العالم خطير على المرأة (مترجم)
العالم خطير على المرأة (مترجم)

الخبر:   أصدرت مؤسسة طومسون رويترز نتائجها يوم الثلاثاء عن مسح لنحو 550 خبيراً حول قضايا المرأة، حيث وجدت أن الهند هي أخطر دولة للعنف الجنسي ضد النساء، فضلاً عن الاتجار بالبشر في العمل المنزلي، والعمل القسري، والزواج القسري والاستعباد الجنسي، والعديد من الأسباب الأخرى. كما أوضح المسح أيضا أنها أخطر بلد في العالم بالنسبة للتقاليد الثقافية التي تؤثر على النساء، مستشهدة بالهجمات الحمضية، وتشويه الأعضاء التناسلية للأنثى، وزواج الأطفال، والاعتداء الجسدي. وكانت الهند رابع أكثر الدول خطورة بالنسبة للنساء في الاستطلاع نفسه الذي أجري قبل سبع سنوات. ...

0:00 0:00
Speed:
July 01, 2018

العالم خطير على المرأة (مترجم)

العالم خطير على المرأة

(مترجم)

الخبر:

أصدرت مؤسسة طومسون رويترز نتائجها يوم الثلاثاء عن مسح لنحو 550 خبيراً حول قضايا المرأة، حيث وجدت أن الهند هي أخطر دولة للعنف الجنسي ضد النساء، فضلاً عن الاتجار بالبشر في العمل المنزلي، والعمل القسري، والزواج القسري والاستعباد الجنسي، والعديد من الأسباب الأخرى.

كما أوضح المسح أيضا أنها أخطر بلد في العالم بالنسبة للتقاليد الثقافية التي تؤثر على النساء، مستشهدة بالهجمات الحمضية، وتشويه الأعضاء التناسلية للأنثى، وزواج الأطفال، والاعتداء الجسدي. وكانت الهند رابع أكثر الدول خطورة بالنسبة للنساء في الاستطلاع نفسه الذي أجري قبل سبع سنوات.

وكانت تسعة من البلدان العشرة المدرجة في القائمة من آسيا أو الشرق الأوسط أو إفريقيا. وفي المرتبة العاشرة كانت أمريكا، وهي الدولة الغربية الوحيدة التي أدرجت. وقالت المؤسسة إن هذا الأمر له صلة مباشره بحركة أنا أيضا (مي تو).

التعليق:

تعاني المرأة اليوم في جميع أنحاء العالم جراء الممارسات الثقافية والممارسات الدينية ومن الأيديولوجية الرأسمالية العلمانية المهيمنة.

ويمكن مناقشة قوة الدراسات الاستقصائية واستطلاعات الرأي ولكن من الواضح أن حالة المرأة في العديد من الأماكن مزرية.

والمرأة، مثلها مثل جميع الناس، بحاجه إلى الأمن، والحق في التعليم والصحة، وما إلى ذلك. هذه كلها حقوق أساسية. ومع ظهور أمريكا في المراتب العشرة الأوائل بسبب تأثير برنامج (مي تو) عليها والتي هي أيضا علامة واضحة على أنه بعد اتباع النموذج الغربي لتمكين المرأة وعدم إحراز أي تقدم. الهند ديمقراطية وتؤكد أنها رائده في شبه القارة من حيث اقتصادها، وعلى الرغم من ذلك، فإن لدى الهند سجلا حافلاً عندما يتعلق الأمر بمعاملة النساء.

وذكرت المؤسسة أن "زعماء العالم تعهدوا قبل ثلاث سنوات بالقضاء على جميع أشكال العنف والتمييز ضد النساء والفتيات بحلول عام 2030، والسماح لهن بالعيش بحرية وأمان للمشاركة على قدم المساواة في الحياة السياسية والاقتصادية العامة. ولكن على الرغم من هذا التعهد، تشير التقديرات إلى أن واحدة من كل ثلاث نساء تتعرض للعنف الجسدي أو الجنسي خلال حياتها، وبالتالي يتعين على العالم أن يستيقظ ويدرك أن وضع المرأة لن يتحسن ما لم يتم إزالة النظام العلماني الحالي بالكامل. ولا معنى لتعهدات القادة عندما لا تتغير الآراء والممارسات العامة. وحيثما تكون الممارسات خاطئة، هناك حاجة ملزمة إلى أفكار وقوانين جماعية لإحداث التغيير.

وفي البلدان التي حققت المراكز العشرة الأولى والتي تشمل البلاد الإسلامية، توجد مجموعة معينة من الظروف التي أدت إلى إساءة معاملة المرأة. ويمكن أن يكون هذا هو الرأي العام للمرأة، وهي من صنع الأفلام التي جعلت النساء في سينما (بوليوود وهوليوود) تستخدم في حالات الحرب الاغتصاب كسلاح، والممارسات الثقافية التي ليس لها أي أساس إسلامي ولكن يتم الاحتفاظ بها وهلم جرا. وقد يبدو من المستحيل تقريبا إجراء ما يكفي من التغيير للتأثير على عدد كبير في وقت واحد.

وها نحن نشهد الاحتفالات سنة تلو الأخرى بحقوق المرأة في ظل الرأسمالية، وفي الوقت ذاته نرى أيضا أعداداً ضخمة عندما ننظر إلى الاستغلال وسوء المعاملة، من ناحية القوانين المتعلقة بالمساواة في الأجر، والحق في التصويت... الخ. ولكن في الوقت نفسه على المستوى العالمي، لا تزال المرأة تعامل بطريقة مهينة وتضطر إلى عيش حياة مليئة بضغوطات مستمرة تمنعها من العيش بكرامة. وهذا صحيح في كل من الشرق - مع العديد من الممارسات والأفكار المتخلفة - وحتى في ما يسمى بالغرب المتقدم والتعرض للمضايقات والإزعاج في أماكن العمل، هناك عدد قليل من القوانين ليس كافياً، لكن هناك حاجة لإعادة التفكير الجذري في كيفية عيشنا والأفكار السائدة حولنا.

لقد جاء الإسلام في الماضي كقوة أوقفت ممارسات عدة مثل وأد الإناث، والعلاقات الزوجية التي تستغل فيها المرأة، والضغوط المجتمعية التي تميز ضد المرأة. وفي البداية تم التشكيك في هذه الممارسات ووضعت موضوع التساؤل في القرآن الكريم، مما شكل رأيا سلبيا بشأنها.

خلال حياة رسول الله r، أظهر في سنته الخاصة كيفية إزالة الحواجز التي تواجه النساء، وعلى سبيل المثال: تزوج من زوجة ابنه بالتبني الذي كان شيئا لا يمكن تصوره من قبل. وأيضا، جاءت الأحكام الإسلامية لمساعدة النساء في مسائل الميراث والزواج والطلاق والقذف والكثير بعد تأسيس الدولة الإسلامية في المدينة، وضمان الحماية القانونية للمرأة.

وقد تم تطبيق المفهوم العام للمرأة كونها عرضاً يجب أن يصان في زمن الخلافة مع الحدث المشهور للخليفة المعتصم الذي أرسل جيشًا كاملاً لتلبية استغاثة امرأة تعرضت للاحتيال. علاوة على ذلك، يرى المجتمع الإسلامي أن المرأة جزء من المجتمع ولا يمكن استغلالها، ولكن عليها مسؤولية المشاركة في جميع الجوانب العملية للحياة كما ذكرها الشرع، على سبيل المثال. يمكنها محاسبة الحاكم، ويمكنها أن تنتخب وتدلي بصوتها، وأن تكون قاضية، ويمكنها أيضاً أن تستثمر أموالها الخاصة.

اليوم فإن الشكل العلماني للحكم يجعل العالم خطرا على النساء. وهذا الفصل بين أحكام الله في الحياة، حتى في البلدان الإسلامية، هو الخطر الذي نحتاج لإزالته وأن نستبدل به النموذج العادل للحكم الذي يكفل قدسية الحياة والشرف والمال لكل من النساء والرجال. فقط عندما تكون المحاسبة أمام الخالق أساسًا لنظامنا وقوانيننا، سنجد أنه يمكن القضاء على الاستغلال وسوء المعاملة حيثما وجدت، والتعامل معها من خلال قوانين ثابتة لا يمكن تحريفها أو تغييرها.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نادية رحمان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست