أن أشرح القضية الأولى بكلمات الشيخ تقي الدين النبهاني رحمه الله في مقدمة كتابه "النظام الاقتصادي في الإسلام":

"إذا دُمرت الثروة المادية للأمة، فمن الممكن استعادتها بسرعة ما دامت الأمة تحافظ على ثروتها الفكرية. ومع ذلك، إذا انهارت الثروة الفكرية واحتفظت الأمة فقط بثروتها المادية، فإن هذه الثروة سوف تتقلص شيئا فشيئا وستقع الأمة في براثن الفقر".

بشكل مختصر: على الرغم من امتلاكهم أكبر احتياطي وثروة عظيمة في العالم منذ الماضي وحتى اليوم، فإن الناس في غالبية البلاد الإسلامية تحتل المرتبة الأولى بين أفقر البلاد في العالم. فمثلا أفريقيا، التي تمتلك أغنى موارد معدنية في العالم، لديها أعلى معدلات الجوع في العالم. والسعودية، المعروفة بثرائها بالنفط، وكونها أكبر مصدّر له، لديها ديون خارجية بحجم صادراتها النفطية، في حين إن أكثر من 20٪ من سكانها، أي ما يعادل 34 مليون شخص، يعيشون في فقر. (الجزيرة دوت كوم)

بالإضافة إلى ذلك، عند إلقاء نظرة على الكمية المكتشفة من الغاز الطبيعي، نرى أن حكام تركيا يشوهون الواقع ويضخمونه كالمعتاد ويؤكدون على "القومية والوطنية". حيث يبلغ متوسط استهلاك تركيا السنوي من الغاز الطبيعي 50 مليار متر مكعب. (ديلي صباح)

وهذا يعني أن هذه الغاز الطبيعي 320 مليار متر مكعب - إذا تم استخراجه بالكامل - سوف يوفر احتياجات تركيا لـ7 سنوات تقريباً، مما يعني أن الاعتماد على الواردات سيستمر.

أما بالنسبة للقضية الثانية، فإن أردوغان يتمسك بخطابه عن السيادة "الوطنية". ثم ما مدى قوة هذه الأمة مع 320 مليار متر مكعب من الغاز الطبيعي فقط؟ وكدولة قومية، ما الذي استطاع أن يحققه ضد عشرات الدول الاستعمارية الكافرة، التي تتصرف وفق مبدأ واحد، ومن يدها تمتص دماء الأمة الإسلامية وثرواتها؟ ما هو رأيه؟ وإلى متى سيقف ضدهم بهذه الكمية؟! في حين إن بلاد المسلمين هي وحدة واحدة كبيرة والأمة الإسلامية هي كلها أمة واحدة، والموارد الطبيعية التي خلقها الله هي ملك للأمة. ولا يحق للدولة ولا للحكام أو الشركات الخاصة التصرف فيها، حيث إن أي دخل من الموارد الطبيعية يذهب مباشرة إلى خزينة الدولة الإسلامية (بيت المال) وبالتالي يتم استخدامه مباشرة لخدمة جميع أنواع احتياجات الرعية. فهل الدولة القومية قادرة على القيام بذلك؟ لا يمكن أن يقوم بذلك إلا دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة المقيدة بأوامر الله وحده ونواهيه.

فالدول القومية لا تستطيع استخدام احتياطياتها لصالح شعوبها، حتى لو رغبت بذلك. لا يمكنها؛ لأنها تفتقر إلى عقيدة قادرة على إدارة وتنظيم شؤونها بالطريقة الصحيحة، ولذلك فهي معتمدة على رحمة القوى الأجنبية. إن حكام المسلمين وحكام وتركيا في الطليعة يحكمون بالأنظمة الرأسمالية الاستعمارية، التي نشأت من عقول الغرب الكافر. إن الرأسمالية، التي تتسم طبيعتها بالاستغلالية ومبدأ العمل بالوضوح بشكل لا يمكن إدراكه: فالرأسمالية تجمع الثروة في أيدي قلة من خلال الرشوة، والربا، والضرائب الجائرة، وتغذية الدولة والممتلكات العامة للشركات الخاصة من خلال المناقصات المزيفة، في حين إنها تترك غالبية البشرية عاجزة. والنتيجة المنطقية لذلك هي أن الغاز الطبيعي 320 مليار متر مكعب، مجرد نقطة في بحر، حيث تملأ جيوب الحكام وأصحاب رؤوس الأموال المتحالفة معهم، في حين إن أسعار الغاز الطبيعي الذي تستخدمه الأمة لتدفئة منازلها ولأجهزة الطهي، لن تحصل عليه! السؤال هنا: هل هذا حقا ما كنت تعنيه بقولك خبر عظيم؟!

باختصار، كما ذكر الشيخ تقي الدين النبهاني رحمه الله، فإن المسألة ليست امتلاك هذه الاحتياطيات، بل امتلاك المبدأ الصحيح لإدارتها.

والحقيقة هي أنه إذا كان الحكام عادلين، ولو كانوا ينفذون قوانين الإسلام في كل مجال من مجالات الدولة والحياة، وإذا طبقوا النظام الاقتصادي الإسلامي وقانون العقوبات الإسلامي، فإن الرأسمالية الاستعمارية ستختفي. وإذا أزيلت السرقة والاحتيال والرشوة والضرائب القسرية والربا، فإن الأمة الإسلامية ستتطور حتى لو كانت الاحتياطيات في بلادها ضئيلة.

لكان حكام هذه الدولة يسعون جاهدين لتغذية الأمة وشعوبها حتى لو كانوا هم أنفسهم يعانون من الجوع، لأنهم لا يعطون الأولوية للمكاسب المالية الشخصية. وعلاوة على ذلك، فإنهم يتنافسون، ليلاً ونهاراً، لكي يكونوا درعا لحماية النساء، وحفظ دماء المسلمين، هذه الأمور بالنسبة لهم أفضل من أية مكاسب اقتصادية... فهكذا تكون "الأخبار العظيمة فعلا".

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست