الأعلام التي صنعها الغرب وترمز لتبعيته لا يجوز احترامها ولا تحيّتها وتعظيمها يا دار الإفتاء!
الأعلام التي صنعها الغرب وترمز لتبعيته لا يجوز احترامها ولا تحيّتها وتعظيمها يا دار الإفتاء!

الخبر:   نقلت بوابة الشروق السبت 2017/9/16م، عن دار الإفتاء المصرية إنه لا مانع شرعًا من تحية العلم أو الوقوف للسلام الوطني؛ لأن كليهما يعد تعبيرًا عن الحب لرمز الوطن وعلامته وشعاره، وأضافت «الإفتاء»، عبر صفحتها على موقع «فيسبوك»، السبت: «لا مانع شرعًا من تحية العلم أو الوقوف للسلام الوطني؛ فكلاهما تعبير عن الحب لرمز الوطن وعلامته وشعاره، وهما من قبيل العادات، والأصل فيما كان من قبيل العادات أنه مباح، ما لم يرد دليل على المنع، فلا يذم من ذلك إلا ما ذمه الشرع بخصوصه»، وأوضحت أنه «لا يمكن القول بأن هذا من التعظيم المحرم؛ لأن التعظيم الممنوع هو ما كان على وجه عبادة المعظَّم»، وتابعت: «بل إنه لمَّا تواضع الناس وتعارفوا على كون ذلك دالًّا على احترام الوطن وتعبيرًا عن الانتماء ووسيلة لإظهار ذلك في الشأن الوطني والعلاقات بين الدول، صار مطلوبًا شرعًا».

0:00 0:00
Speed:
September 18, 2017

الأعلام التي صنعها الغرب وترمز لتبعيته لا يجوز احترامها ولا تحيّتها وتعظيمها يا دار الإفتاء!

الأعلام التي صنعها الغرب وترمز لتبعيته

لا يجوز احترامها ولا تحيّتها وتعظيمها يا دار الإفتاء!

الخبر:

نقلت بوابة الشروق السبت 2017/9/16م، عن دار الإفتاء المصرية إنه لا مانع شرعًا من تحية العلم أو الوقوف للسلام الوطني؛ لأن كليهما يعد تعبيرًا عن الحب لرمز الوطن وعلامته وشعاره، وأضافت «الإفتاء»، عبر صفحتها على موقع «فيسبوك»، السبت: «لا مانع شرعًا من تحية العلم أو الوقوف للسلام الوطني؛ فكلاهما تعبير عن الحب لرمز الوطن وعلامته وشعاره، وهما من قبيل العادات، والأصل فيما كان من قبيل العادات أنه مباح، ما لم يرد دليل على المنع، فلا يذم من ذلك إلا ما ذمه الشرع بخصوصه»، وأوضحت أنه «لا يمكن القول بأن هذا من التعظيم المحرم؛ لأن التعظيم الممنوع هو ما كان على وجه عبادة المعظَّم»، وتابعت: «بل إنه لمَّا تواضع الناس وتعارفوا على كون ذلك دالًّا على احترام الوطن وتعبيرًا عن الانتماء ووسيلة لإظهار ذلك في الشأن الوطني والعلاقات بين الدول، صار مطلوبًا شرعًا».

التعليق:

الأعلام التي ترفع في بلاد المسلمين الآن وضعها الغرب شأنها كشأن تلك الحدود التي خطها ورسمها سايكس وبيكو فقسمت بلادنا إلى دويلات مهترئة بعضها لا يغطي عورة نملة سموها أوطانا وجعلوا لها أعلاما وأناشيد وطنية لا تعبر في حقيقتها عن هوية الأمة ولا تنسجم مع فطرتها وعقيدتها.

إن هذه الأعلام والرايات التي أباحت دار الإفتاء تحيتها واحترامها وتعظيمها بل وجعلت منه مطلبا شرعيا، إنما تذكرنا بسقوط دولتنا وتقسيم بلادنا ولا يجوز تحيتها ولا احترامها فضلا عن تعظيمها لا من ناحية الوطنية ولا الشرعية، فالوطنية التي يتغنى بها البعض هي هذا الإطار الذي رسمه المستعمر وأسماه لنا وطنا وفرق فيه بيننا وبين أبناء أمتنا إخوة الدين والعقيدة وطلب منا أن يكون ولاؤنا وحبنا وبغضنا لهذه الرقعة وعلى أساسها، فاحترامنا لهذه الأعلام وتحيتها وتعظيمها إنما هو رسالة للغرب تظهر بقاءنا على التبعية بل وسعينا للتمسك بها وعدم الفكاك منها.

أما من الناحية الشرعية فهذه الرايات ليست سوى خرقٍ مهلهلة صنعها الاستعمار لا شرعية لها ولا قداسة، وراية المسلمين التي يجب أن تحترم هي الراية التي حملها رسول الله rوحملها أصحابه من بعده وهي راية سوداء مكتوب عليها بالأبيض لا إله إلا الله محمد رسول الله أو لواء أبيض مكتوب عليه بالأسود لا إله إلا الله محمد رسول الله «كانت رايته سوداء ولواؤه أبيض» (حديث ابن عباس رواه الترمذي) هذه رايتنا التي تعبر عن هويتنا وعقيدتنا والتي تستحق منا أن نرفعها ونحترمها ونحرص على بقائها عالية خفاقة، أما رايات الاستعمار فليس لها إلا أن تكون تحت أقدامنا أو في مزابل التاريخ مع من رسمها ووضعها موضع التقديس.

يا علماء مصر! إن هذه الأعلام التي تسوقون لها هي رمز الاستعمار والتبعية للغرب وتحيتها واحترامها وتعظيمها هو احترام للغرب وقبول لهيمنته على بلادنا ورضا عن نهبه لثرواتنا وخيراتنا ومقدراتنا وإعلان واضح أنه هو وحده صاحب السلطان في بلادنا وتخلٍّ واضحٌ عن الإسلام ورايته وأحكامه التي تفرض علينا أن لا يكون للغرب الكافر علينا سلطان ﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾ بل يجب الخلاص من سلطان الغرب وتبعيته بكل أشكالها وصورها وكل ما يعبر عنها، وهذا لن يتحقق إلا بالخلافة الراشدة على منهاج النبوة تقتلع الحدود وتمحو كل آثار الغرب الكافر من بلادنا وتعيد للأمة هويتها ورايتها التي تعبر عنها؛ راية العقاب راية رسول r التي وصمها الغرب بأنها راية (الإرهاب)، نعم فهو يرهبها أيما رهبة، فرفعها إيذان بزوال سلطانه من بلادنا وبداية لعصر عزنا ومجدنا.

أيها المسلمون في أرض الكنانة عامة وجند مصر خاصة! إن هذه الرايات التي يشرعن لكم حكامكم تعظيمها وتحيتها إنما هي رايات عدوكم، وتعظيمها يعني ولاءكم له ولأفكاره وبقاءكم تبعا له حرسا يرعى مصالحه في بلادنا، والقبول بتلك المهام إنما هو نوع من القوادة والدياثة نأباها لكم ونعلم أنها ليست فيكم فأنتم أحفاد عمرو بن العاص وصلاح الدين وقطز وأنتم درع الإسلام وجنده وحماته، والإسلام الآن يستصرخكم ويستنصركم، يبحث فيكم عن رجل رشيد يبايع الله ورسوله كبيعة أنصار الأمس وينصر إخوانكم شباب حزب التحرير العاملين فيكم لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة تنعتق بها رقابنا جميعا من ربقة التبعية للغرب وتزيل كل أثر له في بلادنا، فانصروا الله بنصرة العاملين المخلصين لإقامة دولته وعز دينه ينصركم ويثبت أقدامكم ويكون لكم النعيم المقيم والفوز العظيم في الدارين ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله، اللهم اجعله قريبا واجعلنا من شهوده وجنوده.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست