الآلاف في ماليزيا يحتجون ضد رئيس الوزراء نجيب عبد الرزاق ‏(مترجم)‏
الآلاف في ماليزيا يحتجون ضد رئيس الوزراء نجيب عبد الرزاق ‏(مترجم)‏

الخبر:‏   تظاهر‎ ‎عشرات الآلاف من الماليزيين خلال عطلة نهاية الأسبوع في العاصمة كوالالمبور وفي ‏مناطق أخرى، مطالبين باستقالة رئيس الوزراء نجيب عبد الرزاق بسبب فضيحة مالية. حيث ثار ‏غضب المحتجين بسبب تحويل مبلغ قدره 700 مليون دولار أمريكي (455 مليون جنيه أسترليني) ‏لحسابه المصرفي من جهات مانحة أجنبية لم يتم الكشف عنها. وقد اكتشف ذلك الشهر الماضي خلال ‏التحقيق في سوء الإدارة المزعوم في صندوق تنمية ماليزيا (وان إم.دي.بي) المثقلة بالديون. ونفى السيد ‏نجيب أية مخالفات‎.‎ وقالت زعيمة منظمة "بيرسيه"، ماريا شين، أن الاحتجاج لم يكن لمناهضة الحكومة. وأضافت "إننا ‏لا نريد إسقاط الحكومة لكننا نريد إسقاط السياسيين الفاسدين".‏ الاتهام الرئيسي ضد السيد نجيب هو أنه أخذ 700 مليون دولار من صندوق (وان إم.دي.بي) ‏المدين، الذي أسسه في عام 2009 في محاولة لتحويل كوالالمبور إلى مركز مالي. وقال وزراء ‏حكومته إن التحويلات المالية كانت "تبرعات سياسية" من لم يتم الكشف عن هويته من الشرق الأوسط، ‏وأن كل شيء كان سليما. ولم يتم إعطاء مزيد من التفاصيل‎.‎‏ (المصدر: ‏news.bbc.co.uk، ‏‏2015/08/30).‏     التعليق:‏   بالمقارنة مع فضحية لوينسكي في الولايات المتحدة والتذمر الأخير من أنشطة الاستغلال الجنسي ‏للأطفال على أعلى مستويات المجتمع المدني في المملكة المتحدة، يبدو أن فضيحة صندوق (وان ‏إم.دي.بي) والتي تدور حول رئيس الوزراء نجيب قد أثارت احتجاجا صاخبا نسبيا ومنظمة تنظيما جيدا ‏على غير عادة اللامبالي "لا بأس" للماليزيين. فقد وفرت نقطة احتشاد نفعية سياسية لطائفة متنوعة ‏من جماعات المعارضة مع أجندات ومصالح متنوعة‎.‎‏ حيث كانت الاحتجاجات فقط وحصرا عن نجيب!‏ قبل 58 عاما، حصلت الملايو على استقلالها عن بريطانيا بتكلفة ضخمة؛ سياسيا - خسارة ‏الأكثرية المطلقة، وعقائديا - فقدان الولاء المطلق للإسلام إلى العلمانية، واقتصاديا - استمرار لتركيبة ‏اجتماعية واقتصادية تمت هندستها على أسس عرقية، ونفسيا - فقدان اسم "تاناه ملايو" (أرض ملايو) ‏إلى الاسم الجديد "ماليزيا".‏ إن أحفاد المهاجرين الوافدين الذين دخلوا عن طريق البريطانيين وأتيحت لهم التابعية بسخاء وحق ‏الأرض، يدفعون نحو \'الخطوط الحمراء\' المتعاهدة سابقا.‏‎ ‎ويبدو أن زارعي الفتنة بين شعوب الأقاليم ‏الصباح، ساراواك وشبه جزيرة ماليزيا اكتسبوا أرضية على نسيج ماليزيا الذي يبدو أنه بدأ يتفكك ‏ببطء‎.‎ فلا أحد يبدو سعيدا بـ\'العقد\' الأساسي والأصلي لماليزيا بعد الآن، وهذه هي العقبة الحقيقية.‏ فإذا كان الماليزيون جادين في التغيير والتقدم، فإنهم يحتاجون إلى نظرة أعمق، في الأسس التي ‏بنيت عليها ماليزيا. ورغم أنها كثيرا ما تتكرر، فلا أحد يعتقد حقا في المبادئ التأسيسية الخمسة من ‏روكون نيجارا (شرائع الأمة). وليس من المستغرب أنه فشل في ربط المجتمعات المتنوعة الماليزية ‏و"القبائل". وهذه هي المأساة الأكبر. فبدلا من أن يكون التنوع مصدر قوة، كان كأوتار الركبة يثبط تقدم ‏الأمة السريع. لذا ما الذي ينبغي أن يكون الأساس، في ماليزيا؟ إن العرق ليس من اختيارنا، والفكر العميق أو الحلول في الحياة لا تنبثق عنه‎.‎‏ ومن الجهل الشديد ‏بناء دولة مستنيرة ومتقدمة على أساس ذلك. إن الولاء الأعمى، هو ملجأ للمتخبطين والجهلة والخائفين. ‏وهذا أيضا لا يصلح أن يكون أساسا لأمة عظيمة‎.‎ من أجل إحراز تقدم حقيقي، لا بد من إعادة بناء ماليزيا على أساس موثوق - ذلك المبني على العقل ‏والواقع وينبثق عنه مبدأ ونظام عادل وشامل. قاعدة فكرية أزيلت عنها ضحالة العرق والتحيز غير ‏العقلاني والإيمان الأعمى‎.‎ لأكثر من 1400 سنة يقف مبدأ الإسلام بطريقة فريدة من نوعها في القضاء على الروابط الباطلة ‏من القبلية والعرقية، وإقامة بدلا من ذلك مجتمع وروابط أخوة مبنيين على أساس العقيدة والنظام الذي ‏ينبثق منها. وإنهاض المجتمع للسعي وراء إرضاء الخالق سبحانه وتعالى، وليس إرضاء للغرائز ‏الحيوانية لخدمة المصالح الذاتية‎.‎‏ فإذا كان الماليزيون حقا جادين في أن تكون لهم دولة قوية وتقدمية ‏وعادلة - يجب أن يجرؤوا على تنحية التحيز والتعصب جانبا ودراسة هذه المسألة بعمق، وبشكل ‏جماعي وإعادة بناء الأمة على أساس فكري حقيقي، مبني على أساس العقيدة الإسلامية التي تتفق مع ‏الطبيعة البشرية‎.‎ يقول الله تعالى: ﴿وَإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴾.‏       كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرمحمد حمزة  

0:00 0:00
Speed:
September 08, 2015

الآلاف في ماليزيا يحتجون ضد رئيس الوزراء نجيب عبد الرزاق ‏(مترجم)‏

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست