الاعتداء على خديجة هو نتاج السياسة الديمقراطية
الاعتداء على خديجة هو نتاج السياسة الديمقراطية

في الخامس من تشرين الأول/أكتوبر 2016، تعرضت الطالبة خديجة أكتر نرجس للطعن بوحشية وفي وضح النهار أمام العامة في كلية سلهيت النسوية الحكومية وذلك على يد أحد كبار نشطاء الحزب الحاكم المدعو بدرول آلام، وهو قيادي كبير وطالب في اتحاد بنغلادش تشارتا في جامعة شاه جلال للعلوم والتكنولوجيا (SUST).

0:00 0:00
Speed:
October 22, 2016

الاعتداء على خديجة هو نتاج السياسة الديمقراطية

الاعتداء على خديجة هو نتاج السياسة الديمقراطية

(مترجم)

الخبر:

في الخامس من تشرين الأول/أكتوبر 2016، تعرضت الطالبة خديجة أكتر نرجس للطعن بوحشية وفي وضح النهار أمام العامة في كلية سلهيت النسوية الحكومية وذلك على يد أحد كبار نشطاء الحزب الحاكم المدعو بدرول آلام، وهو قيادي كبير وطالب في اتحاد بنغلادش تشارتا في جامعة شاه جلال للعلوم والتكنولوجيا (SUST). أنين خديجة وهي تتلقى طعنات عشوائية بالمناجل أثارت قلقا محليا وذلك بعد أن انتشر الفيديو الوحشي على وسائل التواصل الإلكتروني. وقد أعرب مختلف مكونات المجتمع ومفكرون عن قلقهم الشديد إزاء هذا الحادث الوحشي وألقوا باللوم على الانحلال الأخلاقي والثقافي في بنغلادش.

التعليق:

حادثة الطعن المأساوية المرعبة لخديجة على يد بدرول "الابن الذهبي" للشيخة حسينة ودور المتفرج السلبي الذي صدر عن معظم الشباب الذين جرت واقعة الطعن أمامهم أحدثت جدلا كبيرا بين المثقفين والمؤسسات العلمانية. معظم المفكرين هم في الواقع يدورون ما حول الأجمة في محاولة للتصدي لجوهر المشكلة. وليست النقاشات من العيار الثقيل في البرامج الحوارية والموائد المستديرة وافتتاحيات الصحف إلا حشواً لا طائل منه، وما تحليلاتهم وحججهم في الحقيقة إلا "طُعم أحمر" يريدون به صرف أنظار الناس عن السبب الجذري للعنف المتزايد في مجتمعنا.

إن إلقاء اللوم على الانحلال الأخلاقي للشباب لا يمكن أن يكون سببا في ارتفاع معدلات العنف، وإنما هو عرَض من أعراض مرض أعمق من ذلك بكثير. وإذا ما نظرنا عميقا في قضايا العنف الوبائي التي تحصل في الآونة الأخيرة، وحللنا جميع العوامل بشكل شمولي فإننا سنصل إلى أن الديمقراطية العلمانية هي المشكلة الرئيسية القاتلة المميتة بالنسبة لأمتنا. فبسبب تفوق الفكر العلماني في مجتمعاتنا وذلك من خلال الإمبريالية الغربية الفاسدة، فإن البنيان الأخلاقي للمجتمع ينهار بسرعة وأصبحت القيم الإنسانية الطبيعية كالجرأة في الحق أمرا معرِّضا للخطر كون الجميع يسعى وراء مصالحه الذاتية. إن التعرض وبشكل مستمر للقيم التي وضعها الإنسان خدمة لمصالحه الذاتية الجوفاء في جوهرها والخالية من أية مبادئ توجيهية، حولت الناس وعلى نحو متزايد إلى نرجسيين في ظل الديمقراطية الرأسمالية، ناهيك عن تفكيرهم في حماية الآخرين. و"تأثر المارة" الذي لاحظناه في فعل زملاء خديجة في الكلية يجب أن يُبحث ضمن هذا الإطار.

وعلاوة على ذلك فإن النظام الديمقراطي لم يوضع لإزالة الظلم من المجتمع، بل ليكون ضامنا للتعايش المتزامن بين الخير والشر. وفي هذه العملية، يضمحل الخير ويهيمن الشر في نهاية المطاف في المجتمع. وها نحن نرى كيف أن النخبة من أصحاب المال والقوة هم أصحاب النفوذ وبأن هذه الطبقة محمية دوما من قبل النظام. وللبقاء في السلطة، فإن هذه الطبقة تدعم المجرمين ورجال العصابات أمثال بدرول، وشاميم أوسمان، ونظام هزاري... وغيرهم، وبهذه الطريقة تجعل قيادة حسينة - خالدة السياسية من النظام نظاما مجرما لتحافظ على بقائها في السلطة. ومن المعروف بأن البلطجية المحلية تنتسب إلى الأحزاب السياسية من أجل البقاء. فالسياسيون يفرخون ويمولون ويرعون هؤلاء لضمان بقاء هيمنتهم. وعلى سبيل المثال، تعرض بدرول للضرب ذات مرة على يد غوغاء وذلك لتعرضه لخديجة نرجس ومضايقتها وقامت القيادة المحلية في حينها بزيارته في المستشفى. كما قامت الشيخة حسينة بمنحه 2 لاك تاكا بنجلاديشي نفقات تلقيه العلاج.

ولأن النظام لا يسعى للقضاء على الظلم ولا يشجع الناس على الوقوف في وجه الظلم، فقد اعتاد الناس على العيش مع هذا الواقع الفاسد وأصبحت اللامبالاة سمة لهم. وعوضا عن ذلك، فقد أصبح إنكار المنكر في المجتمع الديمقراطي جريمة. فعلى سبيل المثال لا يسمح للمسلم التورط في معاملات ربوية لأن الله تعالى حرم الفائدة والربا، ولكن المسلم المخلص ممنوع من رفع صوته ضد هذا المنكر. وقد يكون جار المسلم التقي زانيا لكن المسلم الورع ممنوع من نصحه فما يفعله حرية شخصية! هذا النوع من النصيحة يعد لا ديمقراطياً وقد تعاقب الدولة رجلا تقيا على مثل هكذا فعل. وفي مثل هكذا دولة ترعى الظلم فإن ما يسمى بالقيم الأخلاقية في المجتمع الديمقراطي تضمحل وتتلاشى بمعدل سريع هائل ويتحول الناس إلى جبناء أنانيين في نهاية المطاف.

وبعد هذا الفشل المستمر للأنظمة الوضعية كلها، يعود النقاش إلى السطح من جديد على أن النظام الإسلامي هو الذي يضمن العدالة في المجتمع وذلك لأن سياسته تقوم على أساس الخوف من الله تعالى. وبتطبيق أحكام الشريعة، يحمي نظام الإسلام مكانة الإنسان بغض النظر عن دينه وعرقه. وعلاوة على ذلك فإن النظام الإسلامي يجبر رعاياه على عدم اتباع شهواتهم وأهوائهم، وفي المقابل يدعوهم إلى الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر. وبذلك لم نر ولا حادثة واحدة يُعتدى فيها على امرأة في وضح النهار على مرأى ومسمع من الناس حولها على مدى 1400 عام من تاريخ الدولة الإسلامية، يقول الله تعالى في القرآن الكريم: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شيراز الإسلام

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلاديش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست