اردوغان کو سايكس بيكو کے محافظوں کے بجائے وفادار امت سے رجوع کرنا چاہیے۔
اسلامی اتحاد اور بھائی چارے کے لیے!
(مترجم)
خبر:
استنبول میں تنظیم تعاون اسلامی کے سامنے اپنی تقریر میں، ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اسلامی ممالک کے درمیان مزید اتحاد اور بھائی چارے کا مطالبہ کیا۔ اردوغان نے یہ بھی کہا: "ہم اپنے علاقے میں سائیکس پیکو کا ایک نیا نظام قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جس کی سرحدیں خون سے کھینچی جائیں۔" انہوں نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی کہ حل "سفارت کاری اور بات چیت" میں مضمر ہے۔
تبصرہ:
اردوغان کس قسم کے اتحاد اور بھائی چارے کی دعوت دے رہے ہیں؟ اور وہ اس اتحاد کو کیسے مستحکم کرنے کی امید رکھتے ہیں؟
اردوغان کی جانب سے "سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل" پر زور دینا درحقیقت موجودہ "سائیکس پیکو نظام" کو برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار ہے۔
اسلام میں اتحاد اور بھائی چارے میں رکاوٹیں درحقیقت سائیکس پیکو کی خون سے لکھی گئی سرحدیں، ان سرحدوں کے اندر قائم ہونے والی قومی ریاستیں، اور مغرب کی وفادار حکومتیں ہیں جو ان ریاستوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ قومی ریاست، قومی ریاست کی حدود، یا ترکی، ایران، فلسطین، شام وغیرہ کی سرحدوں کی حفاظت کے بارے میں بات کرکے اسلامی اتحاد اور بھائی چارے کو تعمیر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی قومی شناختوں کے تحت ایمان میں مسلمانوں کے اتحاد کو دبایا جا سکتا ہے۔ فلسطین، اور خاص طور پر غزہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ سائیکس پیکو کے تحت تیار کردہ اپنی سرحدوں، لوزان کی پابندیوں، مغرب سے نقل کردہ اپنے آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے طے کی جانے والی اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے ساتھ، اور مغرب آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے صیہونی درندے کو قانونی ریاست کے طور پر تسلیم کرنے والا پہلا اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے، کیا ترک جمہوریہ بھائی چارے سے غداری کا واضح ثبوت نہیں ہے؟
2003 میں ترکی کے وزیر اعظم اور پھر 2014 میں صدر بننے کے بعد سے اردوغان نے اسلامی بھائی چارے کو فروغ دینے میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
مصر اور شام میں ان کی غداریوں کو اب ایک طرف رکھتے ہیں... تو مشہور زمانہ "ایک منٹ!" اور "القدس ہماری ریڈ لائن ہے" کے بعد، انہوں نے ماوی مرمرہ فلوٹیلا کے شہداء سے غداری کی، اور کیان یہود کے ساتھ ترکی کی تجارت کے حجم کو کئی گنا بڑھا دیا۔ جب وہ غزہ کے بارے میں ان گنت دل خراش الفاظ بول رہے تھے، تو وہ "نازی" کی تمام ضروریات پوری کر رہے تھے، جیسا کہ وہ کیان یہود کو کہتے ہیں، اور اسے پٹرول، فولاد، فوجی جوتے، سفید سامان اور غذائی اجناس فراہم کر رہے تھے... اور جب وہ مسلمانوں کے مسائل کو سائیکس پیکو کے معماروں تک پہنچا رہے تھے، جو امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں...
درحقیقت، اردوغان، جو اس سائیکس پیکو ادارے - یا بلکہ "صیہونیت کے لیے خدمات کی کمپنی" کے سی ای او کے طور پر کام کر رہے ہیں - نے غزہ کے ان زخمیوں کے لیے کچھ نہیں کیا جو زندہ جل گئے، ان ڈاکٹروں کے لیے جو صیہونیوں کی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، ان ماؤں کے لیے جن کا بغیر بے ہوشی کے سیزرین کیا جا رہا ہے، ان کے بچوں کے لیے جن کے اعضاء بغیر بے ہوشی کے کاٹے جا رہے ہیں، اور ان کے بھوکے بچوں کے لیے جو زندہ جل رہے ہیں۔ یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ ان کے پاس دنیا کی نویں سب سے طاقتور فوج اور نیٹو کی چوتھی سب سے طاقتور فوج ہے... اور اس حقیقت کے باوجود کہ ان کے پاس ایک داماد ہے جو دنیا کے جدید ترین ڈرون اور جدید جنگی طیارے تیار کرتا ہے... اس کے باوجود وہ طوطے کی طرح سائیکس پیکو کے حامیوں کے اصولوں کو دہرا رہے ہیں - اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حل "سفارت کاری اور بات چیت میں مضمر ہے" اور "دو ریاستی حل"!
مختصر یہ کہ اردوغان کا بھائی چارے کا تصور اسلامی بھائی چارہ نہیں ہے! ان کی اسلامی اتحاد کی دعوت وہ اتحاد نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔ وہ شخصیات جنہیں اردوغان اپنی اتحاد کی دعوت سے مخاطب کرتے ہیں وہ رويبضات ہیں جو مسلمانوں کے ہاں کلمہ حق کو خنق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو امت کی عزت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ اگر کیان یہود جو نسل کشی کر رہا ہے اور جو یہ جانتا ہے کہ فلسطین میں مسلمانوں کا خون بہانا، غزہ کے بچوں کا خون اور کوئی بھی اور جو اس کے وجود کا واحد مقصد ہے، وہ اب بھی موجود ہے بلکہ بڑھتی ہوئی جرات کے ساتھ وحشی ہوتا جا رہا ہے، تو اس کی وجہ واضح ہے: یہ اردوغان کی وجہ سے ہے، جو بالکل عرب حکمرانوں کی طرح اسلام میں نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظاموں میں اقتدار اور وقار کی تلاش میں ہیں، اور جو امت کی صفوں میں ہونے کے بجائے اپنے کافر دوستوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
اگر اردوغان اسلامی اتحاد کے خواہاں ہیں تو لاکھوں مسلمان ہیں جو غزہ کے لیے متحد ہو گئے ہیں، ان کے منہ سے نکلنے والے ایک حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر اردوغان اسلامی بھائی چارے کے خواہاں ہیں تو لاکھوں مسلمان ہیں جو اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے درد محسوس کرتے ہیں اور جو فوج میں سپاہی بننے کے لیے بے تاب ہیں، وہ ان کے حکم پر روانہ ہو جائیں گے۔
اگر اردوغان سچے ہوتے تو وہ مخلص مسلمانوں سے خطاب کرتے نہ کہ سائیکس پیکو کے محافظوں سے۔ اور اگر ایسا ہوتا تو وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اتحاد کی تجویز پیش کرتے نہ کہ سرمایہ دارانہ سفارت کاری کو ایک حل کے طور پر!
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے ہے
زهرة مالك