ألا توجد شجاعة عند حكومة أوزبيكستان حتى مثل الطالب؟!
ألا توجد شجاعة عند حكومة أوزبيكستان حتى مثل الطالب؟!

الخبر: حاول طالب شاب في مدينة طشقند، إشعال النار في سفارة كيان يهود في أوزبيكستان. وبحسب وثيقة المحكمة، فإن أ.أ.، المولود في منطقة فرغانة عام 2004، هو طالب في المستوى الثاني بجامعة اللغات العالمية في أوزبيكستان. ففي الصباح الباكر من يوم 19 تشرين الأول/أكتوبر 2023، حاول إحراق سفارة كيان يهود. ووفقاً لحكم محكمة مقاطعة ياكاساراي في 19 نيسان/أبريل من هذا العام، فقد أُدين أ.أ. بارتكاب جريمة بموجب المادة 155 (الإرهاب)، الجزء الأول من القانون الجنائي، وحُكم عليه بالسجن لمدة 5 سنوات. (kun.uz، 2024/05/08م)

0:00 0:00
Speed:
May 11, 2024

ألا توجد شجاعة عند حكومة أوزبيكستان حتى مثل الطالب؟!

ألا توجد شجاعة عند حكومة أوزبيكستان حتى مثل الطالب؟!

الخبر:

حاول طالب شاب في مدينة طشقند، إشعال النار في سفارة كيان يهود في أوزبيكستان. وبحسب وثيقة المحكمة، فإن أ.أ.، المولود في منطقة فرغانة عام 2004، هو طالب في المستوى الثاني بجامعة اللغات العالمية في أوزبيكستان. ففي الصباح الباكر من يوم 19 تشرين الأول/أكتوبر 2023، حاول إحراق سفارة كيان يهود. ووفقاً لحكم محكمة مقاطعة ياكاساراي في 19 نيسان/أبريل من هذا العام، فقد أُدين أ.أ. بارتكاب جريمة بموجب المادة 155 (الإرهاب)، الجزء الأول من القانون الجنائي، وحُكم عليه بالسجن لمدة 5 سنوات. (kun.uz، 2024/05/08م)

التعليق:

بحسب التقرير، قام الشاب بوضع زجاجة كيروسين وأثقال وصندوقين من أعواد الثقاب وقطع من القماش في حقيبته الرياضية، وتوقف عند السفارة على دراجته حوالي الساعة 4:30 من ذلك اليوم. ثم لفتت تصرفاته انتباه ضباط وزارة الداخلية رقم 4 التابع لقسم تنسيق أنشطة هيئات الشؤون الداخلية في منطقة ياكاساراي، والتي تقع بالقرب من السفارة. وطلب الضباط من الشاب التوقف، فركب دراجته محاولا الهروب، فتبعه الضباط بسيارة الخدمة، وأوقفوه واقتادوه إلى مبنى إدارة الشؤون الداخلية وطلبوا منه الكشف عما في الحقيبة التي على كتفه.

ومن أجل تحقيق هدفه، قام الطالب الشاب بتشتيت انتباه ضباط إدارة الشؤون الداخلية، وأخذ زجاجة الكيروسين والثقل في يده، وركض نحو مبنى السفارة. وقامت عناصر من وزارة الداخلية والحرس الوطني المكلفين بحراسة مبنى السفارة بالقبض على الشاب بالقرب من باب السفارة. وفي هذه الأثناء، تمكن من رمي الزجاجة والثقل من فوق السور في ساحة السفارة. وذكر الشاب في شهادته أمام المحكمة أنه في منتصف تشرين الأول/أكتوبر 2023، بدأ بمشاهدة مقاطع فيديو تظهر الحرب بين كيان يهود والفلسطينيين في قطاع غزة، وقال إنه نتيجة لذلك، كان يكره دولة يهود، ومن أجل الانتقام كان ينوي حرق سفارة هذا البلد في طشقند.

ورغم أن هذه الحادثة وقعت بعد وقت قصير من إعلان عملية "طوفان الأقصى" ضد كيان يهود المحتل في 7 تشرين الأول/أكتوبر 2023 على يد أبناء أرض فلسطين المباركة البواسل، إلا أن وسائل الإعلام في حينه لم تتحدث عنها. ويبدو أن الحكومة، خوفاً من أن تؤثر هذه الحادثة على أهلنا المسلمين في بلادنا، منعت الكشف عن هذه القضية وتفاصيلها. ولكن مع ذلك أراد الله تعالى أن يكشف للعالم أجمع العمل الصالح الذي قام به أحد عباده الأبطال بشجاعة وإقدام. وبطبيعة الحال، هذا الرجل هو أحد أبطال اليوم، والجدير بالثناء بشكل خاص أنه واصل تحقيق هدفه رغم منعه من رجال الأمن. وإننا ندعو له راجين من الله عز وجل أن يجزيه خير الجزاء، حيث إنه لا يجوز فقط إيذاء كيان يهود المحتل، بغض النظر عن مستواه وشكله، بل يجب أيضاً إزالته من على وجه الأرض فوراً. وهذا أولاً وقبل كل شيء من واجبات جيوش المسلمين، وهي القوى التي لديها الإمكانية والقدرة على القيام بالعمل العظيم والمشرف لتحرير فلسطين والمسجد الأقصى المبارك. ولكن للأسف فإن جيوش بلاد المسلمين لا تزال في وضع لا يمكنها إلا أن تزأر كالأسد داخل قفص.

إن الحكومة الأوزبيكية، تتصرف مثل الحكومات الخائنة والجبانة في بقية بلاد المسلمين، حيث تواصل علاقاتها مع كيان يهود الملعون وتحرس سفارته حراسة مشددة. وعلى الرغم من أن المسلمين يُذبحون في أرض فلسطين المقدسة أمام أعين العالم أجمع بقسوة لا مثيل لها، إلا أن تلك الحكومات غير قادرة على إدانة كيان يهود المحتل ولو بكلمة واحدة! والحقيقة أن الاعتراف بكيان يهود كدولة هو جريمة كبرى وخيانة لله ورسوله.

وحتى الأئمة الذين يخدمون هذه الحكومة يتجنبون ذكر قضية فلسطين على المنابر، ولا يجرؤون حتى أن يدعو لأهلها بكلمة! أما عندما يتعلق الأمر باتهام المسلمين بالتطرف والإرهاب، أو "تحذير" الناس من أن الإسلام السياسي "فكرة أجنبية"، فإن ألسنتهم تكون قاطعة! فإذا وُضعت حكومتكم و"زعماؤكم الدينيون" المعمّمون في كفة، ووضع هذا الفعل الذي يبدو صغيراً من جانب الطالب المذكور في كفة أخرى، فلا شك أن كفته ستكون أثقل، لأن هذا الشاب استغل كل فرصة لإظهار جانبه. بينما أظهرت الحكومة جانبها من خلال اتهامه بالإرهاب ومعاقبته، واختار علماء السلاطين الذين دعموا سياساتها موقفهم أيضاً! لقد قام هذا الطالب الشاب بصفعكم جميعاً بطريقة لا تشعرون بها ولا تفهمونها بالطبع، فلا يفهم ذلك إلا من كان في قلبه الإيمان ويهتم بالإسلام والمسلمين. أنتم لم تستطيعوا حتى أن تكونوا مثل هذا الشاب! أنتم لم تستطيعوا أن تظهروا عداءكم وبغضكم ليهود الأنجاس مثل هذا الشاب! عار عليكم العلم والمحراب!

غير أن الله تعالى مطلع على كل أقوالكم وأفعالكم وقلوبكم، ولا يمكنكم إخفاء أي شيء عنه. وإننا نحذر الحكومة الأوزبيكية وعلماء السلاطين من أنه إذا كان هذا هو وضعكم اليوم، فإن حسابكم أمام الله سيكون مؤلماً جدا، وعندما يأخذكم الله فلن يكون هناك من يعينكم. وحينها لن تجدوا أي أثر لأمريكا وروسيا، اللتين تحاولون إرضاءهما، بل يكونون هم أنفسهم يعذبون في نار جهنم، وفي هذه الدنيا لن تجدوا سوى معيشة الضنك. ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست