على خطا أبيه: الملك عبد الله يأبى أن يلغي اتفاقية وادي عربة ويكتفي بالإنهاء القابل للتمديد!
على خطا أبيه: الملك عبد الله يأبى أن يلغي اتفاقية وادي عربة ويكتفي بالإنهاء القابل للتمديد!

الخبر:   أعلن العاهل الأردني عبد الله الثاني عن إنهاء ملحقي الباقورة والغمر من اتفاقية وادي عربة الموقعة مع كيان يهود عام 1994. وقال الملك عبد الله يوم الأحد الموافق 2018/10/21 إنه تم إبلاغ تل أبيب بقراره، مشددا على أن أراضي منطقتي الباقورة والغمر أردنية خالصة، وستظل أردنية، ويمارس الأردن سيادته عليها بالكامل، حسب قوله. كما أوضح في تغريدته على "تويتر" أن قراره جاء من حرصه على اتخاذ كل ما يلزم من أجل مصلحة البلاد والمواطنين.

0:00 0:00
Speed:
October 23, 2018

على خطا أبيه: الملك عبد الله يأبى أن يلغي اتفاقية وادي عربة ويكتفي بالإنهاء القابل للتمديد!

على خطا أبيه: الملك عبد الله يأبى أن يلغي اتفاقية وادي عربة

ويكتفي بالإنهاء القابل للتمديد!

الخبر:

أعلن العاهل الأردني عبد الله الثاني عن إنهاء ملحقي الباقورة والغمر من اتفاقية وادي عربة الموقعة مع كيان يهود عام 1994. وقال الملك عبد الله يوم الأحد الموافق 2018/10/21 إنه تم إبلاغ تل أبيب بقراره، مشددا على أن أراضي منطقتي الباقورة والغمر أردنية خالصة، وستظل أردنية، ويمارس الأردن سيادته عليها بالكامل، حسب قوله. كما أوضح في تغريدته على "تويتر" أن قراره جاء من حرصه على اتخاذ كل ما يلزم من أجل مصلحة البلاد والمواطنين.

التعليق:

بالرجوع إلى اتفاقية وادي عربة والملحق الخاص بمنطقتي الباقورة (ملحق 1 ب) والغمر (ملحق 1 ج) يتبين أن الأردن قد تخلى فعليا عن السيادة على هاتين المنطقتين منذ عام 1994. حيث ورد في الاتفاقية ما نصه في المادة 2: "اعترافا بأن هذه المنطقة تقع تحت السيادة الأردنية وفيها حقوق ملكية أراض خاصة ومصالح مملوكة (إسرائيلية) (المتصرفون بالأرض) في الأرض التي تتكون منها المنطقة (الأرض)"، ما يعني أن الأردن يعترف أن لكيان يهود ملكية أرض خاصة لم يحدد مساحتها ومصالح مملوكة في الباقورة. بينما في الملحق الخاص بقرية الغمر ذكر في المادة 2 (الملحق ج) ما نصه: "حقوق استعمال (إسرائيلية) خاصة تتعلق بالأرض". فقد ميزت الاتفاقية بين حق الاستعمال في الغمر والملكية الخاصة والمصالح المملوكة التي تخول يهود التصرف في الأرض في الباقورة.

أما السيادة التي تدعيها الاتفاقية فهي وهمية وليس لها أي معنى، حيث إن نصوص الاتفاقية قد نزعت التصرف السيادي على أرض الباقورة فيما يخص يهود حيث ورد فيها: "أن يمنح، دون استيفاء رسوم، حرية غير مقيدة للمتصرفين بالأرض وضيوفهم أو مستخدميهم، بالدخول إليها والخروج منها واستعمالها والحركة ضمن حدودها وأن يسمح للمتصرفين بالأرض بالتخلي بحرية عن حقوقهم بالتصرف بالأرض وفق القانون الأردني المعمول به"! فأين السيادة على هذه الأرض إذن؟! كذلك "ألا يفرض ضرائب تمييزية أو رسوم تمييزية على الأرض أو الأنشطة ضمنها"، في الوقت الذي يفرض ضرائب على كل شرائح الأردنيين، فأين السيادة؟! ولم تقف الاتفاقية عند هذا الحد حتى رفعت سيادة الأردن القانونية نهائيا عن هذه المناطق، حيث ورد في المادة 4-ج ما نصه "– بالنظر إلى هذا الملحق، لا يطبق الأردن قوانينه الجنائية على الأنشطة في المنطقة المحصورة بأشخاص من التابعية (الإسرائيلية)". ليس هناك شك أن السيادة على أرض الباقورة والغمر هي سيادة وهمية لا واقع لها، وقد ثبت هذا عمليا طوال الفترة الماضية منذ عام 1994 وحتى الآن.

أما تصريح الملك بإبلاغ كيان يهود نية الأردن إنهاء العمل بالاتفاقية، فقد جاء هذا الإعلان بناء على ما ورد في الاتفاقية في البند رقم 6 ما نصه "دون المساس بالحقوق الخاصة بالتصرف بالأرض في المنطقة يستمر هذا الملحق نافذ المفعول لمدة خمس وعشرين سنة، ويجدد تلقائيا لفترات مماثلة ما لم يخطر أحد الطرفين الطرف الآخر بنيته بإنهاء العمل بهذا الملحق قبل سنة من انتهائه وفي هذه الحالة يدخل الطرفان في مشاورات حيالها بناء على طلب أي منهما". فالملك تصرف بناء على هذا النص، ورد عليه رئيس وزراء يهود بأن كيانه ينوي الدخول في مفاوضات وذلك أيضا حسب الاتفاقية. فالاتفاقية لا تتيح للأردن إلغاء الاتفاقية نصا وروحا، والأردن لم يتحد بنود الاتفاقية مطلقا. فقد عمل بموجبها تماما وحين أراد إنهاء الاتفاقية شرع بذلك قبل سنة من انتهاء المدة التي تحددت وهي 25 سنة، أي أن الاتفاقية تنتهي قانونا سنة 2019.

والأهم من ذلك أن لفظ إنهاء لا يدل مطلقا على إلغاء الاتفاقية، بل إنه يدل فقط على أن فترة الاتفاقية قد انتهت ويجب العمل على تجديدها والتفاوض على شروطها وبنودها، إما لإقرارها كما هي أو لتعديلها أو تعديل بعض بنودها. أما عملية الإلغاء فهي غير واردة مطلقا. وأما السيادة التي تحدث عنها الملك فهي السيادة نفسها التي تحدثت عنها الاتفاقية وهي سيادة وهمية تماما، تعطي كافة الصلاحيات ليهود دون أن يكون للأردن أدنى سيادة حتى على الجرائم التي تقع هناك. ومن الواضح أن صياغة الاتفاقية كانت محكمة من حيث ما يتعلق بديمومة الاتفاقية، فقد جعلها لمدة 25 سنة وجعل توقيتها إنهاء لا إلغاء والفرق بينهما واضح جدا. ومن المفيد هنا التذكير بما قام بها الملك السابق حسين حين أعلن عن نيته إنهاء معاهدة الانتداب البريطاني على الأردن عام 1956 حيث نصت المعاهدة على انتهاء وقتها بتاريخ معين والسماح للطرفين الدخول بمفاوضات تجديد المعاهدة بشروط جديدة. فظن الكثير أن حسيناً أصبح سيداً وخلص من النفوذ الإنجليزي، في الوقت الذي استعمل صيغة الإنهاء لتجديد وتثبيت التبعية لبريطانيا.

وعلى نهج أبيه، ومستعملا الألفاظ نفسها، والأسلوب نفسه وللغاية نفسها، قام الملك عبد الله بالطلب من كيان يهود التفاوض حول الاتفاقية لا لإلغائها بل لأن مدتها القانونية انتهت، وعليه إعلام يهود قبل سنة من ذلك للتفاوض على شروطها. أما داخل الأردن فلِيظهر من جديد بالمظهر الحريص على السيادة التي فرط بها أبوه وسار على نهجه 24 عاما، والآن جاء دوره ليؤكد استمراره على النهج نفسه.

وكما قال الأستاذ الكبير أحمد الداعور رحمه الله في مجلس الأمة مخاطبا الحكومة الأردنية "أتحدى أن تغير الحكومة لفظ إنهاء المعاهدة واستبدالها بإلغاء"، فنحن نقول اليوم: نتحدى الملك عبد الله أن يطلب إلغاء المعاهدة ولا يكتفي بالإنهاء.

وليتذكر هو ومن حوله أعوانه ومن دونهم الشعب في الأردن أن الله تعالى قال: ﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾، فلا تجعلوا أنتم سبيلا ليهود على أرض الباقورة والغمر وهي تحت سلطانكم كما تدعون، والله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد الجيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست