على وقع سياسة التحريض والكراهية الأمريكية مسيرات ضد الإسلام في عشرات المدن الأمريكية
على وقع سياسة التحريض والكراهية الأمريكية مسيرات ضد الإسلام في عشرات المدن الأمريكية

الخبر: ذكرت رويترز 2017/6/10 بأنه (من المقرر أن تخرج نحو 24 مسيرة في أنحاء الولايات المتحدة يوم السبت للتنديد بالشريعة الإسلامية إذ يقول المنظمون إنها تمثل تهديدا للحريات الأمريكية لكن منتقدين للمسيرات يعتقدون أنها ستار للكراهية ضد المسلمين.) وقررت مؤسسة (آكت فور أمريكا)، التي تصف نفسها بأنها منظمة شعبية تركز على قضايا الأمن القومي، تنظيم احتجاجات في نيويورك وشيكاغو وبوسطن ودنفر وسياتل إضافة إلى العديد من المدن الأصغر ضد الإسلام. وتعهد مئات الأشخاص عبر مواقع التواصل بالمشاركة. ...

0:00 0:00
Speed:
June 11, 2017

على وقع سياسة التحريض والكراهية الأمريكية مسيرات ضد الإسلام في عشرات المدن الأمريكية

على وقع سياسة التحريض والكراهية الأمريكية

مسيرات ضد الإسلام في عشرات المدن الأمريكية

الخبر:

ذكرت رويترز 2017/6/10 بأنه (من المقرر أن تخرج نحو 24 مسيرة في أنحاء الولايات المتحدة يوم السبت للتنديد بالشريعة الإسلامية إذ يقول المنظمون إنها تمثل تهديدا للحريات الأمريكية لكن منتقدين للمسيرات يعتقدون أنها ستار للكراهية ضد المسلمين.)

وقررت مؤسسة (آكت فور أمريكا)، التي تصف نفسها بأنها منظمة شعبية تركز على قضايا الأمن القومي، تنظيم احتجاجات في نيويورك وشيكاغو وبوسطن ودنفر وسياتل إضافة إلى العديد من المدن الأصغر ضد الإسلام. وتعهد مئات الأشخاص عبر مواقع التواصل بالمشاركة.

وكانت الأجواء مشحونة في مسيرة على مشارف هاريسبرج عاصمة ولاية بنسلفانيا. وفصلت حواجز أمنية وأفراد شرطة بين نحو 60 متظاهرا مناهضا للشريعة الإسلامية عن عدد مماثل تقريبا من المتظاهرين المعارضين لهم.

وعلى موقعها على الإنترنت تصف آكت الشريعة بأنها لا تتوافق مع حقوق الإنسان وتبرر قمع النساء والمثليين جنسيا وتدعو لختان الإناث.

لكن منتقدين يقولون إن المنظمة تذم المسلمين وساوت مرارا بين الإسلام والتطرف ويعتبرون تلك المسيرات جزءا من شعور معاد للإسلام وللمهاجرين أثارته آراء الرئيس دونالد ترامب.

التعليق:

تتصاعد الأعمال المناهضة للإسلام والمسلمين في الغرب، وبعد مسيرات حزب البديل في ألمانيا "بيغيدا" المناهضة للإسلام ها هي تصل الموجة إلى الطرف الثاني من المحيط الأطلسي أمريكا. وبالتدقيق في هذه الأعمال نجد أمرين مهمين:

الأول: هذه ليست أعمالاً شعبية نقية، فخلف هذه المؤسسات التي تبث الكراهية ضد الإسلام والمسلمين تقف قوى رأسمالية مهمة. فهذه المؤسسات بحاجة إلى من يدعمها ويمولها لتقوم بهذه الحملات التي تظهر وكأنها ردة فعل من الشعب ضد الإسلام والمسلمين. ونقل التوجهات السياسية في المجتمعات الغربية إلى المستوى الشعبي تسهر عليه ماكينة مبرمجة من السياسيين ومموليهم الرأسماليين، وقد بثت وسائل الإعلام قبل فترة وجيزة تقريراً عن كتاب أمريكيين يكتبون ضد الإسلام ويصدرون صحفاً دورية بهذا الخصوص، وبينت تلك التقارير أن العملية برمتها تقع تحت رعاية أعضاء في الكونغرس الأمريكي ورعاية مالية من شركات كبرى.

ثانياً: لا يستغرب المراقب بروز مثل هذه التيارات وإن كانت صغيرة في المجتمعات الغربية على وقع التحريض الشديد في وسائل الإعلام ضد الإسلام من ناحية، ومن ناحية أخرى ما ينفثه السياسيون ومن أعلى المستويات كالرئيس ترامب من سموم ضد الإسلام، مثل إعادة تسميته "الحرب على الإرهاب" بالحرب على "التطرف الإسلامي الراديكالي". أي أن مثل هذه التيارات هي نتيجة حتمية لتحريض السياسيين من مختلف المستويات ضد المسلمين وضد الإسلام ومعهم وسائل الإعلام.

فكل أعمال العنف التي تشتهر بها المجتمعات الغربية خاصة أمريكا، تقوم وسائل الإعلام بالبدء بالبحث عن أصابع إسلامية فيها قبل أن يتبين لها حقيقتها، وأي عمل يشتمُّ من ورائه مسلم يتم وصمه بـ(الإرهاب) حتى لو كان خلافاً على تجارة أو بيع أو أي أمر دنيوي، ولكن عندما يتضح بأن تلك الجريمة قام بها غير المسلم، فيتم فوراً الإعلان بأن ذلك ليس عملاً إرهابياً، بمعنى أن السياسيين ووسائل الإعلام في الغرب يركزون بشكل محموم على وصم الإسلام بـ(الإرهاب)، ويبثون بأقصى طاقة سموم الكراهية ضد الإسلام والمسلمين.

وإذا كنا نسلّم بعداء هؤلاء السياسيين في الغرب للإسلام، ونستبشر بقرب عودة دولة الإسلام، دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، إذ لو لم يكن خطر الإسلام شديداً على الغرب لما حاربه بهذه الصرامة والشدة وبث من سموم الكراهية ما يمنع أبناءه من اعتناقه، ولكن المأساة الكبرى هي تعاون حكام المسلمين مع دول الكفر ضد الإسلام والمسلمين: فكم من مليارات الدولارات دفعها رويبضات الخليج لمكافحة الإسلام، وكم معركة من معارك الكفر ضد الإسلام في سوريا والعراق وأفغانستان شارك فيها هؤلاء بطائراتهم ودباباتهم وجنودهم للصد عن سبيل الله، وكم هو حجم العمل والمشاركة الداخلية في قمع شعوبهم واعتقال الدعاة التي يقوم بها هؤلاء الرويبضات في البلاد العربية والإسلامية لمنع تطبيق الإسلام، ومنع وصوله للحكم؟!

وإذا كان هذا الغرب المجرم يدعي الحرية! فلماذا يمنع المسلمين من اختيار الحكم بالإسلام، فأمة الإسلام لا تريد إلا الحكم بالإسلام، ومن أدلة ذلك ما يشاهده الغرب بأن الأمة تنتخب أي جماعة لها صبغة إسلامية في البلدان التي يتم فيها التنفيس باسم الديمقراطية، ولكنه يرفض إلا دعم الأنظمة العسكرية كما في سوريا التي يمنع الغرب عن ثورتها أي سلاح، وبتعاون كامل من رويبضات تركيا والأردن والخليج، فخيار الغرب هو الحرب على الإسلام بكل أشكاله، حتى إنهم لم يعودوا يطيقون حركات الإسلام المنحرفة التي يسمونها "معتدلة"، ولا يريدون لدين الله ذكراً، بل ويتجرؤ بعض ساستهم ويصفون الدين الذي ارتضاه الله لنا بـ"السرطان"! قاتلهم الله.

وإذا كان أعداء الإسلام يقاتلون المسلمين حتى من ساحات حكامنا، فإن هذا الغرب المجرم يدرك بأن تلك الساحات آخذة في الضيق، وأن الأمة الإسلامية تسير بشكل ثابت باتجاه بناء دولة حقيقية للإسلام على أنقاض هؤلاء الرويبضات، لذلك ترى جنون الغرب في حربه ضد الإسلام.

والله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام البخاري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست